صحابۂ کرام ؓ کا اپنے وطن کو چھوڑنا
حضرت عمر بن خطاب اور صحابۂ کرام ؓ کی ہجرت
حضرت براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں: حضو ر ﷺ کے صحابہ ؓ میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس (مدینہ میں) حضرت مُصْعب بن عمیر اور ابنِ اُمّ مکتوم ؓ آئے۔ یہ دونوں ہمیںقرآن پڑھانے لگے۔ پھر حضرت عمار، حضرت بلال اور حضرت سعد ؓ آئے۔ پھر حضرت عمر بن خطاب ؓ بیس صحابہ کے ساتھ آئے۔ پھر حضور ﷺ تشریف لائے اور میں نے مدینہ والوں کو حضور ﷺ کی تشریف آوری پر جتنا خوش ہوتے ہوئے دیکھا اتنا کسی چیز پر خوش ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔ میں آپ کی تشریف آوری سے پہلے مفصل سورتوں میں سے { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی} پڑھ چکاتھا۔1
حضرت براء ؓ فرماتے ہیں: مہاجرین میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس بنو عبد الدار قبیلہ کے حضرت مُصْعَب بن عمیر ؓ آئے۔ پھر بنو فِہر کے نابینا ابنِ اُمّ مکتوم ؓ آئے، پھر حضرت عمر بن خطاب ؓ بیس سواروں کے ساتھ آئے۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کا کیا ہوا؟ حضرت عمر نے کہا: وہ میرے پیچھے تشریف لارہے ہیں۔ پھر حضور ﷺ تشریف لائے اور حضرت ابوبکر ؓ ان کے ساتھ تھے۔ حضرت براء فرماتے ہیں کہ میں حضور ﷺ کے تشریف لانے سے پہلے مفصل کی کئی سورتیں پڑھ چکا تھا۔ 2
حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جب میں نے، حضرت عیّاش بن ابی ربیعہ اور حضرت ہشام بن عاص ؓ نے مدینہ ہجرت کرنے کا ارادہ کیا، تو ہم نے سَرِف مقام سے اوپر کی جانب بنو غِفار کے حوض کے کنارے وادی تناضِب میں جمع ہونا طے کیا۔ اورہم نے کہا کہ ہم میں سے جوبھی صبح کو وہاں پہنچا ہوا نہ ہوگا (تو ہم سمجھ لیں گے کہ) اسے روک لیاگیا ہے، لہٰذا اس کے باقی دونوں ساتھی چلے جائیں (اور اس کا انتظار نہ کریں)۔
چناںچہ میںاور حضرت عیّاش تو صبح تناضِب پہنچ گئے اور حضرت ہشام کو ہمارے پاس آنے سے روک لیا گیا، اور (کافروں کی طرف سے) اُن کو آزمایش میںڈالاگیااوروہ آزمایش میں پڑگئے یعنی اِسلام سے پھرگئے۔ جب ہم مدینہ آئے تو ہم قُبا میں بنو عمرو بن عوف کے ہاں ٹھہرے۔ حضرت عیّاش ابوجہل بن ہشام اور حارث بن ہشام کے چچازاد بھائی اور ماں شریک بھائی تھے۔ ابو جہل اور حارث حضرت عیّاش (کوواپس لے جانے) کے لیے مدینہ آئے اور رسول اللہ ﷺ ابھی مکہ ہی میںتھے۔ ان دونوںنے حضرت عیاش سے بات کی اور ان سے کہا کہ تمہاری ماں نے یہ نذر مانی ہے کہ جب تک وہ تمہیں دیکھ نہ لے گی نہ وہ سر میں کنگھی کرے گی اور نہ دھوپ سے سایہ میں جائے گی۔
(ماں کا یہ حال سن کر) اُن کا دل نرم پڑگیا۔ میں نے اُن سے کہا: اللہ کی قسم! یہ لوگ تم کو تمہارے دین سے ہٹانا چاہتے ہیں ان سے چوکنّے رہو۔ اللہ کی قسم! جب جوئیں تمہاری ماں کو تنگ کریں گی تو وہ ضرور کنگھی کرے گی، اور جب مکہ کی گرمی اس کو ستائے گی تو وہ خود سایہ میں چلی جائے گی۔ اس پر حضرت عیّاش نے کہا: میں اپنی ماںکی نذر بھی پوری کر آتا ہوں، اور میرا وہاں کچھ مال ہے وہ بھی میں لے آتا ہوں۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! تمہیں خوب معلوم ہے میں قریش کے بڑے مال داروں میں سے ہوں، تم ان کے ساتھ مت جاؤ۔ میں تمیں اپنا آدھا مال دیتا ہوں۔ لیکن انھوں نے میری بات نہ مانی اور ان دونوں کے ساتھ جانے پر مُصِر رہے۔ جب انھوں نے ان کے ساتھ جانے کی ٹھان ہی لی تو میں نے ان سے کہا: تم نے جو کرنا تھا وہ کر لیا، (اور ان کے ساتھ جانے کا اِرادہ کر ہی لیا) تو میری یہ اونٹنی لے لو یہ بڑی عمدہ نسل کی اور مان کر چلنے والی ہے۔ تم اس کی پیٹھ پر بیٹھے رہنا، اگر تمہیں ان دونوں کی کسی بات سے شک ہو تو اس پر بھاگ کراپنی جان بچا لینا۔ چناںچہ وہ اس اونٹنی پر سوار ہوکر ان دونوں کے ساتھ چل پڑے۔
