نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کی سختیاں، بھوک اور پیاس برداشت کرنا

دعوت الی اللہ کی وجہ سے بہت زیادہ خوف برداشت کرنا

حضرت حذیفہ ؓ کے بھتیجے حضرت عبد العزیز کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ نے ان لڑائیوں کا تذکرہ کیاجن میں مسلمان حضور ﷺ کے ساتھ شریک تھے۔ تو پاس بیٹھنے والوں نے کہا: اگر ہم ان لڑائیوں میں شریک ہوتے تو ہم یہ کرتے اور وہ کرتے۔ حضرت حذیفہ نے کہا: اس کی تمنا نہ کرو۔ ہم نے اپنے آپ کولیلۃالاحزاب میں (غزوۂ خندق کے موقع پر) اس حال میں دیکھا ہے کہ ہم لوگ صفیں بنائے بیٹھے ہوئے تھے۔ اور ابو سفیان اور اُس کے ساتھ کے تمام گروہ مدینہ سے باہر ہمارے اوپر (چڑھائی کیے ہوئے) تھے، اور بنو قریظہ کے یہودی ہمارے نیچے مدینہ کے اندر تھے جن سے ہمیں اپنے اہل وعیال کے بارے میںسخت خطرہ تھا (کہ وہ ہمارے اہل و عیال کو اکیلے دیکھ کر مار نہ دیں)۔ لیلۃ الاحزاب سے زیادہ اندھیرے والی اور زیادہ آندھی والی رات ہم نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اتنی تیز ہوا تھی کہ اس میں بجلی کی گرج کی طرح آواز آرہی تھی، اور اندھیرا اتنا زیادہ تھا کہ کسی کو اپنے ہاتھ کی انگلی نظر نہ آتی تھی۔ منافق حضور ﷺ سے (مدینہ جانے کی ) اِجازت مانگنے لگے اور کہنے لگے: ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں (یعنی غیر محفوظ ہیں) حالاں کہ وہ کھلے پڑے ہوئے نہیں تھے۔ آپ سے جو بھی اِجازت مانگتا آپ اسے اِجازت دے دیتے۔اِجازت ملنے پر وہ چپکے چپکے کھسکتے جارہے تھے۔ ہماری تعداد تقریباً تین سو تھی۔حضور ﷺ ہم میں سے ایک ایک فرد کے پاس تشریف لائے، یہاں تک کہ آپ میرے پاس تشریف لائے اور میرے پاس نہ دشمن سے بچنے کا کوئی سامان تھا اور نہ سردی سے بچنے کا، صرف میری بیوی کی ایک اُونی چادر تھی جو مشکل سے میرے گھٹنے تک پہنچتی تھی اس سے آگے نہیں جاتی تھی۔ جب آپ میرے پاس تشریف لائے تومیں گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: حذیفہ۔ آپ نے فرمایا: حذیفہ! چوں کہ میں کھڑا نہیں ہونا چاہتا تھا اس وجہ سے میں زمین سے چمٹ گیا اور میں نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ! پھر آخر میں (حضور ﷺ کواپنے پاس کھڑا دیکھ کر) کھڑا ہو ہی گیا۔ آپ نے فرمایا: دشمن میں کوئی بات ہونے والی ہے تم جاکراُن کی خبر لے کر میرے پاس آؤ۔ فرماتے ہیں: اس وقت مجھے سب سے زیادہ ڈر لگ رہا تھا اور سب سے زیادہ سردی لگ رہی تھی،(لیکن تعمیلِ ارشاد میں) میں چل پڑا۔ آپ نے میرے لیے یہ دعا فرمائی: اے اللہ! اس کی آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے، بائیں سے ، اوپر سے، نیچے سے، ہر طرف سے حفاظت فرما۔ اللہ کی قسم!مجھ کو جتناڈر لگ رہا تھا اورجتنی سردی لگ رہی تھی وہ سب (آپ کے دعا فرماتے ہی) ایک دم ختم ہوگئی، اور مجھے نہ ڈر محسوس ہو رہا تھا اور نہ سردی۔ جب میں وہاں سے چلنے لگا توآپ نے فرمایا: اے حذیفہ! میرے پاس واپس آنے تک اُن میں کوئی حرکت نہ کرنا۔ حضرت حذیفہ فرماتے ہیں: میں چل دیا۔ جب میں دشمنوں کے لشکر کے قریب پہنچا تو مجھے آگ کی روشنی نظر آئی، اور ایک کالا بھاری بھر کم آدمی آگ پر ہاتھ سینک کر اپنے پہلو پرپھیر رہا تھا اور کہہ رہا تھا: (یہاں سے) بھاگ چلو، بھاگ چلو۔ میں اس سے پہلے ابو سفیان کو پہچانتا نہیں تھا۔ (میرے دل میں خیال آیا کہ موقع اچھا ہے میں اسے نمٹاتا چلوں، اس لیے) میں نے اپنے ترکش میں سے سفید پر والا تیر نکال کر کمان میں رکھ لیا تاکہ آگ کی روشنی میں اس پر تیر چلا دوں، لیکن مجھے حضور ﷺ کا فرمان یاد آگیا کہ میرے پاس واپس آنے تک کوئی حرکت نہ کرنا اس لیے میں رک گیا اور تیر ترکش میں واپس رکھ لیا۔ پھر میں ہمت کر کے لشکر کے اندر گھس گیا تو لوگوں میںسے میرے سب سے زیادہ قریب بنو عامر تھے۔ وہ کہہ رہے تھے: آلِ عامر! بھاگ چلو، بھاگ چلو، اب یہاں تمہارے ٹھہرنے کی گنجایش نہیں ہے۔اور اُن کے لشکر میں تیز آندھی چل رہی تھی جو اُن کے لشکر سے ایک بالشت باہر نہیں تھی۔ اللہ کی قسم! میں خود پتھروں کی آواز سن رہاتھا جنھیں ہوا اُڑا کر اُن کے کجاووں اور بستروں پر پھینک رہی تھی۔ پھر میں حضور ﷺ کی طرف واپس چل پڑا۔ ابھی میں نے آدھا راستہ یا اس کے قریب طے کیا تھاکہ مجھے تقریباً بیس گھوڑے سوار عمامہ باندھے ہوئے ملے۔ انھوں نے کہا: اپنے آقا سے کہہ دینا کہ اللہ نے اُن کے دشمنوں کا خود انتظام کردیاہے (یعنی کفار کو آندھی بھیج کر بھاگنے پر مجبور کردیا ہے)۔ جب میں حضور ﷺ کی خدمت میں واپس پہنچا تو آپ ایک چھوٹی سی چادر اوڑھے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ اللہ کی قسم! واپس پہنچتے ہی سردی بھی واپس آگئی اور میں سردی کے مارے کانپنے لگا۔ حضو ر ﷺ نے نماز کی حالت میں میری طرف اشارہ فرمایا۔ میں آپ کے قریب چلا گیا۔ آپ نے چادر کا ایک کنارہ مجھ پر ڈال دیا۔ آپ کی یہ عادت شریفہ تھی کہ جب بھی کوئی گھبراہٹ کی بات پیش آتی تو آپ نماز کی طرف متوجہ ہوجایا کرتے تھے۔ میں نے (نمازکے بعد) آپ کو دشمنوں کی ساری بات بتائی اور میں نے آپ کو بتایاکہ میں انھیں اس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ وہ سب کُوچ کر رہے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں: {یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْْکُمْ اِذْ جَائَ تْکُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْْہِمْ رِیْحاً وَّجُنُوْداً لَّمْ تَرَوْہَا}سے لے کر {وَکَفَی اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ ط وَکَانَ اللّٰہُ قَوِیًّا عَزِیْزًا} تک۔1 اے ایمان والو! یاد کرو احسان اللہ کا اپنے اوپر جب چڑھ آئیں تم پر فوجیں ، پھر ہم نے بھیج دی اُن پر ہوا اور وہ فوجیں جو تم نے نہیں دیکھیں (سے لے کر)اور اپنے اوپر لے لی اللہ نے مسلمانوںکی لڑائی، اور ہے اللہ زور آور زبردست (تک)۔ 2 حضرت یزید تیمی فرماتے ہیںکہ ہم حضرت حذیفہؓ کے پاس تھے تو اُن سے ایک آدمی نے کہا کہ اگرمیں رسول اللہ ﷺ کو پالیتا تو میں آپ کے ساتھ رہ کر (کافروں سے) خوب لڑائی کرتا اور اسی میں جان قربان کردیتا۔ تو اس سے حضرت حذیفہ نے کہا: تو ایسے کرسکتا تھا ؟ لیلۃ الاحزاب میں ہم لوگوں نے اپنے آپ کو حضور ﷺ کے ساتھ اس حال میں دیکھا ہے کہ اس رات بہت تیز ہوا چل رہی تھی اور سخت سردی پڑ رہی تھی۔ حضور ﷺ نے فرمایا: کیاکوئی ایساآدمی ہے جو میرے پاس دشمنوں کی خبر لے کر آئے، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ہوگا؟ پھر آگے حضرت عبدالعزیز کی گزشتہ حدیث جیسی حدیث مختصر ذکر کی ہے، اوراس حدیث میں یہ بھی ہے کہ میں حضور ﷺ کی خدمت میں واپس آیا اور واپس آتے ہی سردی لگنے لگ گئی اور مجھ پر کپکپی طاری ہوگئی۔ میں نے آپ کو (دشمنوں کے تمام حالات) بتائے۔ آپ جو چوغہ پہن کر نماز پڑھ رہے تھے اس کا ایک کنارہ میرے اوپر ڈال دیا۔ میں صبح تک سوتا رہا۔ جب صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا: اے سوؤ! اُٹھ ۔1 ابنِ اسحاق نے اس حدیث کو محمد بن کعب قرظی سے منقطعاً نقل کیا ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں: کون آدمی ایسا ہے جو کھڑا ہوکر دیکھ آئے کہ دشمن کیا کررہا ہے ؟ اور پھر ہمارے پاس واپس آئے ۔ آپ نے جانے والے کے لیے واپس آنے کی شرط لگائی (کہ اسے ضرور واپس آنا ہوگا) میں اللہ سے دعا کروں گا کہ وہ جنت میں میراساتھی بن جائے، (لیکن) سخت خوف اور سخت بھوک اور سخت سردی کی وجہ سے کوئی بھی نہ کھڑا ہوا۔