حضرات صحابۂ کرام ؓ کی بہادری
عورتوں کا جہاد فی سبیل اللہ میں نکلنا
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب حضور ﷺ سفر میں جانے کا ارادہ فرماتے تو اپنی ازواجِ مطہّرات کے درمیان قرعہ اندازی فرماتے، جس کا نام قرعہ اندازی میں نکل آتا اس کو حضور ﷺ اپنے ساتھ لے جاتے۔ جب غزوۂ بنی مصطلق پیش آیا تو اپنی عادت شریفہ کے مطابق اپنی ازواجِ مطہّرات کے درمیان قرعہ اندازی فرمائی جس میں حضور ﷺ کے ساتھ جانے کے لیے میرا نام نکل آیا۔ چناںچہ حضور ﷺ مجھے ساتھ لے کر اس سفر میں تشریف لے گئے۔ اس زمانے میں عورتیں گزارے کے بقدر بہت کم کھایا کر تی تھیں جس کی وجہ سے گوشت کم ہو تا تھا اور جسم بھاری نہیں ہو ا کر تا تھا۔ جب لوگ میرے اُونٹ پر کجا وہ باندھنے لگتے تو میں اپنے ہودج میں بیٹھ جاتی، پھر وہ لوگ آتے جو میرے اُونٹ پر کجا وہ باندھتے اور ہودج کو نیچے سے پکڑ کر مجھے اُٹھا تے اور اُونٹ کی پشت پر رکھ کر اسے رسی سے باندھ دیتے، پھر اُونٹ کی رسی کو آگے سے پکڑ کر لے چلتے۔ جب حضور ﷺ کا یہ سفر پورا ہو گیا تو آپ نے واپسی میں مدینہ کے قریب ایک جگہ پڑائو ڈالا اور رات کا کچھ حصہ وہاں گزارا۔ پھر منادی نے لوگوں میں وہاں سے کُوچ کرنے کا اعلان کیا۔ چناںچہ لوگ وہاں سے چل پڑے۔
میں اس وقت قضائے حاجت کے لیے باہر گئی ہوئی تھی۔ میرے گلے میں ایک ہار تھا جو یمن کے (قبیلہ حمیر کے شہر) ظِفَار کی کوڑیوں کا بنا ہوا تھا۔ جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہو کر اُٹھی تو وہ میرے گلے سے گر گیا اور مجھے پتہ نہ چلا۔ جب میں کجاوے کے پاس پہنچی تو میں نے اس ہار کو اپنی گردن میں تلاش کیا تو وہ مجھے نہ ملا اور لوگوں نے وہاں سے چلنا شروع کردیا۔ میں جس جگہ گئی تھی وہاں جا کر میں نے اسے تلاش کیا، مجھے وہاں مل گیا۔ جو لوگ میرے اُونٹ کا کجاوہ باندھا کرتے تھے وہ کجاوہ باندھ چکے تھے۔ وہ میرے بعد آئے اور یہ سمجھے کہ میں اپنی عادت کے مطابق ہودج میں ہوں اس لیے انھوں نے ہودج اُٹھا کر اُونٹ پر باندھ دیا۔ (انھیں ہودج کے ہلکا ہو نے کا احساس بھی نہ ہوا، کیوںکہ میرا جسم بہت ہلکا تھا ) اور انھیں میرے اس میں نہ ہونے کا شک بھی نہ گزرا۔ پھر وہ اُونٹ کی نکیل پکڑ کر چلے گئے۔ میں جب لشکر کی جگہ واپس آئی تو وہاں کوئی نہیں تھا، سب لوگ جا چکے تھے۔ میں اپنی چادر میں لپٹ گئی۔ اور مجھے یقین تھا کہ جب میں نہیں ملوں گی تو لوگ مجھے تلاش کرنے یہاں واپس آئیں گے۔
اللہ کی قسم! میں وہاں لیٹی ہوئی تھی کہ حضرت صفوان بن معطّل سُلَمِی ؓ میرے پاس سے گزرے۔ وہ اپنی کسی ضرورت سے لشکر سے پیچھے رہ گئے تھے، اس لیے انھوں نے یہ رات لوگوں کے ساتھ نہ گزاری۔ انھوں نے جب میرا وجود دیکھا تو آکر میرے پاس کھڑے ہو گئے اور پردہ کا حکم نازل ہونے سے پہلے انھوںنے مجھے دیکھا ہوا تھا، اس لیے انھوں نے جب مجھے دیکھا تو (مجھے پہچان لیا اور) کہا: إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ یہ تو رسول اللہ ﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں۔ حالاں کہ میں کپڑوں میں لپٹی ہوئی تھی۔ حضرت صفوان نے کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے! آپ کیسے پیچھے رہ گئی ہیں؟ فرماتی ہیں: میں نے اُن کو کوئی جواب نہ دیا۔ پھر انھوں نے اُونٹ میرے قریب لا کر کہا: اس پر سوار ہو جائو۔ اور خود میرے سے دور چلے گئے۔ چناںچہ میں سوار ہو گئی اور انھوں نے اُونٹ کی نکیل پکڑ کر لوگوں کی تلاش میں تیز تیز چلنا شروع کر دیا۔ صبح تک ہم لوگوں تک نہ پہنچ سکے اور نہ ہی لوگوں کو میرے نہ ہونے کا پتہ چل سکا۔ ان لوگوں نے ایک جگہ پڑائو ڈالا۔ جب وہ لوگ وہاں ٹھہر گئے تو اتنے میں یہ (حضرت صفوان) مجھے اُونٹ پر بٹھائے، اُونٹ کی نکیل پکڑے ہوئے وہاں پہنچ گئے۔
اس پر اِفک والوں نے (تہمت باندھنے والوں نے) جو بات بنانی تھی وہ بنا کر کہنی شروع کر دی اور سارے لشکر میں بے چینی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ اللہ کی قسم! مجھے کسی بات کی خبر نہیں تھی۔ پھر ہم مدینہ آگئے۔ وہاں پہنچتے ہی میں بہت زیادہ بیمار ہو گئی۔ اور لوگوں میں جو باتیں ہو رہی تھیں ان میں سے کوئی بات بھی مجھ تک نہ پہنچ سکی، البتہ حضور ﷺ اور میرے والدین تک ساری بات پہنچ چکی تھی لیکن کسی نے مجھ سے کسی قسم کا تذکرہ نہ کیا۔ ہاں! اتنی بات ضرور تھی کہ میں نے حضور ﷺ کی وہ پہلے والی عنایت نہ دیکھی۔ میں جب بیمار ہو جاتی تھی تو آپ مجھ پر بہت شفقت اور مہربانی فرماتے تھے۔ آپ نے میری اس بیماری میں وہ کچھ بھی نہ کیا۔ مجھے آپ کی اس بات سے کچھ کھٹک محسوس ہوئی۔ آپ جب گھر میں داخل ہوتے اور میرے پاس آتے اور میرے پاس میری والدہ کو تیمار داری میں مشغول دیکھتے تو بس اتنا فرماتے کہ اب اس کا کیا حال ہے؟ اس سے زیادہ کچھ نہ فرماتے۔
آپ کی اس بے رُخی کو دیکھ کر مجھے بڑی پریشانی ہوئی۔ اور اس بے رُخی کو دیکھ کر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں اپنی والدہ کے پاس چلی جاتی ہوں، وہ میری تیمار داری بھی کرتی رہیں گی۔ آپ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے، تم جاسکتی ہو۔ چناںچہ میں اپنی والدہ کے پاس چلی گئی اور جو کچھ مدینہ میں ہو رہا تھا مجھے اس کی کچھ خبر نہیں تھی۔ بیس دن سے زیادہ گزرنے کے بعد میری صحت ٹھیک ہوئی، لیکن ابھی کمزوری باقی تھی۔ اور ہم لوگ اپنے گھروں میں بیت الخلا نہیں بنایا کرتے تھے جیسے عجمی لوگ بناتے تھے بلکہ گھروں میں بیت الخلا کو برا سمجھتے تھے۔ قضائے حاجت کے لیے ہم لوگ مدینہ کے صحرا میں جایا کرتے تھے اور عورتیں قضائے حاجت کے لیے رات کو جایا کر تی تھیں۔ ایک رات میں قضائے حاجت کے لیے باہر نکلی اور میرے ساتھ حضرت اُمّ مسطح بنتِ ابی رُہم بن مُطّلب ؓ بھی تھیں۔ اللہ کی قسم! وہ میرے ساتھ جا رہی تھیں کہ اُن کا پائوں چادر میں اَٹکا اور وہ گر گئیں۔ تو انھوں نے کہا: مسطح برباد ہو! میں نے کہا: اللہ کی قسم! تم نے برا کیا۔ ایک مہاجری جو کہ غزوۂ بدر میں شریک ہوا اس کو تم نے کیا کہہ دیا۔ حضرت اُمّ مسطح نے کہا: اے ابو بکر کی بیٹی! کیا ابھی تک تمہیں خبر نہیں پہنچی؟ میں نے کہا: کیسی خبر؟ اس پر انھوں نے مجھے اہلِ اِفک کی ساری بات بتائی۔ میں نے کہا: ایسی بات وہ کہہ چکے ہیں؟ انھوں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! یہ بات انھوں نے کہی ہے۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: اللہ کی قسم! (یہ بات سن کر میری حالت تو ایسی ہو گئی کہ) میں قضائے حاجت پوری نہ کر سکی اور میں واپس آگئی۔ اللہ کی قسم! پھر تو میں روتی رہی اور مجھے ایسا محسوس ہونے لگا کہ زیادہ رونے کی وجہ سے میرا جگر پھٹ جائے گا۔ اور میں نے اپنی والدہ سے کہا: اللہ آپ کی مغفرت فرمائے! لوگوں نے تو اتنی باتیں بنا لیں اور آپ نے مجھے کچھ بھی نہیں بتایا۔ انھوں نے کہا: اے میری بیٹی! تم زیادہ پریشان نہ ہو۔ اللہ کی قسم! جب کسی آدمی کی کوئی خوب صورت بیوی ہو اور وہ اس سے محبت بھی کرتا ہو اور اس عورت کی اور سوکن عورتیں بھی ہوں تو یہ سوکن عورتیں اور دوسرے لوگ اس کے عیب کے بارے میں زیادہ باتیں ضرور کریں گے۔
حضور ﷺ نے کھڑے ہو کر لوگوں میں بیان فرمایا اور مجھے اس بات کا کوئی علم نہ تھا۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا: اے لوگو! ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ مجھے میرے گھر والوں کے بارے میں تکلیف پہنچاتے ہیں، اور اُن پر ناحق اِلزام لگاتے ہیں؟ اللہ کی قسم! مجھے تو اپنے گھر والوں کے بارے میں ہمیشہ بھلائی ہی نظر آئی ہے۔ اور اللہ کی قسم! جس مرد پر اِلزام لگا رہے ہیں اس میں ہمیشہ بھلائی ہی نظر آئی ہے۔ جب بھی وہ میرے کسی گھر میں داخل ہو ا ہے، وہ میرے ساتھ ہی داخل ہو اہے۔ اس بہتان کے اُٹھا نے اور بڑھانے میں سب سے زیادہ حصہ عبد اللہ بن اُبی بن سلول منافق نے لیا تھا، اور قبیلہ خزرج کے کئی آدمیوں اور حضرت مسطح ؓ اور حضرت حمنہ بنتِ حجش ؓ نے بھی اس کا ساتھ دیا تھا۔ حضرت حمنہ کے دلچسپی لینے کی وجہ یہ تھی کہ اُن کی بہن حضرت زینب بنتِ حجش ؓ حضورﷺ کی زوجہ محترمہ تھیں۔ اور حضور ﷺ کی تمام ازواجِ مطہّرات میں سے حضرت زینب ہی حضور ﷺ کے ہاں قدر ومنزلت میں میری برابری کرتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو اُن کو ان کی دین داری کی برکت سے محفوظ رکھا اس لیے انھوں نے میرے بارے میں بھلائی کی بات ہی کہی، لیکن حضرت حمنہ نے اپنی بہن کی وجہ سے میری ضد میں آکر اس بات کو بہت اُچھالا اور پھیلایا اس لیے وہ گناہ لے کر بدبخت بنیں۔
