صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا
اللہ کے راستہ میں اخلاصِ نیت کے ساتھ نکلنا
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے (حضور ﷺ سے) پوچھا: یا رسول اللہ! ایک آدمی جہاد میں اس نیت سے جاتا ہے کہ اسے دنیا کا کچھ سامان مل جائے گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اسے کچھ اَجر نہ ملے گا۔ لوگوں نے اس بات کو بہت بڑا سمجھا اور اس آدمی سے کہا: تم حضور ﷺ کی خدمت میں جا کر دوبارہ حضور ﷺ سے پوچھو، شاید تم اپنی بات حضور ﷺ کو سمجھا نہیں سکے ہو۔ اس آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! ایک آدمی جہاد میں اس نیت سے جاتا ہے کہ وہ دنیا کا کچھ سامان حاصل کرنا چاہتا ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے کوئی اَجر نہیں ملے گا۔ لوگوں نے اس بات کو بہت بڑا سمجھا اور اس آدمی سے کہا: جائو،پھر حضور ﷺ سے پوچھو۔ چناںچہ اس نے تیسری مرتبہ حضور ﷺ کی خدمت میں جا کر عرض کیا کہ ایک آدمی جہاد فی سبیل اللہ میں اس نیت سے جانا چاہتا ہے کہ اسے دنیا کا کچھ سامان مل جائے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اسے کوئی اَجر نہیں ملے گا۔ 3
حضرت ابو اُمامہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ ذرا یہ بتائیے کہ ایک آدمی غزوہ میں شریک ہو کر ثواب بھی حاصل کرنا چاہتا ہے اور لوگوں میں شہرت بھی، تو اسے کیا ملے گا؟ حضور ﷺ نے فرمایا: اسے کچھ نہیں ملے گا۔ اس آدمی نے اپنا سوال تین مرتبہ دُہرایا۔ حضور ﷺ ہر دفعہ اسے یہی جواب دیتے رہے کہ اسے کچھ نہیں ملے گا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول فرماتے ہیں جو خا لص ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیا گیا ہو۔ 1
حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں میں ایک پردیسی آدمی رہتا تھا اسے کوئی جانتا نہیں تھا کہ وہ کون ہے؟ لوگ اسے قزمان کہتے تھے۔ جب بھی اس کا تذکرہ ہوتا تو حضور ﷺ فرماتے کہ یہ تو دوزخ والوں میں سے ہے۔ جنگ ِاُحد کے دن اس نے خوب زور شور سے لڑائی کی اور اس نے اکیلے ہی سات آٹھ مشرکوں کو قتل کر ڈالا اور وہ بڑا جنگ جو اور بہادر تھا۔ آخر وہ زخموں سے نڈھال ہو گیا تو اسے بنو ظفر کے محلہ میں اُٹھا کر لایا گیا تو بہت سے مسلمان اسے کہنے لگے: اے قزمان! آج تو تم بڑی بہادری سے لڑے ہو۔ تمہیں خوش خبری ہو! اس نے کہا: مجھے کس چیز کی خوش خبری ہو؟ اللہ کی قسم! میں نے تو صرف اپنی قوم کی ناموری کے لیے یہ لڑائی لڑی ہے، اگر میرا مقصد یہ نہ ہوتا تو میں ہر گز نہ لڑتا۔ چناںچہ جب اس کے زخموں کی تکلیف بڑھ گئی تو اس نے اپنی ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور اس سے خود کشی کرلی۔2
