نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کی سختیاں، بھوک اور پیاس برداشت کرنا
دعوت الی اللہ کی وجہ سے سخت سردی برداشت کرنا
حضرت ابو رَیحانہ ؓ فرماتے ہیںکہ وہ ایک غزوہ میں حضور ﷺ کے ساتھ تھے۔ فرماتے ہیں کہ ایک رات ہم لوگ ایک اونچی جگہ ٹھہرے۔ وہاںاتنی سخت سردی پڑی کہ میں نے دیکھا کہ لوگ گڑھا کھود کر اس میں بیٹھ گئے اور اپنے اوپر اپنی ڈھال ڈال لی۔ جب حضور ﷺ نے یہ حالت دیکھی تو آپ نے فرمایا: آج رات ہمارا پہرہ کون دے گا؟ میں اس کے لیے ایسی دعا کروں گا جو اُس کے حق میں ضرور قبو ل ہوگی۔ ایک انصاری نے کھڑے ہوکر کہا: یا رسول اللہ! میں(پہرہ دوں گا)۔ آپ نے فرمایا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: فلاں۔ آپ نے فرمایا: قریب آجاؤ۔ چناںچہ وہ انصاری قریب آئے۔ حضور ﷺ نے اس کے کپڑے کا ایک کنارہ پکڑ کر دعا کرنی شروع کی۔ جب میں نے (وہ دعا)سنی تو میں نے کہا: میںبھی تیار ہوں۔ آپ نے فرمایا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: ابو رَیحانہ۔ آپ نے میرے لیے بھی دعا فرمائی، لیکن میرے ساتھی سے کم۔ پھر آپ نے فرمایا: جو آنکھ اللہ کے راستہ میں پہرہ دے اس آنکھ پر آگ حرام کر دی گئی ہے۔1
اور اسی باب سے متعلق حضرت حذیفہ ؓ کی حدیث بھی ہے جو عنقریب آرہی ہے۔