جب حضور ﷺ نے یہ بات فرمائی تو حضرت اُسید بن حضیر ؓ نے کہا: یا رسول اللہ! اگر وہ اِلزام لگانے والے (ہمارے قبیلہ) اَوس میں سے ہیں تو آپ کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ہم ان سے نمٹ لیں گے۔ اور اگروہ ہمارے خزرجی بھائیوں میں سے ہیں تو آپ ان کے بارے میں جو ارشاد فرمائیں ہم ویسے ہی کریں گے۔ اللہ کی قسم! اُن کی تو گردن اڑا دینی چاہیے۔ اس پر حضرت سعد بن عبادہ ؓ کھڑے ہو گئے اور انھیں اس سے پہلے نیک اور بھلا آدمی سمجھا جاتا تھا۔ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم نے غلط کہا۔ ان لوگوں کی گردن نہیں اُڑائی جا سکتی۔ اللہ کی قسم! تم نے یہ بات صرف اس وجہ سے کہی ہے کہ تمہیں پتہ ہے کہ وہ لوگ خزرج میں سے ہیں، اگر وہ تمہاری قوم میں سے ہوتے تو تم یہ بات ہر گز نہ کہتے۔ حضرت اُسید بن حضیر نے کہا: اللہ کی قسم! تم غلط کہہ رہے ہو۔ تم خود منافق ہو اور منافقوں کی طرف سے لڑ رہے ہو۔ اس پر لوگ ایک دوسرے کے مقابلہ میں کھڑے ہوگئے اور اَوس وخزرج کے دونوں قبیلوں میں لڑا ئی ہونے ہی والی تھی (لیکن لوگوں نے بیچ بچائو کرا دیا)۔
حضور ﷺ منبر سے اُتر کر میرے پاس تشریف لائے اور وحی آنہیں رہی تھی، اس لیے آپ نے حضرت علی ؓ اور حضرت اُسامہ ؓکو بلا کر ان سے اپنے گھر والوں کو (یعنی حضرت عائشہ ؓ کو) چھوڑنے کا مشورہ لیا۔ حضرت اُسامہ نے تو حضور ﷺ کے گھر والوں کے بارے میں تعریف ہی کی اور خیر کی بات ہی کہی۔ پھر کہا: یا رسول اللہ! آپ اپنے گھر والوں کو رکھیں کیوںکہ ہم نے ان سے ہمیشہ خیر اور بھلا ہی دیکھا ہے، اور یہ بہتان سب جھوٹ اور غلط ہے۔ اور حضرت علی نے کہا: یا رسول اللہ! عورتیں بہت ہیں، آپ ان کی جگہ کسی اور کو لانے پر قادر ہیں، اور آپ باندی سے پوچھ لیں وہ آپ کو ساری سچی بات بتا دے گی۔ چناںچہ حضور ﷺ نے حضرت بریرہ ؓ کو پوچھنے کے لیے بلایا۔ حضرت علی نے کھڑے ہو کر حضرت بریرہ کی خوب پٹائی کی اور کہا: رسول اللہ ﷺ سے سچی بات کہنا۔ تو حضرت بریرہ نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے ان کے (حضرت عائشہ ؓ کے) بارے میں نیکی اور بھلائی کے علاوہ اور کچھ معلوم نہیں ہے۔ اور مجھے ان میں کوئی عیب نظر نہیں آتا ہے صرف یہ عیب نظر آتا ہے کہ میں انھیں آٹا گوندھ کر دیتی ہوں اور ان سے کہتی ہوں کہ اس آٹے کو سنبھال کر رکھنا، یہ بے خیا لی میں سو جاتی ہیں بکری آکر آٹے کو کھا جاتی ہے ۔
اس کے بعد ایک مرتبہ پھر حضور ﷺ میرے پاس تشریف لائے۔ میرے والدین بھی میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور ایک اَنصاری عورت بھی بیٹھی ہو ئی تھی۔ میں بھی رو رہی تھی اور وہ عورت بھی رو رہی تھی۔ حضور ﷺ بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا: اے عائشہ! لوگ جو کہہ رہے ہیں وہ بات تم تک پہنچ چکی ہے، اس لیے تم اللہ سے ڈرو۔ اور لوگ جو کہہ رہے ہیں اگر واقعی تم سے کوئی برا کام ہو گیا ہے تو تم اللہ سے توبہ کرلو، کیوںکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ کو قبول فرماتے ہیں۔ اللہ کی قسم! آپ کے یہ فرماتے ہی میرے آنسو ایک دم رُک گئے، اس کے بعد ایک قطرہ بھی نہ نکلا۔ میں نے کچھ دیر انتظار کیا کہ میرے والدین میری طرف سے حضور ﷺ کو جواب دیں، لیکن وہ دونوں کچھ نہ بولے۔ اللہ کی قسم! میں اپنا درجہ اتنا بڑا نہیں سمجھتی تھی کہ میرے بارے میں اللہ تعالیٰ مستقل آیات نازل فرما دیں گے جن کی تلاوت کی جاتی رہے گی اور جن کو نماز میں پڑھا جاتا رہے گا، لیکن مجھے اس کی اُمید تھی کہ حضور ﷺ کوئی ایسا خواب دیکھیں گے جس سے اللہ تعالیٰ مجھے اس اِلزام سے بری کر دیں گے، کیوںکہ اللہ کو تو معلوم ہے کہ میں اس الزام سے بالکل پاک و صاف اوربری ہوں۔ میرے بارے میں قرآن نازل ہو جائے میں اپنا درجہ اس سے کم سمجھتی تھی۔