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ایسا آدمی بتائو جو جنت میں تو جائے گا لیکن اس نے نماز کوئی نہیں پڑھی؟ جب لوگ اس کے بارے میں لا علمی کا اظہار کرتے تو اُن سے پوچھتے کہ وہ کون ہے؟ تو وہ فرماتے کہ وہ بنو عبد الاشہل کے اُصَیرِم ہیں جن کا نام عمرو بن ثابت بن وَقش ہے۔ حضرت حصین فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت محمود بن لبید ؓ سے پوچھا کہ حضرت اُصَیرِم کا کیا قصہ ہے؟ تو انھوں نے بتایا کہ اُن کی قوم اُن کو اسلام کی دعوت دیا کرتی تھی لیکن یہ ہمیشہ اِنکار کردیتے تھے۔ جنگ ِاُحد کے دن ان کے د ل میں ایک دم اسلام لانے کاخیال پیدا ہوا اور وہ مسلمان ہوگئے اور اپنی تلوار لے کر چل پڑے اور ایک کنارے سے مجمع میں جا کر لڑائی شروع کر دی یہاں تک کہ زخموں سے نڈھال ہوکر گر پڑے۔ (لڑائی کے بعد) قبیلہ بنو عبد الاشہل کے لوگ میدانِ جنگ میں شہید ہونے والے اپنے سا تھیوں کو تلاش کرنے لگے تو اُن کی نگاہ حضرت اُصَیرِم پر پڑی تو وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! یہ تو اُصَیرِم ہیں۔ یہ یہاں کیسے آگئے؟ ہم تو ان کو (مدینہ میں) چھوڑ کر آئے تھے اور یہ تو ہمیشہ (اِسلام کی) اس بات کا انکار کیا کرتے تھے، تو ان لوگوں نے حضرت اُصَیرِم سے پوچھا: اے عمرو! آپ یہاں کیسے آئے؟ اپنی قوم کی ہمدردی میں یا اِسلام کے شوق میں؟ انھوں نے کہا: نہیں، اِسلام کے شوق میں۔ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا اور مسلمان ہوگیا، پھر میں اپنی تلوار پکڑ کر حضور ﷺ کے ساتھ چل پڑا اور میں نے لڑنا شروع کر دیا یہاں تک کہ میں اتنا زخمی ہوگیا۔ اتنا کہنے کے تھوڑی دیر بعد ہی اُن کے ہاتھوں میں حضرت اُصَیرِم کا انتقال ہو گیا۔ ان لوگوں نے جا کر حضور ﷺ سے اُن کا سارا واقعہ ذکر کیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: وہ جنت والوں میں سے ہیں۔ ( لہٰذا انھیں اِسلام لانے کے بعد ایک نماز پڑھنے کا بھی موقع نہیں ملا ) 1
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن اُقَیش ؓ نے زمانۂ جاہلیت میں سود پرقرض دیا ہوا تھا۔ وہ اِسلام لانے کے لیے تیار تو ہوگئے تھے لیکن سود کا مال وصول کرنے سے پہلے مسلمان ہونا نہیں چاہتے تھے۔ غزوۂ اُحد کے دن وہ آئے اور انھوں نے پوچھا کہ میرے چچا زاد بھائی کہاں ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ وہ تو (اس وقت )اُحد میں ہیں۔ انھوں نے کہا: اُحد میں؟ وہ زرہ پہن کر اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور پھر اپنے چچا زاد بھائیوں کی طرف چل پڑے۔ جب مسلمانوں نے اُن کو (آتے ہوئے) دیکھا تو (اُن سے) کہا: اے عمرو! ہم سے پَرے رہو۔ انھوں نے کہا: میں تو ایمان لا چکا ہوں۔ اس کے بعد انھوں نے (کافروں سے) خوب زور شور سے جنگ کی یہاں تک کہ زخمی ہوگئے، پھر اُن کو زخمی حالت میں اٹھا کر اُن کے گھر والوں کے پاس پہنچایا گیا۔ وہاں ا ُن کے پاس حضرت سعد بن معاذ ؓ آئے اور انھوں نے اُن کی بہن سے کہا کہ ان سے پوچھو کہ (یہ غزوۂ اُحد میں) اپنی قوم کی حمایت میں (شریک ہوئے تھے) یا اللہ اور اس کے رسول کی وجہ سے غصہ میں آکر؟ انھوں نے کہا: نہیں، اللہ اور اس کے رسول کی وجہ سے غصہ میں آکر (غزوۂ اُحد میں شریک ہوا تھا)۔ اس کے بعد اُن کا انتقال ہوگیا اور یہ جنت میں داخل ہوگئے حالاں کہ اُن کو اللہ کے لیے ایک بھی نماز پڑھنے کا موقع نہ ملا۔1
