صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا

غزوۂ احد کا دن

حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے غزوۂ اُحد کے دن اپنے بھائی سے کہا: اے میرے بھائی! تم میری زرہ لے لو۔ اُن کے بھائی نے کہا: (میں نہیں لینا چاہتا ہوں) جیسے آپ شہید ہونا چاہتے ہیں ایسے ہی میں بھی شہید ہونا چاہتا ہوں۔ چناںچہ دونوں نے وہ زرہ چھوڑ دی۔3 حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ جب جنگ ِاُحد کے دن لوگ رسول اللہ ﷺکے پاس سے چلے گئے اور اُن کو شکست ہوگئی تو میں نے حضور ﷺ کو مقتولین میں دیکھا، لیکن آپ مجھے اُن میں نظر نہ آئے تو میں نے (اپنے دل میں) کہا کہ حضور ﷺ بھاگنے والے تو ہیں نہیں اور آپ مجھے مقتولین میں بھی نظر نہیں آرہے ہیں، اس لیے میرا خیال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے فعل سے ناراض ہوکر اپنے نبی ﷺ کو اٹھا لیا ہے۔ اس لیے اب میرے لیے سب سے بہتر صورت یہ ہے کہ میں دشمن سے لڑنے لگ جائوں یہاں تک کہ جان دے دوں۔ چناںچہ میں نے اپنی تلوار کی میان توڑ دی اور پھر کافروں پر زور سے حملہ کیا تو کافر میرے سامنے سے ہٹ گئے تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضور ﷺ اُن کے درمیان گھرے ہوئے ہیں۔ 1 قبیلہ بنو عدی بن نجار کے حضرت قاسم بن عبد الرحمن بن رافع ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک کے چچا حضرت انس بن نضرؓ، حضرت عمر بن خطاب اور طلحہ بن عبید اللہ ؓ کے پاس پہنچے تو یہ دونوں حضرات دیگر مہاجر اور انصاری حضرات کے ساتھ (لڑائی سے) ہاتھ روک کر (پریشان) بیٹھے ہوئے تھے۔ توحضرت انس بن نضر نے کہا کہ آپ لوگ کیوں بیٹھے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ حضور ﷺ شہید ہو گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حضور ﷺ کے بعد تم زندہ رہ کر کیا کرو گے ؟ اُٹھواور جس چیز پر حضورﷺ نے جان دے دی ہے تم بھی اسی پر جان دے دو۔ چناںچہ حضرت انس بن نضر کافروں کی طرف بڑھے اور لڑنا شروع کر دیا، بالآخر شہید ہوگئے۔ 2 حضرت عبد اللہ بن عمار خَطمِی فرماتے ہیں کہ جنگ ِاُحد کے دن حضرت ثابت بن دَحداحہ ؓ سامنے سے آئے اور مسلمان الگ الگ ٹولیوں میں حیران وپریشان بیٹھے تھے۔ تو یہ بلند آواز سے کہنے لگے: اے جماعت ِانصار! میرے پاس آئو، میرے پاس آئو۔ میں ثابت بن دحداحہ ہوں۔ اگر حضرت محمد ﷺ شہید ہوگئے ہیں (تو کیا بات ہے؟) اللہ تعالیٰ تو زندہ ہیں انھیں موت نہیں آتی ہے۔ لہٰذا تم اپنے دین کو بچانے کے لیے لڑو، اللہ تعالیٰ تمہیں غالب فرمائیں گے اور تمہاری مدد کریں گے۔ کچھ اَنصار کھڑے ہو کر اُن کے پاس آگئے۔ جو مسلمان اُن کے ساتھ ہو گئے تھے اُن کو لے کر انھوں نے کافروں پر حملہ کر دیا۔ ہتھیا روں سے مسلح اور مضبوط دستہ اُن کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ اس دستہ میں کافروں کے سردار خالد بن ولید، عمرو بن العاص، عکرمہ بن ابی جہل اور ضِرار بن خطاب تھے۔ چناںچہ آپس میں خوب زور کی جنگ ہوئی۔ خالد بن ولید نے نیزہ لے کر حضرت ثابت بن دحداحہ پر حملہ کیا اور اُن کو اس زور سے نیزہ مارا کہ آر پار ہو گیا۔ چناںچہ وہ شہید ہو کر گر پڑے اور اُن کے ساتھ جتنے اَنصار تھے وہ سب بھی شہید ہو گئے۔ اور کہا جاتا ہے کہ اس دن یہی لوگ سب سے آخر میں شہید ہوئے۔1 حضرت ابو نجیح ؓ فرماتے ہیں کہ جنگ ِاُحد کے دن ایک مہاجر صحابی ایک اَنصاری کے پاس سے گزرے، وہ انصاری خون میں لت پت تھے۔ اس مہاجری نے ان سے کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ حضرت محمد ﷺ شہید کر دیے گئے ہیں؟ تواَنصاری نے کہا کہ اگر حضور ﷺ شہید کر دیے گئے ہیں تو وہ اللہ کا پیغام پہنچا چکے ہیں (جس کام کے لیے اللہ نے اُن کو بھیجا تھا وہ کام انھوں نے پورا کر دیا ہے) لہٰذاتم اپنے دین کو بچانے کے لیے (کافروں) سے جنگ کرو۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی : { وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْْلٌ}2 اور محمد (ﷺ) ایک رسول ہیں ۔