صحابۂ کرام ؓکی دینِ اسلام کی نصرت کے لئے کوشش کرنا
حضرات انصار ؓ کا اکرام اور خدمت
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت اُسید بن حضیر ؓ حضور ﷺ کی خدمت میں آئے اور حضور ﷺ غلہ تقسیم فرما رہے تھے۔ تو حضرت اُسید نے حضور ﷺ سے اَنصار کے بنوظفر کے ایک گھر والوں کا تذکرہ کیا کہ وہ حاجت مند ہیں اور اس گھر میں اکثر عورتیں ہیں۔ حضور ﷺ نے اُن سے فرمایا: اے اُسید! تم نے ہمیں چھوڑ ے رکھا یہاں تک کہ جو کچھ ہمارے ہاتھ میں تھا وہ سب ختم ہوگیا (یعنی اب کچھ نہیں رہا تم نے دیر سے آکر بتایا)۔ جب تم سنو کہ کچھ ہمارے پاس آیا ہے تو مجھے ان گھر والوں کا یاد دلا دینا۔ چناںچہ اس کے بعد خیبر سے جو اور کھجوریں حضور ﷺ کے پاس آئیں جنھیں آپ نے لوگوں میں تقسیم کیا اور اَنصار میں بھی تقسیم کیا اور انھیں خوب دیا اور ان گھروالوں میں بھی تقسیم کیا اور انھیں تو اور زیادہ دیا۔ تو حضرت اُسید بن حضیر نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ آپ کو عمدہ جزا عطا فرمائے، یا کہا: جزائے خیر عطا فرمائے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: تم جماعتِ اَنصار کو بھی اللہ تعالیٰ عمدہ جزا عطا فرمائے، یا فرمایا: جزائے خیر عطا فرمائے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے تم لوگ بڑے پاک دامن اور صابر ہو، لیکن تم دیکھوگے امرِ خلافت میں اور (اموال اور عہدوں کی) تقسیم میں تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی۔ تم صبر کرتے رہنا یہاں تک کہ حوض پر آکر مجھ سے مل لینا۔1
حضرت اُسید بن حضیر ؓ فرماتے ہیں کہ میری قوم کے دو گھروں والے میرے پاس آئے، ایک گھر والے بنو ظفر کے تھے اور دوسرے گھر والے بنو معاویہ کے تھے۔ اور انھوں نے کہا کہ آپ ہمارے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے بات کریں کہ ہم میں کچھ تقسیم فرما دیں، یا یہ کہا کہ وہ ہمیں دیں یا اس جیسی اور بات کہی۔ چناںچہ میں نے حضور ﷺ سے بات کی، حضورﷺ نے فرمایا: ہاں! میں ہر گھر والوں کو تقسیم میں کچھ نہ کچھ ضرور دوں گا (ابھی تو اتنا ہی دینے کے لیے ہے) اللہ نے اگر ہمیں اور دے دیا تو ہم اُن کو اور دیں گے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: تمہیں بھی اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے، کیوں کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے تم لوگ بڑے پاک دامن اور صابر ہو، لیکن میرے بعد تم دیکھو گے کہ دوسروں کو ترجیح دی جائے گی۔
پھر حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے اپنے زمانۂ خلافت میں جوڑے تقسیم کیے۔ تو ایک جوڑا حضرت عمر نے میرے پاس بھی بھیجا جو مجھے چھوٹا نظر آیا۔ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ میرے پاس سے ایک قریشی نوجوان گزرا جس پر ان جوڑوں میں سے ایک جوڑا تھا (جو اتنا بڑا تھا کہ) وہ اسے زمین پر گھسیٹتا ہوا جا رہا تھا۔ مجھے حضور ﷺ کی یہ بات یاد آگئی کہ میرے بعد تم دیکھو گے کہ دوسروں کو ترجیح دی جائے گی۔ تو میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔ ایک آدمی نے جا کر حضرت عمر ؓ کو میرا یہ جملہ بتا دیا۔ حضرت عمر ( میرے پاس) آئے میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا۔ انھوں نے آکر کہا: اے اُسید! نماز پوری کرلو۔ چناںچہ جب میں نے نماز پوری کرلی تو انھوں نے کہا: تم نے کیسے کہا؟ میں نے انھیں ساری بات بتائی۔ حضرت عمر نے کہا: (یہ جوڑا بڑا تھا) میں نے یہ جوڑا فلاں (اَنصاری) صحابی کے پاس بھیجا تھا جو غزوۂ بدر اور غزوہ ٔاُحد میں اور بیعت العَقَبہ میں شریک ہوئے تھے (چوں کہ اُن کے دینی فضائل زیادہ تھے اس لیے میں نے اُن کو تم سے بڑا جوڑا دیا تھا)۔ اس جوان نے جاکر ان انصاری صحابی سے یہ جوڑا خرید لیا اور اسے پہن لیا (میں نے اس قریشی جوان کو نہیں دیا)۔ کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ (اَنصار پر دوسروں کو ترجیح دینے کی) یہ بات میرے زمانہ میں ہوگی؟ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! اللہ کی قسم! میرا بھی یہی خیال تھا کہ یہ بات آپ کے زمانہ میں نہیں ہوگی۔1
حضرت محمد بن مَسْلَمہؓ فرماتے ہیں کہ میں مسجد کی طرف چلا تو میں نے ایک قریشی آدمی کو دیکھا جس پر ایک جوڑا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا: تمہیں یہ جوڑا کس نے دیا؟ اس نے کہا: امیر المؤمنین نے۔ میں کچھ آگے گیا تو ایک اور قریشی آدمی کو دیکھا جس پر ایک جوڑا تھا۔ میں نے پوچھا: تمہیں یہ جوڑا کس نے دیا؟ اس نے کہا: امیر المؤمنین نے۔ پھر میں کچھ آگے گیا تو مجھے فلاں بن فلاں اَنصاری ملا، اس نے پہلے دونوں جوڑوں سے کم درجہ کا جوڑا پہن رکھا تھا۔ میں نے کہا: تمہیں یہ جوڑاکس نے دیا؟ اس نے کہا: امیر المؤمنین نے ۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت محمد بن مَسْلَمہؓ اس کے بعد مسجد میں گئے اور انھوں نے زور سے کہا: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا۔ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا۔ حضرت عمر ؓ نے اُن کی آواز سن لی تو اُن کے پاس پیغام بھیجا کہ میرے پاس آؤ۔ حضرت محمد بن مَسْلَمہ نے کہا: میں دو رکعت نماز پڑھ کر آتا ہوں۔ حضرت عمر نے دوبارہ قاصد بھیج دیا کہ حضرت عمر قسم دے رہے ہیں کہ تم ابھی آؤ۔ حضرت محمد بن مَسْلَمہ نے کہا: میں بھی اپنے آپ کو قسم دیتا ہوں کہ جب تک دو رکعت نماز پڑھ نہیں لوں گا میں اُن کے پاس نہیں جاؤں گا۔ اور یہ کہہ کر نماز شروع کردی۔
حضرت عمر آئے اور اُن کے پہلو میں بیٹھ گئے۔ جب وہ اپنی نماز پوری کرچکے تو اُن سے حضرت عمر نے کہا: مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے رسول اللہ ﷺ کی نماز پڑھنے کی جگہ میں یعنی ان کی مسجد میں یہ جملے زور سے کیوں کہے کہ اَللّٰہُ أَکْبَرُ ، اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا؟ انھوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں مسجد کو آرہا تھا کہ راستہ میں مجھے فلاں بن فلاں قریشی ملا اس نے ایک جوڑا پہنا ہوا تھا، میں نے کہا: تمہیں یہ جوڑا کس نے دیا؟ اس نے کہا: امیر المؤمنین نے۔ میں کچھ آگے بڑھا تو مجھے فلاں بن فلاں قریشی ملا اس نے بھی ایک جوڑا پہنا ہوا تھا، میں نے کہا: تمہیں یہ جوڑا کس نے دیا؟ اس نے کہا: امیر المؤمنین نے۔ پھر میں آگے گیا تو فلاں بن فلاں اَنصاری ملا اس نے پہلے دونوں جوڑوں سے کم درجہ کاجوڑا پہن رکھا تھا، میں نے کہا: تمہیں یہ جوڑا کس نے دیا؟ اس نے کہا: امیر المؤمنین نے۔ اور حضور ﷺ نے (ہم اَنصار سے) فرمایا تھا کہ تم میرے بعد دیکھوگے کہ دوسروں کو تم پر ترجیح دی جائے گی۔ اے امیر المؤمنین! میں یہ نہیں پسند کرتا تھا کہ یہ کام تمہارے ہاتھوں سے ہو۔ حضرت عمر رو پڑے اور کہا: اس دفعہ کی تو میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں آیندہ ایسے نہیں کروں گا۔ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد کبھی یہ بات دیکھنے میں نہیں آئی کہ حضرت عمر نے قریش کے کسی آدمی کو اَنصار کے کسی آدمی پر ترجیح دی ہو۔ 1
حضرت زید بن ثابت ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ ؓ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اُن کے ساتھ ان کے صاحب ز ادے بھی تھے۔ انھوں نے حاضر ہو کر سلام کیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: یہاں اور یہاں۔ اور انھیں اپنی دا ہنی طرف بٹھایا اور فرمایا: خوش آمدید ہو اَنصار کو، خوش آمدید ہو اَنصار کو۔ (اور حضورﷺ کے اِکرام) میں حضرت سعد نے اپنا بیٹا حضور ﷺ کے سامنے کھڑا کر دیا۔ آپ نے اس سے فرمایا: یہاں بیٹھ جاؤ۔ وہ بیٹھ گیا۔پھر آپ نے فرمایا: قریب آجاؤ۔ وہ قریب آگیا۔ اور اس نے حضور ﷺ کے دونوں ہاتھوں اور قدم مبارک کا بوسہ لیا۔ حضور ﷺ نے (خوش ہوکر) فرمایا: میں اَنصار میں سے ہوں اور میں اَنصار کی اولاد میں سے ہوں۔ حضرت سعدنے کہا: اللہ آپ کا ایسے اِکرام فرمائے جیسے آپ نے ہمارا اِکرام کیا۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میرے اِکرام سے پہلے آپ لوگوں کا اِکرام فرمایا ہے۔ تم میرے بعد دیکھوگے کہ دوسروں کو تم پر ترجیح دی جائے گی، تم صبر کرتے رہنا یہاں تک کہ حوض پر آکر مجھ سے مل لینا۔ 2
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت جریرؓ ایک سفر میں میرے ساتھ تھے ،اور میری بہت خدمت کرتے تھے، تو انھوں نے کہا: میں نے انصار کو حضورﷺ کے ساتھ (اکرام و محبت کا) معاملہ کرتے ہوئے دیکھا ہے اس لیے میں انصار میں سے جسے بھی دیکھتا ہوں اس کی ضرور خدمت کرتا ہوں۔1
حضرت حبیب بن ابی ثابت کہتے ہیںکہ حضرت ابو ایوب (اَنصاری) ؓ حضرت معاویہ ؓ کے پاس گئے اور ان سے اپنے قرضے کی شکایت کی (کہ قرضہ ادا کرنے کے لیے کچھ دے دیں)۔ لیکن حضرت ابو ایوب نے حضرت معاویہ سے (تعاون کا) وہ رخ نہ دیکھا جسے وہ چاہتے تھے،بلکہ (بے رخی کا ) وہ انداز دیکھا جو انھیں پسند نہ تھا۔ تو انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ (اے اَنصار!) تم میرے بعد دیکھوگے کہ دوسروں کو تم پر ترجیح دی جائے گی۔ حضرت معاویہ نے کہا: پھر حضور ﷺ نے تم سے کیا کہا تھا؟ انھوں نے کہا: حضورﷺ نے فرمایا تھا کہ صبر کرنا۔ حضرت معاویہ نے کہا: تو پھر صبر کرو۔ حضرت ابو ایوب نے کہا: اللہ کی قسم! آج کے بعد تم سے کبھی کوئی چیز نہیں مانگوں گا۔ پھر حضرت ابو ایوب بصرہ گئے اور حضرت ابنِ عباس ؓ کے ہاں ٹھہرے۔ انھوں نے حضرت ابو ایوب کو اپنا مکان خالی کر کے دے دیا اور کہا: میں تمہارے ساتھ ویسا ہی معاملہ کروں گا جیسا تم نے حضور ﷺ کے ساتھ کیا تھا۔ چناںچہ اپنے گھر والوں سے کہا، وہ سب گھر سے باہر آگئے۔ اور حضرت ابنِ عباس نے ان سے کہا کہ گھر میں جتنا سامان ہے وہ بھی سارا آپ کا ہے۔ اور انھیں چالیس ہزار اور بیس غلام بھی مزید دیے۔ 2
’’طبرانی‘‘ کی روایت میں آخر میں اس طرح ہے کہ پھر حضرت ابوایوب ؓ بصرہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے پاس آئے۔ انھیں حضرت علی ؓ نے بصرہ کا گورنر مقرر کر رکھا تھا ۔ انھوں نے کہا: اے ابو ایوب! میں یہ چاہتا ہوں کہ میں اپنے اس مکان سے باہر آجاؤں اور یہ آپ کو دے دوں جیسے آپ نے حضور ﷺ کے لیے کیا تھا۔ چناںچہ انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا، وہ سب گھر سے باہر آگئے اور گھر کے اندر جتنا سامان تھا وہ سارا اُن کو دے دیا۔ جب حضرت ابو ایوب وہاں سے جانے لگے تو حضرت ابنِ عباس نے ان سے پوچھا: آپ کو کتنی ضرورت ہے؟ انھوں نے کہا: میرا مقرر کردہ وظیفہ اور آٹھ غلام جو کہ میری زمین میں کام کرسکیں۔ حضرت ابو ایوب ؓ کا وظیفہ چار ہزار تھا، حضرت ابنِ عباس نے اسے پانچ گنا کردیا، چناںچہ ان کو بیس ہزار اور چالیس غلام دیے۔ 1
حضرت حسّان بن ثابت ؓ فرماتے ہیں کہ ہم اَنصار کو حضرت عمر یا حضرت عثمان ؓ سے ایک ضروری کام تھا۔ راوی ابنِ ابی الزِّناد کو شک ہوا ہے کہ حضرت عمر کانام لیا تھا یا حضرت عثمان کا۔ ہم لوگ عبداللہ بن عباس ؓ کو اور حضور ﷺ کے چند صحابہ ؓ کو (سفارش کے لیے) ساتھ لے کر گئے۔ چناںچہ (ہماری سفارش کے لیے) حضرت ابنِ عباس نے بھی گفتگو کی اور باقی صحابہ نے بھی کی اور ان سب نے اَنصار کا اور اُن کے مناقب اور فضائل کا خوب تذکرہ کیا، لیکن والی نے (قبول کرنے سے) عذر کر دیا۔ حضرت حسان فرماتے ہیں کہ ہم جس کام کے لیے گئے وہ بہت اہم تھا، ہمیں اس کی شدید ضرورت تھی۔ وہ والی ان حضرات سے اپنی بات کو بار بار دُہراتے رہے یہاں تک کہ اور صحابہ تو انھیں معذور سمجھ کر وہاں سے (ناامید ہوکر) کھڑے ہوگئے، لیکن حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا: نہیں، اللہ کی قسم! پھر تو اَنصار کا کوئی مرتبہ اور درجہ نہ ہوا۔
انھوں نے حضور ﷺ کی نصرت کی اور ٹھکانا دیا اور پھر اُن کے فضائل ذکر کرنے لگ گئے اور (حضرت حسّان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) یہ بھی کہا: یہ حضور ﷺ کے شاعر ہیں جو حضور ﷺ کی طرف سے دفاع کیا کرتے تھے۔ غرضیکہ حضرت ابنِ عباس والی کے سامنے جامع اور مدلّل کلام پیش کرتے رہے اور والی کی ہر دلیل کا جواب دیتے رہے، آخرو الی نے جب کوئی چارہ نہ دیکھا تو ہمارا کام کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری ضرورت ان کی زور دار گفتگو کے ذریعہ سے پوری کردی۔
