نبی کریم ﷺ کا صحابہ کرام ؓ کو دعوت دینا
حضور ﷺ کا ایسے صحابی کو دعوت دینا جن کا نام نہیں بیان کیا گیا
حضرت ابوتمیمہ ہُجَیمیؓ اپنی قوم کے ایک آدمی کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ وہ آدمی حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا (یا حضرت ابوتمیمہ کہتے ہیں کہ میں حضورﷺ کی خدمت میں موجود تھا وہاں ایک آدمی آیا) اور اس آدمی نے پوچھا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں؟ یا یہ پوچھا کہ آپ محمد ہیں؟ حضورﷺ نے فرمایا: ہاں۔ پھر اس نے پوچھا کہ آپ کس کو پکارتے ہیں؟ حضورﷺ نے فرمایا: اکیلے اللہ عزّوجل کو پکارتا ہوں، جس کی صفت یہ ہے کہ جب تم کو کوئی نقصان پہنچے اور تم اس کو پکارو تو وہ تمہارے نقصان کو دور کردے، اور جب تم پر قحط سالی آجائے اور تم اس کو پکارو تووہ تمہارے لیے غلّہ اُگادے، اور جب تم چٹیل میدان میںہو اور تمہاری سواری گم ہوجائے اور تم اس کو پکارو تو وہ تمہاری سواری تمہیں واپس کردے ۔ یہ بات سن کر وہ آدمی فوراً مسلمان ہوگیا۔ پھر اس نے عرض کیا :یا رسول اللہ!مجھے کچھ وصیت فرمائیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: کسی چیز کو کبھی گالی نہ دینا۔ (حَکَم راوی کو شک ہوا کہ اس موقع پر حضورﷺ نے شَیْئًا فرمایا یا أَحَداً فرمایا، مطلب دونوں کا ایک ہی ہے) وہ صاحب کہتے ہیں کہ حضورﷺ کے وصیّت فرمانے کے بعد میں نے آج تک کبھی کسی اونٹ یا کسی بکری کو بھی گالی نہیں دی۔ 2