3 حضرت زید بن ثابت ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے جنگِ اُحد کے دن مجھے حضرت سعد بن ربیع ؓکو تلاش کرنے کے لیے بھیجا۔ اور آپ نے مجھ سے فرمایا کہ تم اُن کو دیکھ لو تو ان کو میرا سلام کہنا اور ان سے کہنا کہ اللہ کے رسول ﷺ تم سے پوچھ رہے ہیں کہ تم اپنے آپ کو کیسا پا رہے ہو؟ حضرت زید فرماتے ہیں کہ میں (انھیں تلاش کرنے کے لیے) مقتو لین میں چکر لگانے لگا۔ جب میں اُن کے پاس پہنچا تو اُن کے آخری سانس تھے، اور اُن کے جسم پر نیزے اور تلوار اور تیر کے ستّر زخم تھے۔ میں نے اُن سے کہا: اے سعد! اللہ کے رسول ﷺ تمہیں سلام کہتے ہیں اور تم سے پوچھتے ہیں کہ بتائو تم اپنے آپ کو کیسا پا رہے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ کے رسول کو اور آپ کو سلام ہو! تم حضور ﷺ سے کہہ دینا کہ یا رسول اللہ! میرا حال یہ ہے کہ میں جنت کی خوش بو پا رہا ہوں۔ اور میری قوم اَنصار سے کہہ دینا تم میں ایک بھی جھپکنے والی آنکھ موجود ہو یعنی تم میں سے ایک آدمی بھی زندہ ہو اور کافر اللہ کے رسول ﷺ تک پہنچ جائیں تو اللہ کے ہاں تمہارا کوئی عذر قبول نہیں ہوگا۔ اتنا کہنے کے بعد اُن کی روح پرواز کر گئی۔ اللہ اُن پر رحم فرمائے! 1 حضرت عبد الرحمن بن ابی صَعْصَعَہؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ کون دیکھ کر مجھے بتائے گا کہ حضرت سعد بن ربیع کا کیا ہوا؟ آگے پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا۔ اور پھر یہ مضمون ہے کہ حضرت سعد نے کہاکہ اللہ کے رسول ﷺ کو بتا دو کہ میں جنگ میں شہید ہو جانے والوں میں پڑا ہوں۔ اور حضور ﷺ کو میرا سلام کہنا اور اُن سے عرض کرنا کہ سعدکہہ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہماری اور ساری اُمت کی طرف سے بہترین جزا عطا فرمائے۔ 2 حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ جب مشرکین نے جنگ ِاُحد کے دن نبی کریم ﷺ کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور اس وقت آپ کے ساتھ سا ت اَنصاری اور ایک قریشی صحابی تھے۔ آپ نے فرمایا: جو اِن کو ہم سے پیچھے ہٹائے گا وہ جنت میں میر ا ساتھی ہوگا۔ چناںچہ ایک اَنصاری صحابی نے آکر ان کافروں سے جنگ شروع کر دی یہاں تک کہ وہ شہید ہو گئے۔ جب مشرکوں نے حضور ﷺ کو پھر گھیر لیا تو آپ نے پھر فرمایا: جو اِن کو ہم سے پیچھے ہٹائے گا وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔ (اس طرح ایک ایک کر کے) ساتوں اَنصاری شہید ہو گئے۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا: ہم نے اپنے (اَنصاری) ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا (یا ہمارے ساتھیوں نے ہم سے انصاف نہیں کیا کہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے)۔1 حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ جنگ ِاُحد کے دن جب مسلمانوں کو شکست ہوگئی تو وہ حضورﷺکو چھوڑ کر چلے گئے۔ اور آپ کے ساتھ گیارہ اَنصاری اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ رہ گئے۔ حضور ﷺ پہاڑ پر چڑھنے لگے کہ پیچھے سے مشرکین ان تک پہنچ گئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: کیا ان (کے روکنے) کے لیے کوئی نہیں ہے؟ حضرت طلحہ نے کہا: یا رسول اللہ! میں ہوں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اے طلحہ !تم جیسے ہو ویسے ہی رہو۔ ایک اَنصاری نے کہا: یا رسول اللہ! میں ہوں۔ چناںچہ انھوں نے ان کافروں سے جنگ شروع کر دی۔ حضور ﷺ باقی صحابہ کو لے کر پہاڑ کے اور اوپر چڑھ گئے۔ پھر وہ اَنصاری شہید ہوگئے اور کافر حضور ﷺ تک پہنچ گئے۔ آپ نے فرمایا: کیا ان (کو روکنے) کے لیے کوئی مرد نہیں ہے؟ حضرت طلحہ نے اپنی پہلی بات دہرائی، حضور ﷺ نے ان کو وہی جواب دیا۔ تو ایک اَنصاری نے کہا: یا رسول اللہ! میں ہوں۔اور انھوں نے ان کافروں سے جنگ شروع کر دی۔ حضور ﷺ اور باقی صحابہ پہاڑ پر اور اوپر چڑھنے لگے۔ اتنے میں وہ اَنصاری صحابی شہید ہوگئے اور کافر پھر حضور ﷺ تک پہنچ گئے۔ حضور ﷺ ہر مرتبہ اپنا وہی فرمان ارشاد فرماتے۔ حضرت طلحہ ہر مرتبہ عرض کرتے: یا رسول اللہ! میں ہوں،حضور ﷺ انھیں روک دیتے، پھر کوئی اَنصار ی ان کافروں سے لڑنے کی اجازت مانگتا حضور ﷺ اسے اجازت دے دیتے، اور وہ اپنے سے پہلے والے کی طرح خوب زور سے لڑتا اور شہید ہوجاتا۔ یہاں تک کہ حضور ﷺ کے ساتھ صرف حضرت طلحہ باقی رہ گئے، تو مشرکین نے ان دونوں کو گھیر لیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: ان سے مقابلہ کے لیے کون تیار ہے؟ حضرت طلحہ نے کہا: میں (حضور ﷺ نے اس مرتبہ اُن کو اجازت دے دی)۔ چناںچہ ان سے پہلے والوں نے سب نے جتنی جنگ کی انھوں نے اکیلے ان سب کے برابر جنگ کی، (لڑتے لڑتے) ان کے ہاتھوں کے پورے بہت زخمی ہوگئے تو انھوں نے کہا: حَسِّ(جیسے اُردو میں ایسے موقع پر ’’ہائے‘‘ کہاجاتاہے)۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اگر تم بسم اللہ کہتے تو فرشتے تمہیں اوپر اٹھا لیتے اور تمہیں لے کر آسمان میں داخل ہو جاتے اور لوگ تمہیں دیکھ رہے ہوتے۔ پھر حضور ﷺ پہاڑی پر چڑھ کر اپنے صحابہ کے پاس پہنچ گئے جو وہاں جمع تھے۔ 1 حضرت محمود بن لبید فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ اُحد تشریف لے گئے تو حضرت حذیفہؓ کے والد یمان بن جابر اور حضرت ثابت بن وقش بن زعوراء ؓ عورتوں اور بچوں کے ساتھ قلعہ پر چڑھ گئے۔ یہ دونوں حضرات بوڑھے تھے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: تیرا باپ نہ رہے! ہم کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں۔ اللہ کی قسم! ہم میں سے ہر ایک کی اتنی عمر باقی رہ گئی ہے جتنی ایک گدھے کی پیاس (تمام جانوروں میں گدھا سب سے کم پیاس برداشت کر سکتا ہے) یعنی بہت تھوڑی عمر باقی رہ گئی ہے۔ ہم آج یا کل مر جائیں گے۔کیوں نہ ہم اپنی تلواریں لے کر حضور ﷺ کے ساتھ (لڑائی میں) شریک ہوجائیں۔ چناںچہ یہ دونوں حضرات مسلمانوں کے لشکر میں شامل ہو گئے اور مسلمان اُن کو پہچانتے نہیں تھے۔ حضرت ثابت بن وقش کو تو مشرکین نے قتل کر دیا، اور حضرت ابو حذیفہ پر مسلمانوں کی تلواریں چلیں اور مسلمانوں نے اُن کو قتل کر دیا، کیوںکہ مسلمان ان کو پہچانتے نہیں تھے۔ چناںچہ حضرت حذیفہ ؓ نے پکارا: یہ میرے والد ہیں، یہ میرے والد ہیں (انھیں نہ مارو مارنے والے!) مسلمانوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اُن کو پہچانتے نہیں تھے۔ اور یہ حضرات اپنی اس بات میں سچے تھے۔ اس پر حضرت حذیفہ نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو معاف فرمائے اور وہ سب سے زیادہ رحم فرمانے والے ہیں۔ حضور ﷺ نے حضرت حذیفہ کو اُن کے والد کا خون بَہَا دینا چاہا لیکن انھوں نے مسلمانوں کو خون بَہَا معاف کر دیا۔ اس سے حضور ﷺ کے نزدیک حضرت حذیفہ ؓ کا مرتبہ اور بڑھ گیا ۔2 اور ابو نعیم کی روایت میں یہ مضمون بھی ہے کہ (ان دونوں حضرات، حضرت ابو حذیفہ اور حضرت ثابت ؓ نے یہ بھی کہا کہ) ہم دونوں جا کر حضور ﷺ کے ساتھ مل جاتے ہیں، ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حضور ﷺ کے ساتھ شہادت نصیب فرما دے۔ چناںچہ وہ دونوں اپنی تلواریں لے کر مسلمانوں کے لشکر میں شامل ہوگئے اور کسی کو اُن کے آنے کا پتہ نہ چلا۔ اور اس کے آخر میں یہ بھی ہے کہ (اس معاف کر دینے سے) حضور ﷺ کے نزدیک حضرت حذیفہ ؓ کا مرتبہ اور بڑھ گیا۔ 1