دین اور شریعت
شریعت کے احکام
اس آخری باب میں ہم شریعت کے اصول اور خاص خاص احکام بیان کریں گے جن سے تم کو معلوم ہوگا کہ اسلامی شریعت انسان کی زندگی کو کس طرح ایک بہترین ضابطہ کا پابند بناتی ہے۔ اور اس ضابطہ میں کیسی کیسی حکمتیں رکھی گئی ہیں۔
شریعت کے اصول
تم اپنی حالت پر غور کروگے تو تم کو معلوم ہوگا کہ دنیا میں بہت سی قوتیں لے کر آئے ہو اور ہر قوت کا تقاضا یہ ہے کہ اس سے کام لیا جائے، تم میں عقل ہے، ارادہ ہے، خواہش ہے، بینائی ہے، سماعت ہے، ذائقہ ہے، ہاتھ پاؤں کی طاقت ہے، نفرت اور غضت ہے، شوق اور محبت ہے، خوف اور لالچ ہے۔ ان میں سے کوئی چیز بھی بیکار نہیں۔ ہر چیز تم کو اس لیے دی گئی ہے کہ تم کو اس کی ضرورت ہے۔ دنیا میں تمہاری زندگی اور زندگی کی کامیابی اسی پر موقوف ہے کہ تمہاری طبیعت اور فطرت جو کچھ مانگتی ہے اس کو پورا کرو۔ اور یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب کہ تم ان تمام قوتوں سے کام لو جو خدا نے تم کو دی ہیں۔
پھر تم دیکھوگے کہ جتنی قوتیں تمہارے اندر رکھی گئی ہیں ان سب سے کام لینے کے ذرائع بھی تم کو دئے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو خود تمہارا اپنا جسم ہے جس میں تمام ضروری آلات موجود ہیں۔ اس کے بعد تمہارے گردوپیش کی دنیا ہے جس میں ہر طرح کے بے شمار ذرائع پھیلے ہوئے ہیں، تمہاری مدد کےلیے خود تمہاری اپنی جنس کے انسان موجود ہیں۔ تمہاری خدمت کےلیے جانور ہیں، نباتات اور جمادات ہیں، زمین اور پانی اور ہوا اور حرارت اور روشنی اور ایسی ہی بے حد وحساب چیزیں ہیں، خدا نے ان سب کو اسی لیے پیدا کیا ہے کہ تم ان سے کام لو اور زندگی بسر کرنے میں ان سے مدد حاصل کرو۔
اب ایک دوسری حیثیت سے دیکھو! تم کو جو قوتیں دی گئی ہیں وہ فائدے کے لیے دی گئی ہیں، نقصان کے لیے نہیں دی گئیں۔ ان کے استعمال کی صحیح صورت وہی ہوسکتی ہے جس سے صرف فائدہ ہو اور نقصان یا تو بالکل نہ ہو یا اگر ہو بھی تو کم سے کم جو ناگزیر ہے۔ اس کے سوا جتنی صورتیں ہیں عقل کہتی ہے کہ وہ سب غلط ہونی چاہیئں۔ مثلاً اگر تم کوئی کام ایسا کرو جس سے خود تو کو نقصان پہنچے تو یہ بھی غلطی ہوگی۔ اگر تم کسی قوت سے ایسا کام کرو جس سے دوسرے انسانوں کو نقصان پہنچے تو یہ بھی غلطی ہوگی۔ اگر تم کسی قوت کو اس طرح استعمال کرو جو وسائل تمہیں دیے گئے ہیں وہ فضول ضائع ہوں تو یہ بھی غلطی ہوگی۔ تمہاری عقل خود اس بات کی گواہی دے سکتی ہے کہ نقصان خواہ کسی قسم کا ہو بچنے کے لائق چیز ہے۔ اور اس کو اگر گوارا کیا جاسکتا ہے تو صرف اسی صورت میں جب کہ اس سے بچنا یا تو ممکن ہی نہ ہو یا اس کے مقابلے میں کوئی بہت بڑا فائدہ ہو۔
اس کے بعد اور آگے بڑھو۔ دنیا میں دو قسم کے انسان پائے جاتے ہیں۔ ایک تو وہ جو قصداً اپنی بعض قوتوں کو اس طرح استعمال کرتے ہیں جن سے یا تو خود انہی کی بعض دوسری قوتوں کو نقصان پہنچ جاتا ہے یا دوسرے انسانوں کو پہنچتا ہے یا ان کے ہاتھوں وہ چیزیں فضول ضائع ہوتی ہیں جو محض فائدہ اٹھانے کے لیے ان کو دی گئی ہیں، نہ کو ضائع کرنے کے لیے۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو قصداً تو ایسا نہیں کرتے مگر ناواقفیت کی وجہ سے ایسی غلطیاں ان سے ہوجاتی ہیں۔ پہلی قسم کے لوگ شریر ہیں اور ان کے لیے ایسے قانون اور ضابطہ کی ضرورت ہے جو ان کو قابو میں رکھے۔ اور دوسری قسم کے لوگ ناواقف ہیں اور ان کے لیے ایسے علم کی ضرورت ہے جس سے انہیں اپنی موتوں کے استعمال کی صحیح صورت معلوم ہوجائے۔