راستہ میں ایک جگہ ابوجہل نے ان سے کہا: اے میرے بھائی! اللہ کی قسم! میرایہ اُونٹ سست پڑگیا ہے۔ کیا تم مجھے اپنی اس اونٹنی پر پیچھے نہیںبٹھالیتے؟ حضرت عیّاش نے کہا:ہاں! ضرور۔ اور انھوں نے اپنی اونٹنی نیچے بٹھالی اور ان دونوں نے بھی اپنے اونٹ بٹھالیے تاکہ ابوجہل ان کی اونٹنی پر سوار ہوجائے۔ جیسے ہی وہ زمین پر اترے تو یہ دونوں حضرت عیّاش پر جھپٹے اور انھیں رسی سے اچھی طرح باندھ لیا اور انھیں مکہ لے گئے اور اِسلام سے ہٹانے کے لیے اُن پر بڑا زور ڈالا، آخر وہ اِسلام کو چھوڑ گئے۔ ہم یہ کہا کرتے تھے کہ جو مسلمان اِسلام کوچھوڑ کر کفرمیں چلا جائے گا پھراللہ اس کی توبہ قبول نہیں کریں گے، اور اِسلام چھوڑ کر چلے جانے والے بھی یہی سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ حضور ﷺ مدینہ تشریف لے آئے اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں:
{قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِط اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًاط اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُO وَاَنِیْبُوْا اِلٰی رَبِّکُمْ وَاَسْلِمُوْا لَہٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ O وَاتَّبِعُوْا اَحْسَنَ مَا اُنْزِلَ اِلَیْْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ الْعَذَابُ بَغْتَۃً وَّاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ O}1
کہہ دے! اے بندو میرے،جنھوں نے کہ زیادتی کی ہے اپنی جان پر! آس مت توڑو اللہ کی مہربانی سے،بے شک اللہ بخشتا ہے سب گناہ۔ وہ جو ہے وہی ہے گناہ معاف کرنے و الا مہربان۔ اور رجوع ہوجاؤ اپنے ربّ کی طرف۔ اور اس کی حکم برداری کرو پہلے اس سے کہ آئے تم پر عذاب پھر کوئی تمہاری مدد کونہ آئے گا۔ اور چلو بہتر بات پر جو اُتری تمہاری طرف تمہارے ربّ سے، پہلے اس سے کہ پہنچے تم پر عذاب اچانک اور تم کو خبر نہ ہو۔
حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ آیتیں لکھ کر حضرت ہشام بن عاص کے پاس بھیج دیں۔ حضرت ہشام کہتے ہیں کہ جب یہ آیتیں میرے پاس پہنچیں تو میں ان کو ذِی طُویٰ مقام پر پڑھنے لگا اور( ان کے معنیٰ اور مطلب کو سمجھنے کے لیے)ان کو اوپر نیچے دیکھنے لگا، لیکن مجھے ان کا مطلب سمجھ میں نہ آیا، یہاں تک کہ میں نے یہ دعا مانگی: اے اللہ! یہ آیتیں مجھے سمجھا دے۔ پھر اللہ نے میرے دل میں یہ مطلب ڈالا کہ یہ آیتیں ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ ہم جو اپنے دلوں میں سوچا کرتے تھے اور صحابہ ؓ جو ہمارے بارے میں کہا کرتے تھے کہ جو اِسلام کو چھوڑ کر کفر میں چلاجائے گا پھراللہ اس کی توبہ قبول نہیں کرے گا۔ (اب اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر بتایاہے کہ توبہ قبول ہوجائے گی۔ جب یہ مطلب میری سمجھ میں آگیا اور مجھے اپنی توبہ قبول ہوجانے کی بات معلوم ہوگئی تو)میںا پنے اونٹ کے پاس آیا اور اس پر سوار ہوکر مدینہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگیا ۔2