دین اور شریعت
تمام مخلوقات کے حقوق
خدا نے اپنی بے شمار مخلوق پر انسان کو اختیارات عطا کئے ہیں، انسان اپنی قوت سے ان کو تابع کرتا ہے، ان سے کام لیتا ہے، ان سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ بالاتر مخلوق ہونے کی حیثیت سے اس کو ایسا کرنے کا پورا حق حاصل ہے، مگر اس کے مقابلہ میں ان چیزوں کے حقوق بھی انسان پر ہیں، اور وہ حقوق یہ ہیں کہ انسان ان کو فضول ضائع نہ کرے، ان کو
بلاضرورت نقصان یا تکلیف نہ پہنچائے، اپنے فائدے کے لیے ان کو کم سے کم اور اتنا ہی نقصان پہنچائے جو ضروری ہو۔ اور ان کو استعمال کرنے کے لیے بہتر سے بہتر طریقے اختیار کرے۔
شریعت میں اس کے متعلق بکثرت احکام بیان ہوئے ہیں۔ مثلاً جانوروں کو صرف ان کے نقصان سے بچنے کے لیے یا غذا کے لیے ہلاک کرنے کی اجازت دی گئی ہے، مگر بلا ضرورت کھیل اور تفریح کے لیے ان کی جان لینے سے روکا گیا ہے۔کھانے کے جانوروں کو ہلاک کرنے کے لیے ذبح کا طریقہ مقرر کیا گیا ہےجو حیوان سے مفید گوشت حاصل کرنے کا سب سے زیادہ بہتر طریقہ ہے۔ اس کے سوا جو طریقے ہیں، وہ اگر کم تکلیف دہ ہیں تو گوشت کے بہت سے فائدے ان میں ضائع ہوجاتے ہیں۔ اور اگر گوشت کے فائدے محفوظ رکھنے والے ہیں تو ذبح کے طریقے سے زیادہ تکلیف دہ ہیں۔ اسلام ان دونوں پہلوؤں سے بچنا چاہتا ہے۔ اسلام میں جانوروں کو تکلیف دے دے کر بے رحمی کے ساتھ مارنا سخت مکروہ ہے۔ وہ زہریلے جانوروں اور درندوں کو صرف اس لیے مارنے کی اجازت دیتا ہے کہ انسانی جان ان کی جان سے زیادہ قیمتی ہے۔ مگر ان کو بھی عذاب دے کر مارنا جائز نہیں رکھتا۔ جو حیوانات سواری اور باربرداری کے کام آتے ہیں ، ان کو بھوکا رکھنے اور ان سے سخت مشقت لینے اور ان کو بے رحمی کے ساتھ مارنے پیٹنے سے منع کرتا ہے۔ پرندوں کو خواہ مخواہ قید کرنا بھی مکروہ قرار دیتا ہے۔ جانور تو جانور، اسلام تو اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ درختوں کو بے فائدہ نقصان پہنچایا جائے۔ تم ان کے پھل پھول توڑ سکتے ہو، مگر انہیں خواہ مخواہ برباد کرنے کا تمہیں کوئی حق نہیں۔ نباتات تو پھر بھی جان رکھتے ہیں اسلام کسی بے جاں چیز کو بھی فضول ضائع کرنا جائز نہیں رکھتا، حتی کہ پانی کو بھی خواہ مخواہ بہانے سے منع کرتا ہے۔