خدا نے جو شریعت اپنے پیغمبر کے پاس بھیجی ہے۔ وہ اسی ضرورت کو پورا کرتی ہے، وہ تمہاری کسی قوت کو ضائع کرنا نہیں چاہتی، نہ کسی خواہش کو مٹانا چاہتی ہے، نہ کسی جذبہ کو فنا کرنا چاہتی ہے وہ تم سے یہ نہیں کہتی کہ دنیا کو چھوڑدو۔جنگلوں اور پہاڑوں میں جارہو، بھوکے مرو، اور ننگے پھرو، نفس کشی کرکے اپنے آپ کو تکلیفوں میں ڈالو اور دنیا کی راحت و آسائش کو اپنے اوپر حرام کرلو، ہر گز نہیں۔ یہ خدا کی بنائی ہوئی شریعت ہے۔اور خدا وہی ہے جس نے یہ دنیا انسان کے لیے بنائی ہے۔ وہ اپنے اس کارخانے کو مٹانا اور بے رونق کرنا کیسے پسند کرے گا۔اس نے انسان کے اندر کوئی قوت بے کار و بے ضرورت نہیں رکھی ہے، نہ زمین و آسمان میں کوئی چیز اس لیے پیدا کی ہے کہ اس سے کوئی کام نہ لیا جائے۔ وہ تو خود یہ چاہتا ہے کہ دنیا کا یہ کارخانہ پوری رونق کےساتھ چلے۔ ہر قوت سے انسان پورا پورا کا م لے، دنیا کی ہر چیز سے فائدہ اٹھائے اور ان تمام ذرائع کو استعمال کرے جو زمین و آسمان میں مہیا کیے گئے ہیں۔ مگر اس طرح کہ جہالت یا شرارت سے نہ خود اپنا نقصان کرے نہ دوسروں کو نقصان پہنچائے۔ خدا نے شریعت کے تمام ضابطے اسی غرض کے لیے بنائے ہیں۔ جتنی چیزیں انسان کے لیے نقصان دہ ہیں، ان سب کو شریعت میں حرام کردیا گیا ہے اور جو چیزیں مفید ہیں ان کو حلال قرار دیا گیا ہے، جن کاموں سے انسان خود اپنا یا دوسروں کا نقصان کرتا ہے ان کو شریعت ممنوع ٹھہراتی ہے اور ایسے کاموں کی اجازت دیتی ہے جو اس کے لیے فائدہ مند ہوں اور کسی کے لیے نقصان دہ نہ ہوں۔ اس کے تمام قوانین اس اصول پر مبنی ہیں کہ انسان کو دنیا میں تمام خواہشیں اور ضرورتیں پوری کرنے اور اپنے فائدے کےلیے ہر قسم کی کوشش کرنے کا حق ہے۔ مگر اس حق سے اس کو اس طرح فائدہ اٹھانا چاہیے کہ جہالت اور شرارت سے وہ دوسروں کی حق تلفی نہ کرے، بلکہ جہاں تک ممکن ہو دوسروں کے لیے معاون اور مدد گار ہو۔ پھر جن کاموں میں ایک پہلو فائدے کا اور دوسرا پہلو نقصان کا ہو، ان میں شریعت کا اصول یہ ہے کہ بڑے فائدے کے لیے چھوٹے نقصان کو قبول کیا جائے اور بڑے نقصان سے بچنے کے لیے چھوٹے فائدے کو چھوڑدیا جائے۔
چونکہ ہر شخص ہر زمانے میں ہر چیز اور ہر کام کے متعلق یہ نہیں جانتا کہ اس میں کیا فائدہ اور کیا نقصان ہے۔ اس لیے خدا نے جس کے علم سے کائنات کا کوئی راز چھپا ہوا نہیں ہے، انسان کی پوری زندگی کے لیے ایک ہی صحیح ضابطہ بنادیا ہے۔ اس ضابطہ کی بہت سی مصلحتیں اب سے صدیوں پہلے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی تھی، مگر اب علم کی ترقی نے ان پر سے پردہ اٹھادیا ہے، بہت سی مصلحتوں کو اب بھی لوگ نہیں سمجھتے، مگر جتنا علم ترقی کرے گا وہ ظاہر ہوتی چلی جائیں گی۔ جو لوگ خود اپنے ناقص علم اور اپنی ناقص عقل پر بھروسہ رکھتے ہیں وہ صدیوں تک علطیاں کرنے اور ٹھوکریں کھانے کے بعد آخر کار اسی شریعت کے کسی نہ کسی قائدے کو اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ مگر جن لوگوں نے خدا کے رسول پر بھروسا کیا ہے وہ جہالت اور ناواقفیت کے نقصانات سے محفوظ ہیں، کیوں کہ ان کو خواہ مصلحتوں کاعلم ہو یا نہ ہو وہ ہر حال میں محض رسول خدا کے اعتماد پر ایک ایسے قانون کی پابندی کرتے ہیں جو خالص اور صحیح علم کے مطابق بنایا گیا ہے۔