جب میں نے دیکھا کہ میرے والدین جواب دینے کے لیے نہیں بول رہے ہیں تو میں نے ان سے کہا کہ آپ دونوں حضور ﷺ کو جواب کیوں نہیں دیتے ہیں؟ دونوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہمیں پتہ نہیں ہے کہ ہم حضور ﷺ کو کیا جواب دیں۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: مجھے کوئی ایسے گھر والے معلوم نہیں ہیں کہ جن کو اتنی پریشانی آئی ہو جتنی ان دنوں حضرت ابو بکر کے خاندان والوں کو آئی تھی۔ جب میرے والدین نے میرے بارے میں کچھ نہیں کہا تو میرے آنسو نکل آئے اور میں رو پڑی۔ پھر میں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ نے جو فرمایا ہے میں اس سے کبھی توبہ نہیں کروں گی (کیوںکہ یہ کام میں نے کیا ہی نہیں ہے)۔ اللہ کی قسم! کیوںکہ میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ لوگ جو کہہ رہے ہیں اگر میں اس کا اقرار کر لوں حالاںکہ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ میں اس سے بری ہوں تو میں ایسی بات کا اقرار کروں گی جو ہوئی نہیں ہے۔ اور لوگ جو کہہ رہے ہیں کہ اگر میں اس کا انکار کروں تو آپ لوگ مجھے سچا نہیں مانیں گے۔ پھر میں نے حضرت یعقوب ؑ کا نام لینا چاہا مگر اس وقت مجھے یاد نہ آیا، تو میں نے کہا کہ اب میں بھی وہی کہتی ہوں جو حضرت یوسف ؑ کے والد نے کہا تھا یعنی:
{فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ ط وَاللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوْنَ O}1
اب صبر ہی بہتر ہے اور اللہ ہی سے مد د مانگتا ہوں اس بات پر جو تم ظاہر کرتے ہو۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم! حضور ﷺ اپنی مجلس سے ابھی اُٹھے نہیں تھے کہ اللہ کی طرف سے وحی نازل ہو نے لگی اور حسب ِسابق آپ پر غشی طاری ہو گئی۔ آپ کو آپ کے کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا اور چمڑے کا ایک تکیہ آپ کے سر کے نیچے رکھ دیا گیا۔ میں نے جب (وحی نازل ہونے کا) یہ منظر دیکھا تو نہ میں گھبرائی اور نہ میں نے اس کی پروا کی، کیوںکہ مجھے یقین تھا کہ میںبے قصور ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ پر ظلم نہیں فرمائیں گے۔ اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں عائشہ کی جان ہے! میرے والدین پر اس وقت سخت پریشانی کی حالت تھی۔ ابھی حضور ﷺ کی وہ حالت دور نہیں ہوئی تھی کہ مجھے یقین ہوگیا کہ اس ڈر سے میرے والدین کی جان نکل جائے گی کہ کہیں اللہ کی طرف سے لوگوں کی بات کی تصدیق نہ آجائے۔ پھر جب آپ کی حالت ٹھیک ہوگئی تو آپ بیٹھ گئے تو حالاں کہ سردی کا موسم تھا، لیکن آپ کے چہرۂ ٔمبارک سے موتیوں کی مانند پسینہ ڈھلک رہا تھا۔