حضرت شدّاد بن ہاد ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی آدمی حضور ﷺ کی خدمت میں آیا اور آپ پر ایمان لایا اور آپ کی پوری طرح اتباع کی۔ چناںچہ اس نے کہا کہ میں بھی ہجرت کر کے آپ کے ساتھ رہوں گا۔ جب غزوۂ خیبر میں حضور ﷺ کو مالِ غنیمت ملا تو آپ نے وہ صحابہ میں تقسیم فرما دیا۔ آپ نے اس مالِ غنیمت میں سے اس کا حصہ اس کے ساتھیوں کو دے دیا، وہ اس وقت اپنے ساتھیوں کے جانور چرانے گیا ہوا تھا۔ جب وہ واپس آیا تو ساتھیوں نے اس کا حصہ دیا تو اس نے کہا: یہ کیا ہے؟ ساتھیوں نے کہا: یہ تمہارا حصہ ہے جو حضور ﷺ نے تمہارے لیے دیا ہے۔ اس نے (حضور ﷺ کی خدمت میں جا کر) عرض کیا: میں نے اس (مال لینے) کے لیے تو آپ کا اتباع نہیں کیا تھا۔ میں نے آپ کا اتباع اس لیے کیا تھا تاکہ مجھے (گلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) یہاں تیر لگے اور میں مر جائوں اور میں جنت میں چلا جائوں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اگر تمہاری نیت سچی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور پورا فرما دیں گے۔ پھر صحابہ دشمن سے لڑنے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ (یہ دیہاتی بھی لڑائی میں شریک ہوئے اور زخمی ہوگئے) اور ان کو اُٹھاکر حضور ﷺ کی خدمت میں لایا گیا، اور جہاں اس نے اشارہ کر کے بتایا تھا وہاں ہی اسے تیر لگا ہوا تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: یہ وہی ہے؟ صحابہ نے کہا: جی ہوں۔ آپ نے فرمایا: اس کی نیت سچی تھی اس لیے اللہ نے پوری کر دی۔ حضور ﷺ نے اسے اپنے جبّہ میں کفن دیا۔ اور اس کا جنازہ آگے رکھ کر آپ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور نمازِ جنازہ میں اس کے لیے دعا کرتے ہوئے آپ کے یہ الفاظ ذرا اونچی آواز سے سنے گئے: اے اللہ! یہ تیرا بندہ ہے، تیرے راستہ میں ہجرت کر کے نکلا تھا، اور اب یہ شہید ہوکر قتل ہوا ہے اور میں اس کا گواہ ہوں۔ 1
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! میں کالے رنگ کا آدمی ہوں۔ میرا چہرہ بد صورت ہے اور میرے پاس مال بھی کچھ نہیں ہے۔ اگر میں ان کفار سے لڑتے ہوئے مرجائوں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جائوں گا؟ حضور ﷺ نے فرمایا: ہاں! (یہ سن کر) وہ آگے بڑھا اور کافروں سے لڑائی شروع کر دی یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔ حضور ﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے وہ شہید ہو چکے تھے، تو آپ نے فرمایا: اب تو اللہ تعالیٰ نے تمہارا چہرہ خوبصورت بنا دیا ہے اور تجھے خوشبودار بنا دیا ہے اور تمہارا مال زیادہ کردیا ہے۔ اور فرمایا کہ میں نے حورالعین میں سے اس کی دو بیویاں دیکھی ہیں جو اُس کے جسم اور اُس کے جُبّہ کے درمیان داخل ہونے کے لیے جھگڑ رہی ہیں۔2
