صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا

اللہ کے راستہ میں نکلنے میں دیر کرنے پر اظہارِ نا پسندیدگی

حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے غزوۂ مُوتہ کے لیے ایک جماعت کو بھیجا جن کا امیر حضرت زید کو بنایا اور فرمایا کہ اگر حضرت زید شہید ہوجائیں تو حضرت جعفر امیر ہوں گے، اور اگر حضرت جعفرشہید ہوجائیں تو حضرت ابنِ رواحہ امیر ہوں گے۔ؓ۔ حضرت ابنِ رواحہ ٹھہر گئے اور حضور ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھی۔ حضور ﷺ نے انھیں دیکھا تو فرمایا: تم کیوں ٹھہر گئے اور اپنی جماعت سے پیچھے رہ گئے؟ انھوں نے کہا: آپ کے ساتھ جمعہ پڑھنے کی وجہ سے۔ اس پر آپ نے فرمایا: اللہ کے راستہ میں ایک صبح یا ایک شام لگا دینا دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔ 2 حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے حضرت ابنِ رواحہ ؓ کو ایک لشکر میں بھیجا۔ اس لشکر کی روانگی جمعہ کے دن ہوئی، تو حضرت ابنِ رواحہ نے اپنے ساتھیوں کو آگے بھیج دیا اور کہا: میں ذرا پیچھے رُک جاتا ہوں، حضور ﷺ کے ساتھ جمعہ پڑھ کر پھر اس لشکر سے جا ملوں گا۔ حضور ﷺ جب نماز سے فارغ ہوئے تو اُن کو دیکھا۔ آپ نے فرمایا: تم اپنے ساتھیوں کے ساتھ صبح کیوں نہیں گئے؟ انھوں نے کہا: میں نے یہ سوچا کہ آپ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھ لوں، پھر اپنے لشکر سے جا ملوں گا۔حضور ﷺ نے فرمایا:جو کچھ زمین میں ہے اگر تم وہ سارا بھی خرچ کر دو تو بھی تم اُن کی اس صبح (کے ثواب) کو نہیں پا سکتے ہو۔1 حضرت معاذ بن انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضورِ اَقدس ﷺ نے اپنے صحابہ کو ایک غزوہ میں جانے کا حکم دیا۔ تو ایک آدمی نے اپنے گھر والوں سے کہا: میں ذرا ٹھہر جاتا ہوں تاکہ حضور ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ لوں، پھر آپ کو سلام اور آپ کو اَلوداع کہہ کر چلا جائوں گا۔ تو ہوسکتا ہے حضورﷺ میرے لیے کوئی ایسی دعا فرما دیں جو قیامت کے دن پہلے سے پہنچ کر کام آنے والی چیز ہو۔ جب حضور ﷺ نماز پڑھ چکے تو یہ صحابی آپ کو سلام کرنے کے لیے آگے بڑھے۔ حضورﷺ نے ان سے فرمایا: کیا تم جانتے ہو تمہارے ساتھی تم سے کتنا آگے نکل گئے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں! وہ لوگ آج صبح گئے ہیں یعنی آدھے دن کے بقدر مجھ سے آ گے نکلے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! وہ اَجر وثواب کے اعتبار سے فضیلت میں تم سے اس سے بھی زیادہ آگے نکل گئے ہیں جتنا کہ مشرق ومغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔2 حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ایک لشکر کو جانے کا حکم دیا، انھوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم ابھی رات کو چلے جائیں یا فرمائیں تو رات یہاں ٹھہر کر صبح چلے جائیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم یہ نہیں چاہتے ہو کہ تم جنت کے باغوں میں سے ایک باغ میں یہ رات گزارو؟ 3 حضرت ابو زُرعہ بن عمرو بن جریر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے ایک لشکر روانہ فرمایا، اس میں حضرت معاذ بن جبل ؓ بھی تھے۔ جب وہ لشکر چلا گیا تو حضرت عمر کی حضرت معاذ پر نگاہ پڑی۔ ان سے پوچھا: تم یہاں کیوں رُک گئے؟ انھوں نے کہا: میں نے یہ سوچا کہ جمعہ کی نمازپڑھ کر پھر چلا جائوں گا ( اور لشکر کو جا ملوں گا)۔ حضرت عمر نے فرمایا: کیا تم نے حضور ﷺ سے یہ نہیں سنا کہ اللہ کے راستہ میں ایک صبح یا ایک شام دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے۔1