صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا
ضرت ابو بکر ؓ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا
حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ کا وصال ہوا تو مدینہ میں نفاق سر اُٹھاکر دیکھنے لگا اور عرب کے لوگ مرتد ہونے لگے اور عجم کے لوگ ڈرانے دھمکانے لگے۔ اور انھوں نے آپس میں نِہاوند میں جمع ہونے کا معاہدہ کر لیا اور یہ کہا کہ یہ آدمی مرگیا ہے جس کی وجہ سے عربوں کی مدد ہو رہی تھی۔ چناںچہ حضرت ابوبکر ؓ نے مہا جرین اور اَنصار کو جمع کرکے فرمایا: عربوں نے زکوٰۃ کی بکریا ں اور اُونٹ روک لیے ہیں اور اپنے دین سے منہ موڑ گئے ہیں۔ ان عجم والوں نے تم سے جنگ کرنے کے لیے نِہاوند میں اِکٹھا ہونا آپس میں طے کرلیا ہے۔ اور وہ یوں سمجھتے ہیں کہ جس ذات ِاَقدس کی وجہ سے تمہاری مدد کی جا رہی تھی وہ دنیا سے رخصت ہوگئی۔ اب آپ لوگ مجھے مشورہ دیں ( کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہیے) کیوں کہ میں بھی تم میں کا ایک آدمی ہوں اور اس آزمایش کا تم سب سے زیا دہ بوجھ مجھ پر ہے۔ چناںچہ وہ حضرات بہت دیر تک گردن جھکا کر سوچتے رہے۔ پھر حضرت عمر بن خطّاب ؓ بولے کہ اللہ کی قسم! اے خلیفۂ رسول اللہ! میرا خیال یہ ہے کہ آپ عربوں سے نماز قبول کرلیں اور زکوٰۃ کو اُن پر چھوڑ دیں، کیوںکہ وہ ابھی ابھی جاہلیت چھوڑ کر آئے ہیں۔ اِسلام نے ان کو ابھی پوری طرح تیار نہیں کیا (ان کی دینی تربیت کا پورا موقع نہیں مل سکا)، پھر یا تو اللہ تعالیٰ انہیں خیر کی طرف واپس لے آئیں گے، یا اللہ تعالیٰ اِسلام کو عزّت عطا فرمائیں گے تو ہم میں اُن سے لڑنے کی طاقت پیدا ہوجائے گی۔ ان بقیہ مہاجرین اور اَنصار میں تمام عرب اور عجم سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے۔
پھر حضرت ابوبکر نے حضرت عثمان ؓ کی طرف اِلتفات فرمایا انھوں نے بھی ایسا ہی فرمایا، اور حضرت علی ؓ نے بھی ایسا ہی فرمایا، حضراتِ مہاجرین نے بھی ایسی ہی رائے دی۔ پھر حضرت ابوبکر نے حضراتِ اَنصار کی طرف اِلتفات فرمایا انھوں نے بھی یہی رائے دی۔ یہ دیکھ کر حضرت ابوبکر منبر پر تشریف لے گئے اور اللہ کی حمد وثنا بیان کی اور پھر فرمایا: اَما بعد! جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا تو اس وقت حق بہت کم اور بے سہارا تھا، اور اِسلام بالکل اجنبی اور ٹھکرایا ہوا تھا۔ اس کی رسی کمزور ہو چکی تھی، اس کے ماننے والے بہت کم تھے۔ ان سب کو اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے ذریعہ سے جمع فرمایا اور ان کو باقی رہنے والی سب سے افضل اُمت بنایا۔ اللہ کی قسم! میں اللہ کی بات کو لے کر کھڑا رہوں گا اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا رہوں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کو پورا فرما دے، اور اپنے عہد کو ہمارے لیے وفا فرما دے۔ چناںچہ ہم میں سے جو مارا جائے گا وہ شہید ہو کر جنت میں جائے گا، اور ہم میں سے جو باقی رہے گا وہ اللہ کی زمین میں اللہ کا خلیفہ بن کر اور اللہ کی عبادت کا وارث بن کر رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے حق کو مضبوط فرمایا۔ اللہ تعا لیٰ نے فرمایا ہے اور اُن کے فرمان کے خلاف نہیں ہوسکتاہے:
{وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ}۔1
وعدہ کر لیا اللہ نے ان لوگوں سے جو تم میں ایمان لائے ہیں اور کیے ہیں انھوں نے نیک کام، البتہ پیچھے حاکم کر دے گا اُن کو ملک میںجیسا حاکم کیا تھا ان سے اگلوں کو۔
اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ مجھے وہ رسی دینے سے اِنکار کر دیں جسے وہ حضور ﷺ کو دیا کرتے تھے اور پھر درخت اور پتھر اور تمام انسانوں اور جنّات ان کے ساتھ مل کر مقابلہ پر آجائیں تو بھی میں ان سے جہاد کروں گا، یہاں تک کہ میری روح اللہ سے جا ملے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے نہیں کیا کہ پہلے نماز اور زکوٰۃ کو الگ الگ کر دیا ہو پھر ان دونوں کو اِکٹھا کر دیا ہو (لہٰذا میں یہ کیسے کرسکتا ہوں کہ عرب کے لوگ صرف نماز پڑھیں اور زکوٰۃ نہ دیں اور میں انھیں کچھ نہ کہوں)۔ یہ سن کر حضرت عمر نے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہا اور فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ابوبکر کے دل میں ان (مانعینِ زکوٰۃ) سے جنگ کرنے کا پختہ عزم پیدا فرما دیا ہے تو اب مجھے بھی یقین ہو گیا ہے کہ یہی حق ہے۔ 2
حضرت صالح بن کیسان فرماتے ہیں کہ (حضور ﷺ کے انتقال کے بعد) جب ارتداد پھیلنے لگا تو حضرت ابو بکر ؓ نے کھڑے ہو کر اللہ کی حمد وثنا بیان فرمائی اور پھر فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہدایت دی اور وہی کافی ہوگیا (کسی اور سے ہدایت لینے کی ضرور ت نہیں )۔ اور جس نے اتنا دیا کہ کسی سے لینے کی ضرورت نہ رہی غنی بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو اس حال میں مبعوث فرمایا تھا کہ (اللہ والا) علم بے سہارا تھا اور اِسلام اجنبی اور ٹھکرایا ہوا تھا، اس کی رسی کمزور ہو چکی تھی، اور اِسلام کا زمانہ پرانا ہوچکا تھا (اب اس کا نام لینے والا کوئی نہ رہا تھا) اور اِسلام والے اِسلام سے بھٹک چکے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ اہلِ کتاب پر ناراض تھے، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں جو بھی خیر دی تھی وہ اُن کی کسی خوبی کی وجہ سے نہیں دی تھی۔ اور چوں کہ ان کے پاس (برائیاں ہی برائیاں) اور شر ہی شر تھا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان سے برے حالات کو نہیں ہٹایا تھا۔ اور انھوں نے اللہ کی کتاب کو بدل دیا تھا اور اس میں بہت سی باہر کی باتیں شامل کر دی تھیں۔ اور اَن پڑھ عرب اللہ سے بالکل بے تعلق تھے، نہ وہ اللہ کی عبادت کرتے تھے اور نہ اس سے دعا کرتے تھے۔ وہ سب سے زیادہ تنگ معیشت والے تھے، اور ان کا دین سب سے زیادہ گمراہی والا تھا، وہ سخت اور بے کار زمین کے رہنے والے تھے (یہ حالات تھے۔ اور) حضور ﷺ کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت تھی جن کو اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی برکت سے جمع فرما دیا اور اُن کو سب سے افضل اُمت بنا دیا اور اُن کا اِتباع کرنے والوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اُن کی مدد فرمائی اور دوسروں پر اُن کو غالب فرمایا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اپنے ہاں بلا لیا۔ اور اب ان عربوں پر شیطان اسی جگہ سوار ہونا چاہتا ہے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے اسے اُتارا تھا، وہ ان کے ہاتھ پکڑ کر انھیں ہلاک کرنا چاہتا ہے اور یہ آیت پڑھی:
{وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْْلٌج قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُط اَفَاOئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰی اَعْقَابِکُمْط وَمَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیْئًاط وَسَیَجْزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیْنَ O}1
