نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کی سختیاں، بھوک اور پیاس برداشت کرنا

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کی بھوک

حضرت سعد ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے ساتھ مکہ میں ہم لوگوں نے بڑی تنگی سے اور بڑی تکلیفوں کے ساتھ زندگی گزاری ہے۔ جب تکلیفیں آنے لگیں تو ہم نے اُن پر صبر کیا، اور ہمیں تنگی اور تکلیف برداشت کرنے کی عادت پڑگئی، اور ہم نے خوشی خوشی اُن پر صبر کیا۔ میں نے اپنے آپ کو حضور ﷺ کے ساتھ مکہ میں اس حال میں دیکھا ہے کہ میں ایک رات پیشاب کرنے نکلا، جہاں میں پیشاب کررہا تھا وہاں سے میں نے کسی چیز کی کھڑ کھڑاہٹ کی آواز سنی۔ میں نے غور سے دیکھا تو وہ اُونٹ کی کھال کا ایک ٹکڑا تھا جسے میں نے اٹھا لیا۔ پھراسے دھو کر جلایا، پھر اسے دو پتھروں کے درمیان رکھ کر پِیس کرسفوف سا بنالیا، پھر اسے پھانک کر میں نے پانی پی لیا اور میں نے تین دن اسی پرگزارے۔2 حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں کہ عربوں میں سب سے پہلے میں نے اللہ کے راستہ میں تیر چلایا ہے۔ ہم لوگ حضور ﷺ کے ساتھ غزوات میں جایا کرتے تھے۔ ہماراکھانا صرف ببول اورکیکر کے پتّے ہوا کرتے تھے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم لوگ بکریوں کی طرح مینگنیاں کیا کرتے تھے جوعلیحدہ علیحدہ ہوتیں ( خشک ہونے کی وجہ سے) اُن میں چپکاہٹ نہ ہوتی ۔ 3