ہم وہاں سے باہر آئے۔ میں نے حضرت عبداللہ کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا میں اُن کی تعریف کر رہا تھا اور اُن کے لیے دعا کر رہا تھا۔ پھر میں مسجد میں ان صحابہ کے پاس سے گزرا جو حضرت عبداللہ کے ساتھ (والی کے پاس)گئے تھے، لیکن انھوں نے حضرت عبداللہ جتنا زور نہیں لگایا تھا۔ میں نے بلند آواز سے اس طرح کہا کہ یہ حضرات بھی سن لیں کہ ابنِ عباس کو ہمارے ساتھ آپ لوگوں سے زیادہ لگاؤ اور تعلق ہے (آج ہمارے حق میں یہ بہتر ثابت ہوئے)۔ انھوں نے کہا: بے شک۔ پھر میں نے حضرت عبداللہ سے کہا: یہ نبوت کے بقیہ اثرات ہیں اور اَحمد ﷺ کی وراثت ہے جس کے یہ تم سے زیادہ حق دار ہیں۔ پھر میںنے حضرت عبداللہ کی تعریف میں یہ اَشعار کہے:
إِذَا قَالَ لَمْ یَتْرُکْ مَقَالًا لِّقَائِلِ
بِمُلْتَفَظَاتٍ لاَّ تَرٰی بَیْنَھَا فَضْلًا
وہ (ابنِ عباس) جب بات کرتے ہیں تو ایسی جامع اور زور دار بات کرتے ہیں جس میں تمہیں کوئی بے کار زائد بات نظر نہ آئے گی، اور وہ کسی کے لیے مزید بات کرنے کی گنجایش نہیں چھوڑ تے ہیں۔
کَفٰی وَشَفٰی مَا فِي الصُّدُوْرِ فَلَمْ یَدَعْ
لِذِی إِرْبَۃٍ فِي الْقَوْلِ جِدًّا وَّلَا ھَزْلًا
ان کی گفتگو تمام پہلوؤں کے لیے کافی ہوتی ہے اور سب کے دل اس سے مطمئن ہوجاتے ہیں، ضرورت مند کے لیے مزید کسی قسم کی بات کرنے کی گنجایش نہیں چھوڑ تے ہیں۔
سَمَوْتَ إِلَی الْعُلْیَا بِغَیْرِ مَشَقَّۃٍ
فَنِلْتَ ذُرَاھَا لاَ دَنِیًّا وَّلاَ وَغْلاً
(اے ابنِ عباس!) آپ بلند ہوکر بغیر مشقت کے عالی مرتبہ پر پہنچ گئے اور اس کی انتہائی بلندی پر پہنچ گئے۔ آپ نہ کمینے ہیں اور نہ کمزور۔ 1
طبرانی کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت حسّان ؓ نے کہا: یہ (ابنِ عباس ؓ انصار کے لیے) اس (جذبۂ شفقت) کے تم سے زیادہ حق دار ہیں۔ اور اللہ کی قسم! یہ تو نبوت کے بقیہ اثرات ہیں اور اَحمد ﷺ کی وراثت ہیں، اور ان کی خاندانی اصل اور ان کی طبیعت کی عمدگی ان تمام باتوں میں ان کی رہبری کرتی ہے۔ لوگوں نے کہا: اے حسّان! ذرا مختصر بات کرو۔
حضرت ابنِ عباس نے کہا: ہاں، یہ لوگ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ تو حضرت حسان حضرت ابنِ عباس کی تعریف میں یہ اَشعار پڑھنے لگے:
إِذا مَا ابْنُ عَبَّاسٍ بَدَا لَکَ وَجْھُہٗ
رَأَیْتَ لَہٗ فِيْ کُلِّ مَجْمَعَۃٍ فَضْلًا
جب ابنِ عباس کا چہرہ تمہارے سامنے ظاہر ہوگا تو تم ہر مجمع میں اس کے لیے فضیلت دیکھوگے۔
پھر پچھلے مذکورہ تین اَشعار ذکر کیے اور اس کے بعد اس شعر کا اضافہ کیا:
خُلِقْتَ حَلِیْفًا لِّلْمُرُوْئَ ۃِ وَالنَّدٰی
بَلِیْغًا وَلَمْ تُخْلَقْ کَھَامًا وَّلَا حَلاًّ
تم مُروّت اور سخاوت کے حلیف بناکر اور فصیح وبلیغ بناکرپیدا کیے گئے ہو اور تم پھوہڑ، سست اور بے کار نہیں پیدا کیے گئے۔
اس پر اس والی نے کہا: اللہ کی قسم! اس نے سست کہہ کر مجھے ہی مراد لیا ہے کسی اور کومراد نہیں لیا۔ اور اللہ ہی میرے اور اس کے درمیان فیصلہ کریں گے۔