حضرات صحابۂ کرام ؓ کی بہادری
اللہ کے راستے میں نکلنے کے لیے مانگنے پر نکیر
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ ایک طاقت ور نوجوان مسجد میں آیا اس کے ہاتھ میں لمبے لمبے تیر تھے اور وہ کہہ رہا تھا کہ اللہ کے راستے میں جانے کے لیے کون میری مدد کرے گا؟ حضرت عمر ؓ نے اسے بلایا، لوگ اسے لے کر حضرت عمر کے پاس آئے۔ آپ نے فرمایا کہ اپنے کھیت میں کام کرانے کے لیے کون اسے مجھ سے مزدوری پر لیتا ہے؟ ایک اَنصاری نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں لیتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ہر مہینہ اسے کتنی تنخواہ دو گے؟ اس اَنصاری نے کہا: اتنی دوں گا۔ حضرت عمر نے فرمایا: لو، اسے لے جائو۔ چناںچہ اس نوجوان نے اس اَنصاری کے کھیت میں کئی مہینے کام کیا۔ پھر حضرت عمر ؓ نے اس اَنصاری سے پوچھا کہ ہمارے مزدور کا کیا ہوا؟ اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! وہ بہت نیک آدمی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اسے بھی میرے پاس لے آئو اور اس کی جتنی تنخواہ جمع ہو گئی ہے وہ بھی میرے پاس لے آئو۔ چناںچہ وہ اَنصاری اس نوجوان کو بھی لائے اور اس کے ساتھ درہموں کی ایک تھیلی بھی لائے۔ حضرت عمرنے فرمایا: لو یہ تھیلی۔ اب اگرتم چاہو تو (ان دراہم کو لے کر) غزوہ میں چلے جائو، اور اگر چاہو تو (گھر) بیٹھ جائو۔ 3