دین اور شریعت
فقہ
قران اور حدیث کے احکام پر غور کرکے بعض بزرگان دین نے عام لوگوں کی آسانی کے لیے مفصل قوانین مرتب کردیے ہیں جن کو “فقہ” کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ چونکہ ہر شخص قرآن کی باریکیوں کو نہیں سمجھ سکتا، نہ ہر شخص کے پاس حدیث کاایسا علم ہے کہ وہ خود شریعت کے احکام معلوم کرسکے۔ اس لیے بزرگان دین نے برسوں کی محنت اور غور و تحقیق کے بعد “فقہ” کو مرتب کیا ہے ان کے بار احسان سے دنیا کے مسلمان کبھی سبکدوش نہیں ہوسکتے۔ یہ انہی کی محنتوں کا نتیجہ ہے کہ آج کروڑوں مسلمان بغیر کسی زحمت کے شریعت کی پیروی کررہے ہیں۔ اور کسی کو خدا اور رسول کے احکام معلوم کرنے میں دقت نہیں پیش آتی۔
ابتداء میں بہت سے بزرگوں نے فقہ کو اپنے اپنے طریقہ پر مرتب کیا تھا، مگر رفتہ رفتہ چار فقہیں دنیا میں باقی رہ گئيں۔ اور آج دنیا میں مسلمان زیادہ تر انہی کی پیروی کرتے ہیں۔
1. امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی فقہ، جس کی ترتیب میں امام ابویوسف اور امام محمد اور امام زُفر اور ایسے ہی چند اور بڑے علماء کا مشوررہ شامل تھا، اسے فقہ حنفی کہا جاتا ہے۔
2. امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی فقہ۔ یہ فقہ مالکی کے نام سے مشہور ہے۔
3. امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی فقہ۔ یہ فقہ شافعی کہلاتی ہے۔
4. امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی فقہ۔ اس کو فقہ حنبلی کہتے ہیں۔
یہ چاروں فقہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دو سو برس اندر اندر مرتب ہوگئی تھیں۔ان میں جو اختلاف پائے جاتے ہیں وہ بالکل قدرتی اختلافات ہیں۔ چند آدمی جب کسی معاملہ کی تحقیق کرتے ہیں ، یا کسی بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کی تحقیق اور سمجھ میں تھوڑا بہت اختلاف ضرور ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ سب حق پسند اور نیک نیت اور مسلمانوں کے خیر خواہ بزرگ تھے اس لیے تمام مسلمان ان چاروں فقہوں کو برحق مانتے ہیں۔
البتہ یہ ظاہر ہے کہ ایک معاملہ میں ایک ہی طریقہ کی پیروی کی جاسکتی ہے، چار مختلف طریقوں کی پیروی نہیں کی جاسکتی۔ اس لیے اکثر علماء یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو ان چاروں میں سے کسی ایک کی پیروی کرنی چاہیے، ان کے علماء کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جو یہ کہتا ہے کہ کسی خاص فقہ کی پیروی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ علم رکھنے والے آدمی کو براہ راست قرآن اور حدیث سے احکام معلوم کرنے چاہئیں۔ اور جو لوگ علم نہ رکھتے ہوں انھیں چاہییے کہ جس عالم پر بھی ان کا اطمینان ہو اس کی پیروی کریں۔یہ لوگ اہلِ حدیث کہلاتے ہیں اور اوپر کے چار گروہوں کی طرح یہ بھی حق پر ہیں۔