صحابۂ کرام ؓ کا اپنے وطن کو چھوڑنا

حضرت دُرّہ بنتِ ابی لہب ؓ کی ہجرت

حضرت ابنِ عمر،حضرت ابو ہریرہ اور حضرت عمار بن یاسر ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت دُرَّہ بنتِ ابی لہب ؓ ہجرت کر کے (مدینہ) آئیں اور حضرت رافع بن مُعلّیٰ زُرَقی ؓ کے گھرمیںٹھہریں۔ قبیلہ بنو زُرَیق کی جو عورتیں ان کے پاس آکر بیٹھیں انھوں نے ان سے کہا: تم اسی ابو لہب کی بیٹی ہو جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَہَبٍ وَّتَبَّ O مَا اَغْنٰی عَنْہُ مَالُہٗ وَمَا کَسَبَ O}2 ٹوٹ گئے ہاتھ ابی لہب کے اورٹوٹ گیا وہ آپ۔ کام نہ آیا اس کو مال اس کا اور نہ جو اُس نے کمایا۔ لہٰذاتمہاری ہجرت تمہارے کام نہ آئے گی۔ حضرت دُرَّہ نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر ان عورتوں کی شکایت کی اور جو انھوںنے کہا تھا وہ آپ کو بتایا۔ حضور ﷺ نے ان کو تسلی دی اور فرمایا: بیٹھ جاؤ۔ پھر لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائی اور منبر پر تھوڑی دیربیٹھے اور فرمایا: کیا بات ہے کہ مجھے میرے خاندان والوں کے بارے میں تکلیف پہنچائی جا رہی ہے۔ اللہ کی قسم! میری شفاعت قیامت کے دن حَا اور حَکَم اور صُدااور سَلْہَب قبیلوں کو بھی نصیب ہوگی (تو میرے خاندان کو تو بدرجہ اولیٰ نصیب ہوگی)۔ 1 صفحہ ۴۷۵ پر حضرت ابوسلمہ کی ہجرت کے بیان میں حضرت اُمّ سلمہ کی ہجرت کا، اور صفحہ ۴۷۱ پر حضرت جعفر بن ابی طالب اور صحابۂ کرام ؓکی حبشہ کو ہجرت کرنے کے بیان میں، حضرت اسماء بنتِ عمیس اور اُمّ عبداللہ لیلیٰ بنتِ ابی حثمہ کی ہجرت کابیان گزر چکا ہے۔