اور محمد (ﷺ) تو ایک رسول ہے، ہوچکے اس سے پہلے بہت رسول۔ پھر کیا اگر وہ مر گیا یا مارا گیا تو تم پھر جائو گے اُلٹے پائوں، اور جو کوئی پھر جائے گا اُلٹے پائوں تو ہرگز نہ بگاڑے گا اللہ کا کچھ، اور اللہ ثواب دے گا شکر گزاروں کو۔
تمہارے آس پاس کے عربوں نے زکوٰۃ کی بکریا ںاور اُونٹ دینے سے اِنکار کر دیا ہے اگرچہ یہ آج اپنے دین کی طرف واپس چلے گئے ہیں، لیکن پہلے بھی ان کا اپنے دین کی طرف میلان اتنا ہی تھا جتنا کہ آج ہے۔ اور آج اگرچہ تم اپنے نبی کی برکتوں سے محروم ہوچکے ہو، لیکن تم اپنے دین پر اتنا ہی پختہ ہو جتنا کہ تم (اُن کی موجودگی میں ) پختہ تھے (پہلے کو ئی آج سے زیادہ پختہ نہیں تھے۔ اور اگر چہ تمہارے نبی چلے گئے لیکن )وہ تمہیں اس اللہ کے حوالے کر کے گئے ہیں جو ہر طرح کفایت فرمانے والے ہیں۔ اور وہ سب سے پہلے تھے جنھوں نے حضور ﷺ کو (شریعت سے )بے خبر پایا سو حضور ﷺ کو (شریعت کا) راستہ دکھایا، اور جنھوں نے حضور ﷺ کو نادار پایا سو مال دار بنا دیا۔ اور تم لوگ آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے اس نے تمہیں اس (میں گرنے )سے بچالیا۔
اللہ کی قسم! میں اللہ کے لیے لڑوں گا اور اس لڑنے کو ہر گز نہیں چھوڑوں گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کو پورا کر دے اور ہم سے اپنے عہد کو وفا کردے۔ ہم میں سے جو مارا جائے گا وہ شہید اور جنتی ہوگا، اور ہم میں سے جو باقی رہے گا وہ اللہ کا خلیفہ بن کر اس کی زمین میں اس کا وارث ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے حق کو مضبوط فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے خلاف نہیں ہو سکتا اور ان کا فر مان یہ ہے:
{وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ}1
یہ فرما کر منبر سے نیچے اُتر آئے۔2
حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جب عرب کے لوگ مرتد ہوگئے اور تمام مہاجرین کی ایک ہی رائے تھی اور میںبھی اس رائے میں اُن کے ساتھ تھا (کہ مانعینِ زکوٰۃسے جنگ نہ کی جائے) تو ہم نے عرض کیا : یا خلیفۃ رسول اللہ! آپ لوگوں کو چھوڑ دیں کہ وہ نماز پڑھتے رہیں اور زکوٰۃنہ دیں (آپ ان سے جنگ نہ کریں)، کیوںکہ جب ایمان ان کے دلوں میں داخل ہو جائے گا تو وہ زکوٰۃ کا بھی اِقرار کر لیں گے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! جس چیز پر حضور ﷺ نے جنگ کی ہے میں اسے چھوڑ دوں اس سے زیادہ مجھے یہ محبوب ہے کہ میں آسمان سے (زمین پر) گر پڑوں۔ لہٰذا میں تو اس چیز پر ضرور جنگ کروں گا۔چناںچہ حضرت ابوبکر نے (زکوٰۃ نہ دینے پر) عربوں سے جنگ کی یہاں تک کہ وہ پورے اِسلام کی طرف واپس آگئے۔ حضرت عمر نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! ابوبکر کا یہ ایک دن خاندانِ عمر (کی زندگی بھر کے اعمال) سے بہتر ہے۔ 3
حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ کا وصال ہو گیا تو عرب کے بہت سے لوگ مرتد ہو گئے اور کہنے لگے: ہم نماز تو پڑھیں گے مگر زکوٰۃ نہیں دیں گے۔ میں نے حضرت ابوبکر کی خدمت میں آکر عرض کیا: یا خلیفۃ رسول اللہ! آپ لوگوں کے ساتھ تالیف کا معاملہ کریں اور اُن کے ساتھ نرمی برتیں، کیوںکہ یہ لوگ وحشی جانوروں کی طرح سے ہیں۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا: مجھے تو اُمید تھی کہ تم میری مدد کرو گے، لیکن تم تو میری مدد چھوڑ کر میرے پاس آئے ہو۔ تم جاہلیت میں تو بڑے زور دار تھے اِسلام میں بڑے بودے اور کمزور ہوگئے ہو۔ مجھے کس چیز کا ڈر ہے کہ میں من گھڑت اَشعار اور گھڑے ہوئے جادو کے ذریعے سے ان (منکرینِ زکوٰۃ) کی تالیف کروں؟ افسوس صدا فسوس! حضور ﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے اور وحی کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ اللہ کی قسم! جب تک میرے ہاتھ میں تلوار پکڑنے کی طاقت ہے میں ان سے ایک رسی کے روکنے پر بھی ضرور جہاد کروں گا۔ حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں نے اُن کو اپنے سے زیادہ قوتِ نفاذ والا، اپنے سے زیادہ پختہ عزم والا پایا۔ اور انھوں نے لوگوں کو کام کرنے کے ایسے بہترین طریقے بتائے اور اُن کو اس طرح ادب سکھایا کہ جب میں خلیفہ بنا تو لوگوں کے بہت سے دشوار کام مجھ پر آسان ہو گئے۔1
حضرت ضَبَّہ بن محصن عنزی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر ؓ سے عرض کیا کہ آپ حضرت ابوبکر ؓ سے افضل ہیں؟ یہ سن کر حضرت عمر رو پڑے، اور فرمایا: اللہ کی قسم! ابو بکر کی ایک رات اور اُن کا ایک دن عمر اور عمر کے خاندان (کی زندگی بھر کے اعمال) سے بہتر ہے۔ کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں اُن کی وہ رات اور اُن کا وہ دن بتا دوں؟ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! ضرور۔ انھوں نے فرمایا کہ اُن کی رات تو وہ ہے جس رات حضور ﷺ مکہ والوں سے بھاگ کر نکلے تھے اور حضرت ابوبکر حضور ﷺ کے ساتھ ساتھ تھے۔ آگے وہ حدیث ذکر کی جو ہجرت کے باب میںصفحہ ۴۴۸ پر گزر چکی۔ پھر فرمایا: اور اُن کا دن وہ ہے جس دن حضور ﷺ کا وصال ہوا اور عرب کے لوگ مرتد ہو گئے۔ ان میں سے کچھ کہنے لگے: ہم نماز تو پڑھیں گے لیکن زکوٰۃ نہیںدیں گے ، اور کچھ کہنے لگے: ہم نہ نماز پڑھیںگے اور نہ زکوٰۃ دیں گے۔ چناںچہ میں حضرت ابوبکر کی خدمت میں آیا اور میرے جذبہ خیر خواہی میں کچھ کمی نہ تھی، اور میں نے کہا: اے خلیفۂ رسول اللہ! آپ لوگوں کے ساتھ تالیف کا معاملہ کریں۔ آگے پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا۔ 1
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ کا وصال ہو گیا اور آپ کے بعد حضرت ابوبکر ؓ خلیفہ بنے اور بہت سے عرب کافر ہوگئے، تو حضرت عمر ؓ نے کہا: اے ابوبکر! آپ لوگوں سے کیسے جنگ کرتے ہیں جب کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ مجھے لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُنہ کہہ لیں۔ چناںچہ جو بھی لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ پڑھ لے گا وہ مجھ سے اپنے مال اور جان کو محفوظ کر لے گا۔ ہاں! اِسلام کے حقوقِ وا جبہ اس کے مال اور جان سے لیے جائیں گے اور اس کا حساب اللہ کے حوالہ ہوگا(کہ وہ دل سے مسلمان ہوا تھا یا نہیں، یہ اللہ کو معلوم ہے وہی اس کے ساتھ اس کے مطابق معاملہ فرمائیں گے)۔ حضرت ابوبکر نے کہا: نہیں۔ جو آدمی نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا میں اس سے ضرور جنگ کروں گا، کیوںکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے (جیسے کہ نماز جان کا حق ہے)۔ اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ ایک رسی حضور ﷺ کو تو دیا کرتے تھے اور اب مجھے نہیں دیں گے تو میں اس رسی کی وجہ سے بھی ان سے جنگ کروں گا (دین میں ایک رسی کے برابر کمی بھی نہیں برداشت کر سکتا ہوں)۔ حضرت عمر فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! اُن کے یہ کہتے ہی مجھے یقین ہوگیا کہ اللہ نے (مانعینِ زکوٰۃسے) جنگ کرنے کے بارے میں حضرت ابو بکر کا پوری طرح شرح صدر فرما رکھا ہے۔ چناںچہ مجھے بھی سمجھ آگیا کہ یہ (جنگ کرنا) ہی حق ہے۔2