صحابۂ کرام ؓکی دینِ اسلام کی نصرت کے لئے کوشش کرنا

ابن شیبہ یہودی کا قتل

حضرت مُحیِّصَہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس یہودی پر تم قابو پالو اسے قتل کردو۔ چناںچہ ابنِ شیبہ ایک یہودی تاجر تھا جس کا مسلمانوں سے میل جول تھا اور اس کے ان سے تجارتی تعلقات تھے۔ حضرت مُحیِّصَہ نے اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر ڈالا۔ ان کے بڑے بھائی حضرت حُوَیِّصَہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ حضرت حُوَیِّصَہ ابنِ شیبہ کو قتل کرنے کی وجہ سے حضرت مُحیِّصَہ کو مارتے جاتے تھے اور کہتے تھے کہ اے اللہ کے دشمن! تُو نے اسے قتل کردیا، حالاں کہ اللہ کی قسم! تیرے پیٹ کی بہت سی چربی اس کے مال سے بنی ہے۔ حضرت مُحیِّصَہؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر حضور ﷺ مجھے تمہارے قتل کرنے کا حکم دیتے تو میں تمہاری گردن بھی اُڑا دیتا۔ اللہ کی قسم! اسی بات سے حضرت حُوَیِّصَہ کے اِسلام کی ابتدا ہوئی۔ (بھائی کی اس بات کا اُن کے دل پر بڑا اثر پڑا) حضرت حُوَیِّصَہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر محمد( ؑ) تمہیں میرے قتل کاحکم دے دیں تو کیا تم مجھے ضرور قتل کر دوگے؟ حضرت مُحیِّصَہ نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! توحضرت حُوَیِّصَہ نے کہا: اللہ کی قسم! جس دین نے تجھ کو یہاں تک پہنچا دیا ہے وہ تو عجیب دین ہے۔1 ابنِ اسحاق نے بھی اس جیسی حدیث بیان کی ہے جس میں یہ ہے کہ حضرت مُحیِّصَہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: مجھے اس (ابنِ شیبہ) کے قتل کرنے کا اس ذات نے حکم دیا ہے کہ اگر وہ مجھے تمہارے قتل کرنے کا حکم دے تو میں تمہاری گردن بھی اُڑا دوں۔ چناںچہ حضرت حُوَیِّصَہ ؓ آخر میں مسلمان ہوگئے۔2