صحابۂ کرام ؓ کا اپنے وطن کو چھوڑنا

حضرت جنادہ بن ابو امیّہ ؓکی ہجرت

حضرت جنادہ بن ابی اُمیّہ اَزْدی ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضور ﷺ کے زمانے میں ہجرت کی، پھرہمارا ہجرت کے بارے میں اختلاف ہوگیا۔ کچھ لوگ کہنے لگے کہ ہجرت ختم ہوگئی اور کچھ لوگ کہنے لگے: نہیں ابھی ختم نہ ہوئی۔ چناںچہ میں نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: جب تک کفارسے جہاد باقی رہے گا ہجرت ختم نہیں ہوگی۔ 3 حضرت عبداللہ بن سعدی ؓ فرماتے ہیں کہ میں بنو سعد بن بکرکے سات یا آٹھ آدمیوں کے وفد کے ساتھ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں ان میں سب سے کم عمر تھا۔ ان لوگوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی ضرورت کی باتیں پوچھ لیںاور مجھے اپنی سواریوں میں (سامان کے پاس) چھوڑ گئے تھے۔ پھرمیں نے حضور ﷺ کی خدمت میںحاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے میری ضرورت کی بات بتائیں۔ آپ نے فرمایا: تمہاری ضرورت کی بات کیا ہے؟ میں نے کہا: کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہجرت ختم ہوگئی ہے؟ آپ نے فرمایا: تم سب سے عمدہ ضرورت والے ہو، یا فرمایا کہ تمہاری ضرورت اُن کی ضرورتوں سے زیادہ بہتر ہے۔ جب تک کفار سے جہاد کاسلسلہ رہے گا ہجرت ختم نہیں ہوگی۔1