حضرت عمرو بن العاص ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ِاَقدس ﷺ نے میرے پاس یہ پیغام بھیجا کہ کپڑے پہن کر اور ہتھیار لگا کر میرے پاس آجائو۔ چناںچہ میں (تیار ہو کر) آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجنا چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں سلامت بھی رکھے گا اور تمہیں مالِ غنیمت بھی دے گا، اور میں بھی اس مال میں سے تمہیں عمدہ مال دوں گا۔ اس پر میں نے کہا: میں تو مال کی وجہ سے اسلام نہیں لایا بلکہ مسلمان بننے کے شوق میں میں نے اِسلام کو قبول کیا۔ آپ نے فرمایا: اے عمرو! بھلے آدمی کے لیے عمد ہ مال بہترین چیز ہے۔ 3
طبرانی نے’’ اَوسط‘‘ اور’’ کبیر‘‘ میں اس حدیث کو ذکر کیا ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں کہ میں تو دو وجہ سے اسلام لایا ہوں: ایک تو مجھے مسلمان بننے کا شوق تھا، اور دوسرے میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتا تھا۔ آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے، لیکن عمدہ مال بھلے آدمی کے لیے بہترین چیز ہے ۔1
حضرت ابو ا لبَخْترِی طائی فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ مختار بن ابی عبید کے والد حضرت ابو المختار کے پاس کوفہ میں جسرِابی عبید پر جمع تھے (جہاں حضرت ابو عبید ثقفی ۱۳ھ میں اپنے لشکر سمیت شہید ہوئے تھے، اور حضرت ابو عبید کے لشکر کے) تمام آدمی شہید کر دیے گئے تھے صرف دو یا تین آدمی بچے تھے۔ انھوں نے اپنی تلواریں لے کر اس زور سے دشمن پر حملہ کیا کہ اُن کی صفیں چیر کے باہر نکل آئے اور یوں بچ گئے۔ اور پھر یہ تینوں حضرات مدینہ آئے۔ ایک مرتبہ یہ تینوں حضرات ان شہید ہونے والے کا تذکرہ کر رہے تھے کہ اتنے میں حضرت عمر ؓ باہر نکلے اور انھوں نے کہا کہ مجھے بتائو تم لوگ اُن کے بارے میں کیا کہہ رہے تھے؟ انھوں نے کہا: ہم ان کے بارے میں اِستغفار کر رہے تھے اور اُن کے لیے دعا کر رہے تھے۔ حضرت عمر نے فرمایا: یا تو تم نے ان کے بارے میں جو کہا تھا وہ مجھے بتادو، ورنہ میں تمہیں سخت سزا دوں گا۔ انھوں نے کہا: ہم نے ان کے بارے میں کہا تھا کہ یہ لوگ شہید ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں! اور اس ذات کی قسم جس نے حضرت محمد ﷺ کو حق دے کر بھیجا! اور جس کے حکم کے بغیر قیامت قائم نہیں ہوگی! اللہ کے نبی کے علاوہ اور کسی بھی مرنے والے کو اللہ کے ہاں کیا ملا ہے اسے کوئی بھی زندہ انسان نہیں جانتا ہے، البتہ اللہ کے نبی کے بارے میں یقینًا معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کردیے ہیں۔اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں! اس ذات کی قسم جس نے حق اور ہدایت دے کر محمد (ﷺ) کو بھیجا! جس کے حکم کے بغیر قیامت قائم نہ ہو گی! کوئی آدمی ریا اور شہرت کی وجہ سے لڑتا ہے، کوئی آدمی قومی غیرت کی وجہ سے لڑتا ہے، اور کوئی دنیا حاصل کرنے کے لیے لڑتا ہے، اور کوئی مال لینے کے لیے۔ اور اُن تمام لڑنے والوں کو اللہ کے ہاں وہی ملے گا جو اُن کے دلوں میں ہے۔2
