صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا
جنگ شروع کرتے وقت دعا کرنا
حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جب جنگِ بدر کے دن حضور ﷺ نے اپنے صحابہ کی طرف دیکھا تو وہ تین سو سے کچھ زیادہ تھے، اور جب مشرکین کی طرف دیکھا تو وہ ہزار سے زیادہ تھے۔ تو آپ قبلہ کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوگئے۔ آپ نے ایک چادر اوڑھی ہوئی تھی اور ایک لنگی باندھی ہوئی تھی۔ پھر آپ نے یہ دعا مانگی: اے اللہ! آپ نے مجھ سے جو وعدہ فرمایا ہے اسے پورا فرما۔ اے اللہ! اگر اہلِ اسلام کی یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو پھر ان کے بعد روئے زمین پر تیری عبادت کبھی نہیں ہوسکے گی۔حضور ﷺ مسلسل اپنے ربّ سے مدد مانگتے رہے اور دعا فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ کی چادر (زمین پر) گر گئی۔ حضرت ابوبکر ؓ نے چادر اُٹھا کر آپ کے اوپر ڈال دی۔ پھر وہ پیچھے سے حضور ﷺ کو چمٹ گئے اور پھر کہا: یا رسول اللہ! آپ نے جو اپنے ربّ سے زور شور سے مانگا ہے، آپ کا اتنا مانگنا کافی ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے جو وعدہ فرمایا ہے وہ اسے ضرور پورا فرمائیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
{اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اَنِّیْ مُمِدُّکُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ مُرْدِفِیْنَO}1
جب تم لگے فریاد کرنے اپنے ربّ سے تو وہ پہنچا تمہاری فریاد کو کہ میں مدد کو بھیجوں گا تمہاری ہزار فرشتے لگاتار آنے والے۔2
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ فرماتے ہیں کہ جنگِ بدر کے موقع پر حضور ﷺ تین سو پندرہ آدمیوں کو لے کر نکلے۔ جب آپ بدر پہنچے تو آپ نے یہ دعا مانگی: اے اللہ! یہ لوگ بغیر جوتیوں کے ننگے پائوں اور پیدل چل رہے ہیں اُن کو سواری عطا فرما۔ اور اے اللہ! یہ ننگے بدن ہیں تو اُن کو کپڑے عطا فرما۔ اور اے اللہ! یہ لوگ بھوکے ہیں تو اُن کو پیٹ بھر کر کھانا عطا فرما۔ چناںچہ اللہ تعالیٰ نے انھیں جنگِ بدر کے دن فتح عطا فرمائی۔ اور جب یہ لوگ جنگِ بدر سے واپس ہوئے تو ہر ایک کے پاس ایک یا دو اُونٹ تھے، اور انھوں نے کپڑے بھی پہن رکھے تھے ،اور پیٹ بھر کر کھانا بھی کھا رکھا تھا۔3
حضرت ابنِ مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے بدر کے دن حضور ﷺ کو جتنی زور دار دعا کرتے ہوئے دیکھا ہے اتنی زور دار دعا کرتے ہوئے میں نے کبھی کسی کو نہیں دیکھا۔ آپ فرما رہے تھے: اے اللہ! میں تجھے تیرے وعدے اور تیرے عہد کا واسطہ دیتا ہوں۔ اے اللہ! اگر یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو پھر تیری عبادت کبھی نہ ہو سکے گی۔ پھر آپ (ہماری طرف) متوجہ ہوئے اور آپ کے چہرے کی جانب (خوشی کے مارے) چاند کی طرح چمک رہی تھی۔ اور آپ نے فرمایا: گویا کہ میں اب دیکھ رہا ہوں کہ شام کو یہ کہاں کہاں گرے ہوئے پڑے ہوں گے۔1
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ جنگ ِاُحد کے دن فرما رہے تھے: اے اللہ! (ہماری مدد فرما) اگر تو ہماری مدد نہ کرنا چاہے تو پھر روئے زمین پر کوئی تیری عبادت کرنے والا نہ رہے گا۔ 2
حضرت ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ غزوۂ خندق کے دن ہم لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اس موقع پر پڑھنے کے لیے کوئی دعا ہے جسے ہم پڑھیں، کیوںکہ کلیجے منہ کو آچکے ہیں۔ آپ نے فرمایا :ہاں!
اَللّٰھُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَاٰمِنْ رَوْعَاتِنَا۔
اے اللہ! تو ہمارے جملہ عیوب کی پردہ پوشی فرما، اور ہمارے خوف کو اَمن واَمان سے بدل دے۔
حضرت ابو سعید ؓ فرماتے ہیں (کہ ہم نے یہ دعا پڑھنی شروع کر دی جس کی برکت سے) اللہ تعالیٰ نے سخت ہوا بھیج کر اپنے دشمنوں کے چہروں کو پھیر دیا۔3
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ حضورِ اَقدس ﷺ مسجدِ اَحزاب تشریف لے گئے اور اپنی چادر رکھ کر کھڑے ہوگئے اور ہاتھ اُٹھا کر ان (کافروں) کے خلاف بد دعا کرنے لگے، اور (اس موقع پر) آپ نے کوئی (نفل) نماز نہ پڑھی۔ آپ پھر دوبارہ وہاں تشریف لائے اور اُن کے لیے بد دعا کی اورنماز پڑھی۔4
اور’’ صحیح بخاری‘‘ اور’’ صحیح مسلم‘‘ میں حضرت عبد اللہ بن ابی اَوفیٰؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے اَحزاب کے لیے ان الفاظ سے بددعا فرمائی: اے کتاب کو اُتارنے والے، اور جلدی حساب لینے والے اللہ! ان اَحزاب (گروہوں) کو شکست دے دے۔ اے اللہ! ان کو شکست دے، اور ان کے قدموں کو اُکھیڑ دے۔ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: اے اللہ! انھیں شکست دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما۔ اور’’ بخاری‘‘ میں حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ یہ دعا فرما رہے تھے: اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے۔ اس نے اپنے لشکر کو عزّت دی اور اپنے بندے کی مدد کی، اور اکیلا ہی تمام اَحزاب پر غالب آگیا، اس کے بعد کوئی چیز نہیں۔1