صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کا جہاد کے لیے ترغیب دینا

حضرت محمد، حضرت طلحہ اور حضرت زِیاد ؓ فرماتے ہیں کہ جنگِ قادسیّہ کے دن حضرت سعد ؓ نے بیان فرمایا۔ چناںچہ انھوں نے اللہ کی حمد وثنا بیان کی اور فرمایا: اللہ تعالیٰ حق ہیں اور بادشاہت میں اُن کا کوئی شریک نہیں، اُن کی کسی بات کے خلاف نہیں ہوسکتا۔اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْم بَعْدِ الذِّکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُھَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ O}2 اور ہم نے لکھ دیا ہے زبور میں نصیحت کے پیچھے کہ آخر زمین پر مالک ہوں گے میرے نیک بندے۔ یہ زمین تمہاری میراث ہے اور تمہارے ربّ نے تمہیں یہ دینے کا وعدہ کیا ہوا ہے، اور تین سال سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس زمین کو استعمال کرنے کا موقع دیا ہوا ہے۔ تم خود بھی اس میں سے کھا رہے ہو اور دوسروں کوبھی کھلا رہے ہو، اور یہاں کے رہنے والوں کو قتل کر رہے ہو اور اُن کا مال سمیٹ رہے ہو، اور آج تک اُن کی عورتوں اور بچوں کو قید کر رہے ہو۔ غرضیکہ گذشتہ تمام جنگوں میں تمہارے ناموروں نے ان کو بڑا نقصان پہنچایا ہے اور اب تمہارے سامنے اُن کا یہ بہت بڑا لشکر جمع ہوکر آگیا ہے۔ ( اس لشکر کی تعداد دو لاکھ بتائی جاتی ہے ) اور تم عرب کے سردار اور معزّز لوگ ہو، اور تم میں سے ہر ایک اپنے قبیلہ کا بہترین آدمی ہے، اور تمہارے پیچھے رہ جانے والوں کی عزت تم سے ہی وابستہ ہے۔ اگر تم دنیا کی بے رغبتی اور آخرت کا شوق اختیار کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا اور آخرت دونوں دے دیں گے اور دشمن سے لڑنے سے موت قریب نہیں آجاتی۔ اگر تم بزدل بن گئے اور تم نے کمزو ری دکھائی تو تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی اور تم اپنی آخرت بر باد کر لو گے۔ ان کے بعد حضرت عاصم بن عمرو ؓ نے کھڑے ہو کر کہا: یہ عراق وہ علاقہ ہے کہ جس کے رہنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے مغلوب کر دیا ہے اور تین سال سے تم اُن کا جتنا نقصان کر رہے ہو وہ تمہارا اتنا نہیں کر سکے ہیں، اور تم ہی بلند ہو اور اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ اگر تم جمے رہے اور تم نے اچھی طرح تلوار اور نیزے کو چلایا تو تمہیں اُن کے مال اور اُن کے بیوی، بچے اور اُن کے علاقے سب کچھ مل جائیں گے۔ اور اگر تم نے کمزوری دکھائی اور بزدل بنے (اللہ تمہاری ان باتوں سے حفاظت فرمائے) تو اس لشکر والے تم میں سے ایک کو بھی اس ڈر کی وجہ سے زندہ نہیں چھوڑیں گے کہ تم اُن پر دوبارہ حملہ کرکے اُن کو ہلاک نہ کر دو۔ اللہ سے ڈرو! اللہ سے ڈرو! اور گزشتہ جنگوں کو اور اُن جنگوں میں جو کچھ تمہیں اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اسے یاد کرو۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ تمہارے پیچھے سر زمینِ عرب تو بس بیابان اور چٹیل میدان ہی ہے، نہ تو اس میں کوئی ایسی سایہ کی جگہ ہے جس میں پناہ لی جاسکے اور نہ کوئی ایسی پناہ گاہ ہے جس کے ذریعہ اپنی حفاظت کی جا سکے۔ تم تو اپنا مقصود آخرت کو بناؤ۔ 1