حضرت مالک بن اَوس بن حدثان ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم لوگوں نے ایک لشکر کا تذکرہ کیا جو حضرت عمر ؓ کے زمانے میں اللہ کے راستہ میں شہید ہوگیا تھا۔ چناںچہ ہم میں سے کسی نے تو یہ کہا کہ یہ سب اللہ کے لیے کام کرنے والے تھے اور اللہ کے راستہ میں نکلے ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ ان کو ضرور اَجر وثواب عطا فرمائیں گے۔ اور کسی نے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ اُن کو قیامت کے دن اسی نیت پر اٹھائیں گے جس پر اللہ نے اُن کو موت دی ہے۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے فرمایا: ہاں، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اللہ ان کو اسی نیت پر اٹھائیں گے جس پر اللہ نے ان کو موت دی ہے، کیوںکہ کوئی آدمی تو دِکھلاوے اور شہرت کے لیے لڑتا ہے، اور کوئی دنیا لینے کے لیے لڑتا ہے، اور کسی کو جنگ سے بچنے کا راستہ نہیں ملتا ہے اس لیے وہ مجبور ہو کر لڑتا ہے، اور کوئی اللہ سے ثواب لینے کے لیے لڑتا ہے اور ہر طرح کی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے۔ یہ (ثواب کے لیے لڑنے والے) ہی شہید ہیں، لیکن مجھے بھی معلوم نہیں ہے کہ میرے ساتھ کیا ہوگا اور تمہارے ساتھ کیا ہوگا۔ ہاں! اتنی بات مجھے ضرور معلوم ہے کہ اس قبر والے یعنی رسول اللہ ﷺ کے پچھلے تمام گناہ معاف ہو چکے ہیں۔ 1
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ کی مجلس میں شہیدوں کا تذکرہ آیا، تو حضرت عمر نے لوگوں سے پوچھا: تم شہید کسے سمجھتے ہو؟ لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! ان جنگوں میں جو مسلمان قتل ہو رہے ہیں وہ سب شہید ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا: پھر تو تمہارے شہدا بہت ہو جائیں گے۔ میں تمہیں اس بارے میں بتاتا ہوں۔ بہادری اور بزدلی لوگوں کی طبعی چیزیں ہیں، اللہ جس کی طبیعت جیسی چاہیں بنا دیں۔ بہادر آدمی تو جذبہ سے لڑتا ہے اور اپنے گھر والوں کے پاس واپس جانے کی پروا بھی نہیں کرتا، اور بزدل آدمی اپنی بیوی کی وجہ سے (میدانِ جنگ سے) بھاگ جاتا ہے۔ اور شہید وہ ہے جواللہ سے اَجر وثواب لینے کی نیت سے اپنی جان پیش کرے۔ اور (کامل) مہاجر وہ ہے جو اُن تمام چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے روکا ہے۔ اور (کامل) مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے سارے مسلمان محفوظ رہیں۔ 2
حضرت ضِمام فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن زُبیر ؓ نے اپنی والدہ (حضرت اسماء ؓ) کے پاس پیغام بھیجا کہ تمام لوگ مجھے چھوڑ کر چلے گئے ہیں، اور یہ (میرے مخالف) لوگ مجھے صلح کی دعوت دے رہے ہیں۔ تو انھوں نے جواب میں فرمایا کہ اگر تم اللہ کی کتاب کو اور اللہ کے نبی کریم ﷺ کی سنت کو زندہ کرنے کے لیے نکلے تھے تو پھر تمہیں اسی حق بات پر جان دے دینی چاہیے، اور اگر تم دنیا لینے کے لیے نکلے تھے تو پھر نہ تمہارے زندہ رہنے میں خیر ہے اور نہ مرجانے میں۔1