آپ اپنے چہرہ سے پسینہ پونچھتے ہوئے فرمانے لگے: اے عائشہ! تمہیں خوش خبری ہو! اللہ عزّوجل نے تمہاری براء ت نازل فرما دی ہے۔ میں نے کہا: الحمد للہ! پھر آپ لوگوں کے پاس باہر تشریف لے گئے اور ان میں بیان فرمایا اور اس بارے میں جو قرآن اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا تھا وہ لوگوں کو پڑھ کر سنایا۔ پھر حضرت مسطح بن اَثاثہ ؓ اور حضرت حسان بن ثابت ؓ اور حضرت حمنہ بنتِ حجش ؓ کے بارے میں حکم فرمایا جس پر انھیں حد لگائی گئی۔ ان حضرات نے اس بے حیائی کی بات کے پھیلانے میں حصہ لیا تھا۔1
امام احمد نے یہی حدیث بہت لمبی بیان کی ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ (جب حضور ﷺ نے میری بر اء ت کی آیت سنائی تو) میری والدہ نے مجھ سے کہا کہ کھڑی ہو کرحضور ﷺ کے پاس جائو (اور حضور ﷺ کا شکریہ ادا کرو)۔ میں نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں کھڑی ہو کر حضور ﷺ کے پاس نہیں جائوں گی اور میں تو صرف اللہ عزّوجل ہی کی تعریف کروں گی جس نے میری براء ت نازل فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے :
{اِنَّ الَّذِیْنَ جَآئُ وْ بِالْاِفْکِ عُصْبَۃٌ مِّنْکُمْ}2
جو لوگ لائے ہیں یہ طوفان تمہیں میں ایک جماعت ہیں ۔
سے دس آیتیں نازل فرمائیں۔
حضرت ابو بکر ؓ حضرت مسطح ؓ پر رشتہ دار ہونے یا غریب ہونے کی وجہ سے خرچ کیا کرتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے میری براء ت کے بارے میں یہ آیات نازل فرمائیں تو حضرت ابو بکر نے کہا کہ اللہ کی قسم! جب اس مسطح نے عائشہ کے بارے میں اتنی بڑی بات کہہ دی ہے تو اب اس کے بعد میں اس پر کبھی خرچ نہیں کروں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
{وَلَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ اَنْ یُّؤْتُوْا اُولِی الْقُرْبٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَالْمُھٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِصلے وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْاط اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ O}3
اور قسم نہ کھائیں بڑے درجے والے تم میں سے، اور کشایش والے اس پر کہ دیں قرابتیوں کو اور محتاجوں کو اور وطن چھوڑنے والوں کو اللہ کی راہ میں، اور چاہیے کہ معاف کریں اور در گزر کریں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تم کو معاف کرے۔ اور اللہ بخشنے والا ہے مہربان ۔
(اس آیت کو سن کر) حضرت ابو بکر نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! میں چاہتا ہوں کہ اللہ مجھے معاف فرمائے۔ پھر حضرت مسطح کو جو خرچہ دیا کرتے تھے وہ دینا شروع کر دیا اور فرمایا: اللہ کی قسم! میں اس کا خرچ کبھی نہیں روکوں گا۔1
