صحابۂ کرام ؓکی دینِ اسلام کی نصرت کے لئے کوشش کرنا
حضرات انصار ؓ کی نصرتِ دین کی ابتدا
صحابۂ کرام ؓ کو دینِ متین اور صراطِ مستقیم کی نصرت کرنا کس طرح ہر چیز سے زیادہ محبوب تھا، اور دُنیوی عزّت پر اُن میں سے کوئی اتنا فخر نہیں کرتا تھا جتنا کہ وہ اس نصرت پر فخرکرتے تھے۔ اورکس طرح سے انھوں نے دین کی نصرت کی وجہ سے دنیاوی لذتوں کوچھوڑا، گویاکہ انھوں نے یہ سب کچھ اللہ عزّوجل کی رضا مندی حاصل کرنے اور اُس کے رسول ﷺ کے حکم پر چلنے کے لیے کیا۔
حضراتِ اَنصار ؓ کی نصرتِ دین کی ابتدا
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ ہر سال اپنے آپ کوقبائلِ عرب پر پیش فرماتے کہ وہ حضور ﷺ کو اپنی قوم میں لے جا کر ٹھہرائیں، تاکہ آپ اللہ تعالیٰ کا کلام اور پیغام پہنچا سکیں، اور انھیں (اس کے بدلہ میں)جنت ملے گی۔ لیکن عرب کا کوئی قبیلہ بھی آپ کی اس بات کو نہیں مانتا تھا۔ یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ کا یہ اِرادہ ہوا کہ اپنے دین کو غالب فرما دیں اور اپنے نبی کی مدد فرمادیں اور اپنے وعدے کو پورا فرما دیں، تواللہ تعالیٰ آپ کو اَنصارکے اس قبیلہ کے پاس لے آئے اور انھوں نے آپ کی دعوت کو قبول کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اُن کے وطن کو اپنے نبی ﷺ کے لیے ہجرت کا مقام بنا دیا ۔ 1
حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ مکہ میں موسم ِ حج میں اپنے آپ کو عرب کے ایک ایک قبیلہ پر پیش فرماتے لیکن کوئی بھی آپ کی بات نہ مانتا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اَنصار کے اس قبیلہ کو (حضور ﷺ کی خدمت میں) لے آئے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت اور شرافت اُن کے لیے مقدر فرما رکھی تھی۔ چناںچہ ان لوگوں نے آپ کو ٹھکانا دیا اور آپ کی نصرت کی۔ اللہ تعالیٰ ہی ان کو اپنے نبی کی طرف سے بہترین جزا عطا فرمائے۔1
’’جمع الفوائد‘‘ میں حضرت عمر ؓکی اس حدیث میں یہ اضافہ بھی ہے (کہ حضرت عمر فرماتے ہیں) کہ اللہ کی قسم! ہم نے انصارسے جو وعدہ کیا تھا وہ ہم نے پورا نہیں کیا۔ ہم نے ان سے کہاتھاکہ ہم لوگ امیرہوں گے اور تم لوگ وزیر۔ اگر میں اس سال کے آخر تک زندہ رہا تو میراہر گورنر اَنصاری ہی ہوگا۔2
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیںکہ موسم ِ حج میں حضور ﷺ اپنے آپ کو لوگوں پر پیش فرماتے تھے او ران سے کہتے تھے: ہے کوئی ایسا آدمی جو مجھے اپنی قوم میں لے جائے؟ کیوں کہ قریش نے مجھے اپنے ربّ کا کلام پہنچانے سے روک دیا ہے۔ چناںچہ ایک مرتبہ ہمدان قبیلہ کا ایک آدمی آپ کی خدمت میں آیا۔ آپ نے اس سے پوچھا: تم کون سے قبیلہ کے ہو؟ اس نے کہا: ہمدان کا۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہاری قوم کے پاس حفاظت کا اِنتظام ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ پھراس آدمی کو یہ خطرہ ہواکہ (وہ تو حضور ﷺ سے ساتھ لے جانے کا اور ان کی حفاظت کا وعدہ کرلے اور) قوم والے اس کے اس وعدہ کو نہ مانیں۔ چناںچہ اس نے حضور ﷺ کی خدمت میں آکر کہا کہ میں ابھی تو جا کر اپنی قوم کو بتاؤں گا اور اگلے سال آپ کے پاس آئوں گا (پھر آپ کو بتاؤں گا)۔ آپ نے فرمایا:اچھا۔ اور اَنصار کا وفد رجب میں آیا۔ 3
