حضرات صحابۂ کرام ؓ کی بہادری
حضرت ابو حَدْ رَدْیا حضرت عبد اللہ بن ابی حَدْرَد ؓ کی بہادری
حضرت ابنِ ابی حدرد ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی قوم کی عورت سے نکاح کیا اور اس کا مہر دو سو درہم مقرر کیا، پھر حضور ﷺ کی خدمت میں مہر میں اِمداد لینے کے لیے حاضر ہوا۔ آپ نے فرمایا: تم نے کتنا مہر مقرر کیا ہے؟ میں نے کہا: دو سو درہم۔ آپ نے (اس مقدار کو میری حیثیت سے زیادہ سمجھتے ہوئے) فرمایا: سبحان اللہ! اگر تم وادی کی کسی عورت سے نکاح کرتے تو تمہیں اتنا زیادہ مہر نہ دینا پڑتا (تم نے اپنی قوم میں شادی کی ہے اس لیے اتنا زیادہ مہر دینا پڑ رہا ہے جو تمہاری حیثیت سے زیادہ ہے)۔ اللہ کی قسم! تمہاری مدد کرنے کے لیے اس وقت میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ میں چند دن (انتظار میں) ٹھہرا رہا۔ پھر قبیلہ جثم بن معاویہ کا ایک آدمی آیا جس کا نام رِفاعہ بن قیس یا قیس بن رِفاعہ تھا۔ وہ قبیلہ جثم کے بڑے خاندان کو ساتھ لے کر آیا اور (مدینہ کے قریب) مقام ِ غابہ میں اپنی قوم اور ساتھیوں کو لے کر ٹھہر گیا۔ وہ قبیلہ قیس کو حضور ﷺ سے لڑنے کے لیے جمع کرنا چاہتا تھا اور قبیلہ جثم میں اس کا بڑا نام اور اونچا مقام تھا۔ حضور ﷺ نے مجھے اور دو اور مسلمانوں کو بلایا اور فرمایا: تم لوگ جائو اور اس آدمی کے بارے میں پورے حالات معلوم کر کے آئو۔
حضور ﷺ نے ہمیں ایک دُبلی اور بوڑھی اُونٹنی عطا فرمائی۔ ہمارا ایک آدمی اس پر سوار ہوا تو اللہ کی قسم! وہ کمزوری کی وجہ سے اسے لے کر کھڑی نہ ہو سکی۔ تو کچھ آدمیوں نے اسے پیچھے سے سہارا دیا تب وہ کھڑی ہوئی ورنہ خود سے تو کھڑی نہ ہو سکتی تھی۔ اور آپ نے فرمایا: اسی پر بیٹھ کر تم وہاں پہنچ جائو۔ (چناںچہ حضور ﷺ کے اس اِرشاد کی برکت سے ان حضرات نے اسی اُونٹنی پر یہ سفر پورا کر لیا۔ اللہ نے اس کمزور اُونٹنی کو اتنی طاقت عطا فرما دی) چناںچہ ہم چل پڑے اور ہم نے اپنے ہتھیار تیر اور تلوار وغیرہ ساتھ لے لیے اور عین غروب کے وقت ان لوگوں کی قیام گاہ کے قریب پہنچے۔ میں ایک کونے میں چھپ گیا اور میں نے اپنے دونوں ساتھیوں سے کہا تو وہ بھی اُن کی قیام گاہ کے دوسرے کونے میں چھپ گئے۔ اور میں نے ان سے کہا: جب تم دونوں سنو کہ میں نے زور سے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہہ کر اس لشکر پر حملہ کر دیا ہے تو تم دونوں بھی زور سے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہہ کر حملہ کر دینا۔ اللہ کی قسم! ہم اسی طرح چھپے ہوئے انتظار کر رہے تھے کہ کب ہم انھیں غافل پاکر ان پر حملہ کر دیں یا کو ئی اور موقع مل جائے ۔
رات ہو چکی تھی اور اس کی تاریکی بڑھ چکی تھی۔ اس قبیلہ کا ایک چرواہا صبح سے جانور لے کر گیا ہوا تھا اور ابھی تک واپس نہیں آیا تھا تو انھیں اس کے بارے میں خطرہ ہوا۔ اُن کا سردار رِفاعہ بن قیس کھڑا ہوا اور تلوار لے کر اپنے گلے میں ڈال لی اور کہا: اللہ کی قسم! میں اپنے چرواہے کے بارے میں پکی بات معلوم کر کے آتا ہوں، اسے ضرور کوئی حادثہ پیش آیا ہے۔
اس کے چند ساتھیوں نے کہا: آپ نہ جائیں۔ اللہ کی قسم! آپ کی جگہ ہم جائیں گے۔ اس نے کہا: نہیں، میرے علاوہ اور کوئی نہیں جائے گا۔ ساتھیوں نے کہا: ہم آپ کے ساتھ جائیں گے۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! تم میں سے کوئی بھی میرے ساتھ نہیں جائے گا۔ اور وہ چل پڑایہاں تک کہ میرے پاس سے گزرا۔
جب میں نے دیکھا کہ وہ عین میرے نشانے پر آگیا ہے تو میں نے اسے تیر مارا جو اس کے دل کو جا کر لگا اور اللہ کی قسم! اس کی زبان سے کوئی بات نہ نکلی۔ میں نے چھلانگ مار کر اس کا سر کاٹ لیا اور میں نے لشکر کے اس کونے پر اَللّٰہُ أَکْبَرُ زور سے کہہ کر لشکر پر حملہ کر دیا اور میرے دونوں ساتھیوں نے بھی زور سے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہہ کر لشکر پر حملہ کردیا۔ اس اچانک حملہ سے وہ لوگ گھبرا گئے اور سب یہی کہنے لگے کہ اپنے آپ کو بچائو، اپنے آپ کو بچائو۔ اور عورتیں اور بچے اور ہلکا پھلکا سامان جو لے جا سکتے تھے وہ لے کر وہ لوگ بھاگ گئے اور بہت سارے اُونٹ اور بکریاں ہمارے ہاتھ آئیں جنھیں لے کر ہم لوگ حضور ﷺ کی خد مت میں حاضر ہوئے۔ اور میں نے اس کا سر بھی اپنے ساتھ لاد کر حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ آپ نے مجھے مہر ادا کرنے کے لیے اس مالِ غنیمت میں سے تیرہ اُونٹ عطا فرمائے۔ اس طرح میں مہر ادا کر کے اپنی بیوی کو اپنے گھر لے آیا۔ 1