دین اور شریعت
نفس کے حقوق
اب دوسری قسم کے حقوق کو لو، یعنی انسان پر حود اس کے اپنے نفس اور جسم کے حقوق۔
شاید تم کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ انسان سب سے بڑھ کر خود اپنے اوپر ظلم کرتا ہے۔ یہ واقعی حیرت انگیز ہے بھی۔ کیونکہ ظاہر میں تو ہر شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کو سب سے زیادہ اپنے آپ سے محبت ہے۔ اور شاید کوئی شخص بھی اس بات کا اقرار نہ کرے گا کہ وہ اپنا آپ ہی دشمن ہے۔ لیکن تم ذرا غور کروگے تو اس کی حقیقت تم کو معلوم ہوجائے گی۔
انسان میں ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس پر جب کوئی خواہش غالب ہوجاتی ہے تو وہ اس کا غلام بن جاتا ہے اور اس کی خاطر جان بوجھ کر ، یا بے جانے بوجھے اپنا بہت کچھ نقصان کرلیتا ہے۔ تم دیکھتے ہو کہ ایک شخص کو نشہ کی چاٹ لگ گئی ہے تو وہ اس کے پیچھے دیوانہ ہورہا ہے اور صحت کا نقصان، روپے کا نقصان، عزت کا نقصان، غرض ہر چیز کا نقصان گوارا کئے جاتا ہے۔ایک دوسرا شخص کھانے کا ایسا دلدادہ ہے کہ ہر قسم کی الا بلا کھا جاتا ہے اور اپنی جان کو ہلاک کئے ڈالتا ہے۔ ایک تیسرا شخص شہوانی خواہشات کا بندہ بن گیا ہے اور ایسی حرکتیں کررہا ہے جن کا لازمی نتیجہ اس کی تباہی ہے۔ ایک چوتھے شخص کو روحانی ترقی کی دھن سماتی ہے تو وہ اپنی جان کے پیچھے ہاتھ دھو کر پر پڑگیا ہے۔ اپنے نفس کی تمام خواہشات کو دبا رہا ہے۔ اپنے جسم کی ضروریات کو پورا کرنے سے انکار کررہا ہے۔شادی سے بچتا ہے، کھانے پینے سے پرہیز کرتا ہے، کپڑے پہننے سے انکار کرتا ہے، حتی کہ سانس لینے پر بھی راضی نہیں۔ جنگلوں اور پہاڑوں میں جا بیٹھتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ دنیا اس کے لیے بنائی ہی نہیں گئی ہے۔
ہم نے مثال کے طور پر انسان کی انتہا پسندی کے یہ چند نمونے پیش کئے ہیں، ورنہ اس کی بے شمار صورتیں ہیں جن کو ہم رات دن اپنے گرد و پیش دیکھ رہے ہیں۔
اسلامی شریعت چونکہ انسان کی فلاح و بہبود چاہتی ہے اس لیے وہ اس کو خبردار کرتی ہے کہ لنفسک علیک حق (تیرے اوپر خود تیرے اپنے بھی حقوق ہیں۔)
وہ ان تمام چیزوں سے اس کو روکتی ہے جو اس کو نقصان پہنچانے والی ہیں۔ مثلاً شراب، تاڑی، افیون اور دوسری نشہ آور چیزیں، سور کا گوشت، درندے اور زہریلے جانور، ناپاک حیوانات، خون اور مردار جانور وغیرہ۔کیونکہ انسان کی صحت اور اخلاق اور عقلی و روحانی قوتوں پر ان چیزوں کا بہت برا اثر ہوتا ہے۔ ان کے مقابلہ میں وہ پاک اور مفید چیزوں کو اس کے لیے حلال کرتی ہے اور اس سے کہتی ہے کہ تو اپنے جسم کو پاک غذاؤں سے محروم نہ کر کیونکہ تیرے جسم کا تیرے اوپر حق ہے۔
وہ اس کو ننگا کرنے سے روکتی ہے اور اسے حکم دیتی ہے کہ خدا نے تیرے جسم کو لیے جو زینت(لباس) اتاری ہے اس سے فائدہ اٹھا، اور اپنے جسم کو ان حصوں کو ڈھانک رکھ جنھیں کھولنا بے شرمی ہے۔
وہ اس کو روزی کمانے کا حکم دیتی ہے اور اس سے کہتی ہے کہ بیکار نہ بیٹھ، بھیک نہ مانگ، بھوکا نہ مر، خدا نے جو قوتیں تجھے دی ہیں ان سے کام لے اور جس قدر ذرائع زمین و آسمان میں تیری پرورش اور آسائش کےلیے پیدا کیے گئے ہیں ان کو جائز طریقوں سے حاصل کر۔
وہ اس کو نفسانی خواہشات کے دبانے سے روکتی ہے اور اسے حکم دیتی ہے کہ اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے نکاح کر۔
وہ اس کو نفس کشی سے منع کرتی ہے اور اس سے کہتی ہے کہ تو آرام و آسائش اور زندگی کے لطف کو اپنے اوپر حرام نہ کرلے ۔ اگر روحانی ترقی اور خدا سے قربت اور آخرت کی نجات چاہتا ہے تو اس کے لیے دنیا چھوڑنے کی ضرورت نہیں۔ اسی دنیا میں پوری اور پکی دنیاداری کرتے ہوئے خدا کو یاد کرنا اور اس کی نافرمانی سے ڈرنا اور اس کے بنائے ہوئے قوانین کی پیروی کرنا دنیا و آخرت کی تمام کامیابیوں کا ذریعہ ہے۔
وہ خودکشی کو حرام کرتی ہے اور اس سے کہتی ہے کہ تیری جان دراصل خدا کی ملک ہے اور یہ امانت تجھے اس لیے دی گئی ہے کہ تو خدا کی مقرر کی ہوئی مدت تک اس سے کام لے، نہ اس لیے کہ اس کو ضائع کردے۔