صفحہ ۳۲۹ پر نصرت پر بیعت کے باب میں اِمام احمد کی روایت سے حضرت جابر ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ حضور ﷺ نے مکہ میں دس سال اس طرح گزارے کہ آپ لوگوں کے پاس حج کے موقع پر اُن کی قیام گاہوں میں عُکاظ اور مَجنَّہ کے بازاروں میں جایا کرتے تھے، اور ان سے فرماتے: کون مجھے ٹھکانا دے گا اور کون میری مدد کرے گا؟ تاکہ میں اپنے ربّ کا پیغام پہنچا سکوں اور اسے (اس کے بدلہ میں) جنت ملے گی۔ چناںچہ آپ کو کوئی ایسا آدمی نہ ملتا جو آپ کو ٹھکانا دے اور آپ کی مدد کرے (بلکہ آپ کی مخالفت اس حد تک پھیل گئی تھی) کہ کوئی آدمی یمن یا مُضَر سے (مکہ کے لیے) روانہ ہونے لگتا تو اُس کی قوم کے لوگ اور اُس کے رشتہ دار اس کے پاس آکر اسے کہتے کہ قریش کے نوجوان سے بچ کر رہنا کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دے۔ اور آپ لوگوں کی قیام گاہوں کے درمیان میں سے گزرتے تو لوگ آپ کی طرف انگلیوں سے اِشارہ کرتے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یثرِب سے ہمیں آپ کے پاس بھیج دیا۔ ہم آپ کو ٹھکانا دینے کے لیے تیار ہوگئے اور ہم نے آپ کی تصدیق کی۔
پھر ہمارے آدمی ایک ایک کر کے حضور ﷺ کے پاس جاتے رہے اور آپ پر ایمان لاتے رہے اور آپ اُن کو قرآن سکھاتے رہے۔ وہاں سے وہ آدمی مسلمان ہو کر اپنے گھر واپس آتا تو اس کے اِسلام کی وجہ سے اس کے گھر والے مسلمان ہوجاتے، حتیٰ کہ اَنصار کے ہر محلہ میں مسلمانوں کی ایک جماعت ایسی تیار ہوگئی جو اپنے اِسلام کا اِظہار کرتے تھے۔ پھر ان سب نے مل کر مشورہ کیا اور ہم نے کہا کہ کب تک ہم حضور ﷺ کو ایسے چھوڑیں رکھیں کہ آپ یوں ہی لوگوں میں پھرتے رہیں اور مکہ کے پہاڑوں میں آپ کو دُھتکارا جاتا رہے اور آپ کو ڈرایا جاتا رہے۔ چناںچہ ہمارے ستّر آدمی گئے اورموسم ِ حج میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور ہم نے آپ سے شِعبِ عَقَبہ میں ملنا طے کیا۔ چناںچہ ہم وہاں ایک ایک دو دو آدمی ہو کر سب اِکھٹے ہوگئے اورہم نے کہا: یا رسول اللہ! ہم آپ سے کس چیز پر بیعت کریں؟ آگے پوری حدیث ذکر کی ہے۔1
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ جب حج کا زمانہ آیا تو اَنصار کے کچھ لوگ حج کے لیے گئے۔ چناںچہ بنو مازِن بن نجار کے حضرت معاذ بن عفراء اور حضرت اَسعد بن زرارہ، اور بنو زریق کے حضرت رافع بن مالک اور حضرت ذکوان بن عبدالقیس، اور بنو عبد الاشہل کے ابوالہیثم بن تَیّہان اور بنو عمرو بن عوف کے حضرت عُوَیم بن ساعدہ ؓ حج کے لیے گئے۔ حضور ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور ان کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں نبوت اور شرافت سے نوازا ہے اور انھیں قرآن پڑھ کر سنایا۔ جب انھوں نے آپ کی بات سنی تو سب خاموش ہوگئے اور ان کے دل آپ کی دعوت پر مطمئن ہوگئے۔ اور چوں کہ انھوں نے اہلِ کتاب سے آپ کے اوصافِ جمیلہ اور آپ کی دعوت کے بارے میں سن رکھا تھا اس لیے وہ سنتے ہی آپ کو پہچان گئے اور آپ کی تصدیق کی اور آپ پر ایمان لے آئے اور یہ حضرات خیر کے عام ہونے کا ذریعہ بنے۔ پھر انھوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ جانتے ہی ہیں کہ ہمارے ہاں اَوس اور خزرج میں قتل وغارت کا سلسلہ چل رہا ہے، اور ہم اس چیز کو پسند کرتے ہیں جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ آپ کے کام کو صحیح رُخ پر لے آئے (یعنی ہم آپ کو اپنے ہاں لے جانا اور آپ کی نصرت کرناچاہتے ہیں)، اور ہم اللہ کے لیے اور آپ کے لیے ہر طرح کی محنت کرنے کو تیار ہیں۔ اور جو آپ کی رائے ہے ہم بھی آپ کو اسی کامشورہ دیتے ہیں، لیکن ابھی آپ اللہ کے بھروسہ پر (یہاں مکہ میں ہی) ٹھہرے رہیں، اتنے میں ہم اپنی قوم کے پاس واپس جا کر اُن کو آپ کی بات بتائیں گے، اوراُن کو اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی دعوت دیں گے۔ ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ ہماری آپس میں صلح کرادے اور ہمارا آپس میں جوڑ پیدا کر دے، کیوں کہ آج کل ہم ایک دوسرے سے دور ہیںاور ہماری آپس میں بغض وعداوت ہے۔ اگرآج آپ ہمارے ہاں تشریف لے آتے ہیں اور ابھی ہماری آپس میں صلح نہ ہوئی ہو تو ہم سب آپ پر جڑ نہیں سکیں گے اور ایک جماعت نہیں بن سکیں گے۔ ہم اگلے سال حج (کے زمانے میں آپ سے ملنے) کا وعدہ کرتے ہیں۔
حضورﷺ کو اُن کی یہ بات پسند آئی اور وہ حضرات اپنی قوم کے پاس واپس گئے اور اپنی قوم کوچپکے چپکے دعوت دینے لگے اور اُن کو اللہ کے رسول ﷺ کی خبر دی۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنا جو پیغام دے کر حضور ﷺ کو بھیجا ہے اور قرآن سنا کر حضور ﷺ نے جس کی دعوت دی ہے وہ سب اپنی قوم کو بتایا۔ (ان حضرات کی محنت اور دعوت کا نتیجہ یہ ہواکہ) اَنصار کے ہرمحلہ میں کچھ نہ کچھ لوگ ضرورمسلمان ہوچکے تھے۔ آگے ویسی حدیث ذکرکی ہے جیسی حدیث صفحہ ۲۵۳ پر حضرت مُصْعَب بن عمیر ؓ کے دعوت دینے کے باب میں گزر چکی ہے۔1
حضرت یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ میں نے اَنصار کی ایک بُڑھیا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت ابنِ عباس ؓ کو دیکھاکہ وہ حضرت صِرْمہ بن قیس ؓ کے پاس ان اَشعار کو سیکھنے کے لیے بار بار جاتے تھے:
ثَوٰی فِيْ قُرَیْشٍ بِضْعَ عَشَرَۃَ حِجَّۃً
یُذَکِّرُ لَوْ أَلْفٰی صَدِیْقًا مُّوَاتِیًا
آپ نے قریش میں دس سال سے زیادہ قیام فرمایا اوراس سارے عرصہ میں آپ نصیحت اورتبلیغ فرماتے رہے، (اورآپ یہ چاہتے تھے کہ) کوئی موافقت کرنے والا دوست آپ کو مل جائے۔
وَیَعْرِضُ فِيْ أَھْلِ الْمَوَاسِمِ نَفْسَہٗ
فَلَمْ یَرَ مَنْ یُّؤْوِيْ وَلَمْ یَرَ دَاعِِیًا
اورآپ حج پر آنے والوں پر اپنے آپ کوپیش فرماتے تھے، لیکن نہ آپ کو ٹھکانا دینے والا نظرآتا اور نہ اپنے ہاں آنے کی دعوت دینے والا۔
فَلَمَّا أَتَانَا وَاسْتَقَرَّتْ بِہِ النَّوٰی
وَأَصْبَحَ مَسْرُوْرًا بِطَیْبَۃَ رَاضِیًا
جب آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ وہاں ٹھہرگئے اور طَیْبہ میں بڑے خوش اورراضی ہوگئے۔
وَأَصْبَحَ مَا یَخْشٰی ظُلَامَۃَ ظَالِمٍٍ
بَعِیْدٍ وَّمَا یَخْشٰی مِنَ النَّاسِ بَاغِیًا
اورآپ کو نہ کسی دور کے ظالم سے کسی چیزکو ظلماًلے لینے کا خطرہ رہا اور نہ لوگوں سے بغاوت کا خطرہ۔
بَذَلْنَا لَہُ الْأَمْوَالَ مِنْ جُلِّ مَالِنَا
وَأَنْفُسَنَا عِنْدَ الْوَغٰی وَالتَّـاسِیَا
توہم نے (دشمنوں سے) لڑائی کے وقت اور(مہاجر مسلمانوں کی) غم خواری کے وقت اپنی جان ومال کا بڑا حصہ خرچ کر دیا۔
نُعَادِيْ الَّذِيْ عَادٰی مِنَ النَّاسِ کُلِّھِمْ
بِحَقٍّ وَّإِنْ کَانَ الْحَبِیْبَ الْمُوَاتِیَا
اور حضور ﷺ تمام لوگوں میں سے جس سے دشمنی رکھیںگے ہم بھی اس سے پکی دشمنی رکھیں گے، چاہے وہ آدمی ہمارا محبوب اورموافق کیوں نہ ہو۔
وَنَعْلَمُ أَنَّ اللّٰہَ لَا شَيْئَ غَیْرُہٗ
وَأَنَّ کِتابَ اللّٰہِ أَصْبَحَ ھَادِیًا
اور ہمیں یقین ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی چیز (معبود) نہیں ہے، اور اللہ کی کتاب ہی ہمیں صحیح راستہ دکھانے والی ہے۔1