نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کی سختیاں، بھوک اور پیاس برداشت کرنا

حضرت عثمان بن مظعون ؓ کا سختیاں برداشت کرنا

حضرت عثمان ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عثمان بن مظعون ؓ نے دیکھا کہ حضور ﷺ کے صحابہ تو تکلیفیں اٹھا رہے ہیں اور وہ خود ولید بن مغیرہ کے اَمان میں آرام سے رہ رہے ہیں، تو انھوں نے (اپنے دل میں) کہاکہ اللہ کی قسم! میں تو ایک مشرک آدمی کی پناہ میں آرام سے رہوں، اور میرے ساتھی اور میرے دین والے وہ تکلیف اور اَذیت اٹھاتے رہیں جو میں نہیں اٹھا ر ہا ہوں، یہ تو میری بہت بڑی کمی ہے۔ چناںچہ وہ ولید بن مغیرہ کے پاس گئے اور اس سے کہا: اے ابو عبدِ شمس! تم نے اپنی ذمہ داری پوری کر دکھائی، میں تمہاری پناہ تم کو واپس کرتا ہوں۔ اس نے کہا: اے میرے بھتیجے! کیوں؟ شاید میری قوم کے کسی آدمی نے تم کو کوئی تکلیف پہنچائی ہے۔ حضرت عثمان نے کہا: نہیں، لیکن میں اللہ عزّوجل کی پناہ پر راضی ہوں، اور اس کے علاوہ کسی اور سے پناہ لینا نہیں چاہتا ہوں۔ ولید نے کہا: تم مسجد چلو اور وہاں سب کے سامنے میری پناہ علی الاعلان واپس کرو جیسے کہ میں نے تم کو سب کے سامنے علی الاعلان اپنی پناہ میں لیا تھا۔ چناںچہ وہاں سے نکل کر دونوں مسجدِ (حرام) گئے۔ وہاں لوگوں سے ولید نے کہا: یہ عثمان ہیں، میری پناہ مجھے واپس کرنے آئے ہیں۔ پھر حضرت عثمان نے لوگوں سے کہا: یہ سچ کہہ رہے ہیں، میں نے اُن کو انتہائی وفادار اور اچھا پناہ دینے والا پایا ہے، لیکن اب میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ اور کسی کی پناہ نہ لوں، اس لیے میں نے ان کی پناہ ان کو واپس کر دی ہے۔ پھر حضرت عثمان وہاں سے واپس آرہے تھے کہ (عرب کے مشہور شاعر) لَبِید بن ربیعہ بن مالک بن کلاب قیسی قریش کی ایک مجلس میں اپنے اَشعار سنا ر ہے تھے، تو حضرت عثمان بھی اس مجلس میں جا کر بیٹھ گئے۔ لَبِید نے یہ شعر پڑھا: أَلاَ کُلُّ شَيْئٍ مَا خَلَا اللّٰہَ بَاطِلٗ اللہ کے علاوہ ہر چیز باطل اور بے کار ہے۔ حضرت عثمان نے داد دیتے ہوئے کہا: تم نے ٹھیک کہا۔پھر اس نے دوسرا مصرعہ پڑھا : وَکُلُّ نَعِیْمٍ لَا مَحَالَۃَ زَائِلٗ اور ہر نعمت ضرور بالضرور (ایک نہ ایک دن) ختم ہوجائے گی۔ اس پر حضرت عثمان نے کہا: تم نے غلط کہا، جنت کی نعمتیں کبھی ختم نہ ہوں گی۔ حضرت عثمان کی بات سن کر لَبِید بن ربیعہ نے کہا: اے جماعتِ قریش ! تمہاری مجلس میں بیٹھنے والے کو کبھی تکلیف نہیں پہنچائی جاتی تھی۔ یہ نئی بات کب سے تم میں پیدا ہوئی؟ (یعنی پہلے تو کبھی بھی کوئی میرے شعر پر اعتراض نہیں کیا کرتا تھا، آج یہ میرے شعر کو غلط کہنے والا کہاں سے آگیا ہے) تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا کہ یہ ایک بے وقوف آدمی ہے، بلکہ اس کے ساتھ اور بھی چند بے وقوف آدمی ہیں جنھوں نے ہمارے دین سے علیحدگی اختیار کرلی ہے، لہٰذا تم اس کی باتوں سے ناراض مت ہو۔ حضرت عثمان نے اس آدمی کی بات کا جواب دیا جس سے دونوں میں بات بڑھ گئی، تو اس آدمی نے کھڑے ہوکر حضرت عثمان کی آنکھ پر اس زور سے تھپڑ مارا کہ اُن کی آنکھ سیاہ ہوگئی، اور ولید بن مغیرہ قریب ہی تھا اور جو کچھ حضرت عثمان کے ساتھ ہوا اسے دیکھ رہا تھا۔ اس نے کہا: اے میرے بھتیجے ! اللہ کی قسم! ( اگر تم میری پناہ میں رہتے تو) تمہاری آنکھ کو یہ تکلیف کبھی نہ پہنچتی، تم تو ایک محفوظ ذمہ داری میں تھے۔ حضرت عثمان نے کہا: اے ابو عبدِ شمس! ہاں تمہاری بات ٹھیک ہے، لیکن اللہ کی قسم! میرا دل چاہ رہا ہے کہ اللہ کے دین کی وجہ سے میری تندرست آنکھ کو بھی وہی تکلیف پہنچے جودوسری کوپہنچی ہے۔ اور میں اس ذات کی پناہ میں ہوں جو بہت عزّت والے اور بڑی قدرت والے ہیں۔ حضرت عثمان ؓ نے اپنی اس مصیبت زدہ آنکھ کے بارے میں یہ اَشعار کہے : فَإِنْ تَکُ عَیْنِيْ فِيْ رِضَی الرَّبِّ نَالَھَا یَدَا مُلْحِدٍ فِي الدِّیْنِ لَیْسَ بِمُھْتَدٖ اگر میری آنکھ کو اللہ رب العزّت کی رضامندی میں ایک ملحد،بے دین اور گمراہ انسان کے ہاتھوں تکلیف پہنچی ہے (تو کیا ہوا ؟) فَقَدْ عَوَّضَ الرَّحْمٰنُ مِنْھَا ثَوَابَہٗ وَمَنْ یُّرْضِہِ الرَّحْمٰنُ یَا قَوْمِ یَسْعَدٖ رحمن نے اس آنکھ کے بدلے میں اپنا ثواب عطا فرمایا ہے اور جسے رحمن راضی کرے اے قوم! وہ بڑا خوش قسمت ہے۔ فَإِنِّيْ وَإِنْ قُلْتُمْ غَوِيٌّ مُّضَلَّلٌ سَفِیْہٌ عَلَی دِیْنِ الرَّسُوْلِ مُحَمَّدٖ تم اگرچہ میرے بارے میں یہ کہتے ہو کہ میں بہکا ہوا، گمراہ کیا ہوا اور بے وقوف ہوں، لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کے دین پر ہوں۔ أُرِیْدُ بِذَاکَ اللّٰہَ وَالْحَقُّ دِیْنُنَا عَلٰی رَغْمِ مَنْ یَّبْغِيْ عَلَیْنَا وَیَعْتَدِيْ اس سے میں نے اللہ تعالیٰ کی (رضامندی) کا اِرادہ کیا ہے اور ہمارا دین بالکل حق ہے ۔ اور یہ بات صاف میں کہہ رہا ہوں، چاہے یہ بات اس آدمی کو کتنی بری لگے جو ہم پر ظلم اور زیادتی کرتا ہے۔ حضرت عثمان بن مظعون ؓکی آنکھ کو جو تکلیف پہنچی اس کے بارے میں حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے یہ اَشعار کہے : أَمِنْ تَذَکُّرِ دَھْرٍ غَیْرِ مَأْمُوْنٖ أَصْبَحْتَ مُکْتَئِبًا تَبْکِيْ کَمَحْزُوْنٖ جو زمانہ پُر اَمن نہیں تھا کیا تم اس کو یاد کرکے رنجیدہ ہو رہے ہو اور غمگین آدمی کی طرح رو رہے ہو۔ أَمِنْ تَذکُّرِ أَقْوَامٍ ذَوِيْ سَفَہٍ یَغْشَوْنَ بِالظُّلْمِ مَنْ یَّدْعُوْ إِلَی الدِّیْنٖ کیا تم ان بے وقوف لوگوں کو یاد کرکے رو رہے ہو جو دین کی دعوت دینے والوں پر ظلم ڈھاتے تھے۔ لَا یَنْتَھُوْنَ عَنِ الْفَحْشَائِ مَا سَلِمُوْا وَالْغَدْرُ فِیْھِمْ سَبِیْلٌ غَیْرُ مَأْمُوْنٖ یہ لوگ جب تک صحیح سالم رہیں فحش کاموں سے نہیں رُکتے ہیں، اور ان لوگوں میں غدّ اری کی صفت تو غیر محفوظ راستہ ہے۔ أَلَا تَرَوْنَ أَقَلَّ اللّٰہُ خَیْرَھُمٗ أَنَّا غَضِبْنَا لِعُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْنٖ اللہ تعالیٰ اُن کی خیر کو کم کردے۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ ہم عثمان بن مظعون کی وجہ سے غصہ میں آئے ہیں۔ إِذْ یَلْطِمُوْنَ وَلاَ یَخْشَوْنَ مُقْلَتَہٗ طَعْنًا دِرَاکاً وَضَرْبًا غَیْرَ مَاْفُوْنٖ جب کہ وہ لوگ عثمان کی آنکھ کو نڈر ہو کر تھپڑ مار رہے تھے، مسلسل چوکے مارتے رہے اور مارنے میں کوئی کمی نہ کی۔ فَسَوْفَ یَجْزِیْھِمْ إِنْ لَّمْ یَمُتْ عَجَلًا کَیْلًا بِکَیْلٍ جَزَائً غَیْرَ مَغْبوْنٖ اگر عثمان جلدی نہ بھی مرے تو بھی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو برابر سرابر پورا پورا بدلہ دے گا جس میں کوئی خسارہ نہ ہوگا۔ 1 ابن اسحاق کی روایت میں یہ بھی ہے کہ ولید نے حضرت عثمانؓ سے کہا: اے میرے بھتیجے ! اپنی سابقہ پناہ میں واپس آجاؤ ۔ انھوں نے کہا: نہیں۔2