صحابۂ کرام ؓکی دینِ اسلام کی نصرت کے لئے کوشش کرنا
خلافت کے بارے میں انصار ؓ کا ایثار
حضرت حُمید بن عبدالرحمن حِمْیَرِی کہتے ہیں کہ جس وقت حضور ﷺ کا انتقال ہوا اس وقت حضرت ابو بکر ؓ مدینہ کے آخری کنارے میں (اپنے گھر گئے ہوئے) تھے۔ چناںچہ وہ آئے اور حضور ﷺ کے چہرہ ٔاَنور سے چادر ہٹا کر کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ زندگی میں بھی اور وفات کے بعد بھی کیا ہی عمدہ اور پاکیزہ ہیں۔ ربِّ کعبہ کی قسم! محمد ﷺ دنیا سے تشریف لے جاچکے۔ (اَنصار کے سقیفہ بنو ساعدہ میں خلافت کے بارے میں مشورہ کے لیے جمع ہونے کی اِطلاع ملنے پر) حضرت ابو بکر اورحضرت عمر ؓ تیزی سے چلے۔ وہاں پہنچ کر حضرت ابو بکر نے گفتگو فرمائی، اَنصار کے بارے میں قرآن میں جو کچھ نازل ہوا تھا اور حضور ﷺ نے ان کے بارے میں جو کچھ فرمایا تھا وہ سب حضرت ابوبکر نے ذکر کردیا، اور یہ بھی فرمایا کہ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور اَنصار دوسری وادی میں چلیں تومیں اَنصار کی وادی میں چلوں گا۔ اور اے سعد! تمہیں بھی یہ معلوم ہے کہ ایک دفعہ تم بیٹھے ہوئے تھے اور تمہاری موجودگی میں حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ قریش اس امرِ (خلافت) کے والی ہوں گے۔ نیک لوگ قریش کے نیک آدمیوں کے تابع ہوں گے، اور برے لوگ قریش کے برے آدمیوں کے تابع ہوں گے۔ حضرت سعد نے حضرت ابو بکر سے کہا: آپ نے سچ فرمایا، لہٰذا ہم لوگ وزیر (یعنی آپ لوگوں کے مددگار) ہوں گے اور آپ حضرات امیر۔ 1
حضرت ابو سعید خُدرِی ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ کا انتقال ہوگیا تو (سقیفہ بنو ساعدہ میں اَنصار جمع ہوئے اور) اَنصار کے لوگ کھڑے ہوکر اپنی اپنی رائے ظاہر کرنے لگے۔ چناںچہ ان میں سے ایک آدمی نے کہا: اے مہاجرین کی جماعت! جب حضور ﷺ تم میں سے کسی کو امیر بناتے تو اس کے ساتھ ہمارا ایک آدمی ضرور لگا دیتے، اس لیے ہمارا خیال یہ ہے کہ اس امرِ خلافت کے والی دو آدمی ہوں ایک آدمی آپ لوگوں میں سے ہو اور دوسرا ہم میں سے ہو (یعنی دو آدمی خلیفہ ہونے چاہییں ایک مہاجری اور دوسرا انصاری)۔ اور انصار میں سے جو بھی رائے دینے کے لیے کھڑا ہوا اس نے یہی کہا۔ پھر حضرت زید بن ثابت ؓ نے کھڑے ہوکر کہا کہ رسول اللہ ﷺ مہاجرین میں سے تھے لہٰذا اب اِمام بھی مہاجرین میں سے ہونا چاہیے، اور ہم لوگ اس کے معاون و مددگار ہوں گے جیسے کہ ہم لوگ حضور ﷺ کے معاون اور مددگار تھے۔ اس پر حضرت ابوبکر نے کھڑے ہوکر کہا: اے جماعتِ اَنصار! اللہ تمہیں جزائے خیر عطا فرمائے اور تمہارے اس بولنے والے کو ثابت قدم رکھے۔ اللہ کی قسم! اگر تم اس کے علاوہ کچھ اور کرتے تو ہماری تم سے صلح نہ ہوتی۔ پھر حضرت زید بن ثابت نے حضرت ابو بکر کا ہاتھ پکڑ کر کہا: یہی تمہارے خلیفہ ہیں ان سے بیعت ہوجاؤ ۔2
حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ کا انتقال ہوا تو حضراتِ اَنصار ؓ حضرت سعد بن عبادہ ؓ کے پاس جمع ہوئے۔ پھر حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت ابوعبیدہ بن جرّاح ؓ بھی ان حضرات کے پاس آگئے۔ چناںچہ حضرت حُباب بن المنذر ؓ جو کہ بدری صحابی ہیں انھوں نے کھڑے ہوکر کہا کہ ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک امیر تم میں سے۔ اللہ کی قسم! اے جماعتِ (مہاجرین!) ہم اس اِمارت میں تم سے حسد نہیں رکھتے ہیں، لیکن ہمیں اس بات کا خطرہ ہے کہ کہیں یہ اِمارت ان لوگوں کے ہاتھ میں نہ آجائے جن کے باپ اور بھائیوں کو ہم نے (مختلف غزوات میں) قتل کیا ہے (اور وہ لوگ امیر بن کر ہم سے انتقام لینے لگ جائیں)۔ تو ان سے حضرت عمر ؓ نے کہا کہ جب ایسا ہو تو تمہیں (ان کے مقابلہ میں) مر جانا چاہیے۔ پھر حضرت ابو بکر نے گفتگو فرمائی اور فرمایا: ہم امیر ہوں اور تم وزیر (امیر کے مددگار) اور یہ اِمارت ہمارے اور تمہارے درمیان بالکل دو برابر حصوں میں ہو جیسے کہ کھجور کا پتّا بالکل دو برابر حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔
چناںچہ حضرت بشیربن سعد ابو النعمان ؓ نے لوگوں میں سے سب سے پہلے (حضرت ابوبکر ؓ سے) بیعت کی۔ جب تمام لوگ حضرت ابو بکر ( کے خلیفہ بننے) پر متفق ہوگئے تو انھوں نے لوگوں میں کچھ مال تقسیم کیا اور انھوں نے حضرت زید بن ثابت ؓ کے ذریعہ بنو عدی بن نجار قبیلہ کی ایک بڑھیا کے پاس اس کا حصہ بھیجا۔ اس نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ حضرت زید نے کہا: حضرت ابو بکر نے (مال تقسیم کیا ہے اور اس میں سے) عورتوںکو بھی اتنا حصہ دیا ہے۔ اس بڑھیا نے کہا: کیا تم مجھے دین پر رشوت دیتے ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ اس بڑھیا نے کہا: کیا تمہیں اس بات کا ڈر ہے کہ میں جس دین پر قائم ہوں اسے چھوڑ دوں گی؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ اس پر اس بڑھیا نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس میں سے کچھ نہیں لوں گی۔ چناںچہ حضرت زید نے واپس آکر حضرت ابو بکر کو اس بڑھیا کی ساری بات بتائی تو حضرت ابوبکر نے کہا: ہم بھی اس بڑھیا کو جو دے چکے ہیں اس میں سے کچھ نہیں لیں گے۔ 1