قبیلہ بنو غِفار کی ایک عورت فرماتی ہیں کہ میں بنو غِفار کی عورتوں کے ساتھ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ آپ غزوۂ خیبر میں تشریف لے جا رہے تھے۔ ہم نے عرض کیا: یارسول اللہ! ہم بھی آپ کے ساتھ اس سفر میں جانا چاہتی ہیں۔ ہم زخمیوں کی مرہم پٹی کریں گی اور جتنا ہو سکا ہم مسلمانوں کی مدد کریں گی۔ آپ نے فرمایا: اللہ برکت دے! چلو۔ ہم بھی آپ کے ساتھ گئیں۔ میں نوعمر لڑکی تھی، حضور ﷺ نے اپنے کجا وے کے پیچھے کے تھیلے پر مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ اللہ کی قسم! حضور ﷺ صبح کے قریب نیچے اُترے اور اُونٹنی بٹھا دی تو میں بھی کجاوے کے تھیلے سے اُتر گئی۔ تو میں نے دیکھا کہ تھیلے کو میرا خون لگا ہوا ہے اوریہ مجھے پہلا حیض آیا تھا۔ مجھے شرم آگئی اور میں سمٹ کر اُونٹنی کی طرف چلی گئی۔ جب حضور ﷺ نے مجھے اس حال میں دیکھا تو آپ نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ شاید تمہیں حیض آگیا ہے۔ میں کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: اپنی حالت درست کر لو۔ پھر ایک برتن میں پانی لے کر اس میں نمک ڈال لو، پھر کجاوہ کے تھیلے کو جہاں خون لگا ہوا ہے وہ دھو ڈالو پھر اپنی جگہ جاکر بیٹھ جائو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے خیبر کو فتح کیا تو حضور ﷺ نے ہمیں بھی مالِ غنیمت میں سے کچھ حصہ دیا۔ اور یہ ہار جو تم میرے گلے میں دیکھ رہی ہو یہ حضور ﷺ نے مجھے دیا تھا اور اپنے ہاتھ سے میرے گلے میں ڈالا تھا۔ اللہ کی قسم! یہ کبھی بھی میرے جسم سے الگ نہ ہوگا۔ چناںچہ انتقال تک وہ ہار اُن کے گلے میں رہا۔ پھر انھوں نے (مرتے وقت) وصیت کی کہ یہ ہار اُن کے ساتھ قبر میں دفن کر دیا جائے۔ اور وہ جب بھی حیض سے پاک ہو تیں تو وہ غسل کے پانی میں نمک ضرور ڈالتیں اور مرتے وقت یہ وصیت بھی کی کہ اُن کے غسل کے پانی میں نمک ضرور ڈالا جائے۔ 2
حضرت حُمید بن ہلال فرماتے ہیں کہ قبیلہ طُفَاوہ کے ایک شخص جن کی گزر گاہ ہماری طرف تھی (وہ آتے جاتے ہوئے) ہمارے قبیلہ سے ملتے اور ان کو حدیثیں سنایا کر تے تھے۔ انھوں نے ایک مرتبہ کہا کہ میں ایک مرتبہ اپنے تجارتی قافلہ کے ساتھ مدینہ گیا، وہاں ہم نے اپنا سامان بیچا۔ پھر میں نے اپنے جی میں کہا کہ میں اس آدمی یعنی حضور ﷺ کے پاس جاتا ہوں اور اُن کے حالات لے کر اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو جا کر بتائوں گا۔ جب میں حضور ﷺ کے پاس پہنچا تو آپ نے مجھے ایک گھر دکھا کر فرمایا: اس گھر میں ایک عورت تھی، وہ مسلمانوں کے ساتھ ایک سریہ میں گئی اور وہ گھر میں بارہ بکریاں اور اپنا ایک کپڑا بننے کا برش جس سے وہ کپڑے بُنا کرتی تھی چھوڑ کر گئی، تو اس کی ایک بکری اور وہ برش گم ہوگیا۔ وہ عورت کہنے لگی: یا ربّ! جو آدمی تیرے راستہ میں نکلے اس کی ہر طرح حفاظت کا تو نے ذمہ لیا ہوا ہے (اور میں تیرے راستہ میں گئی تھی، پیچھے) میری بکریوں میں سے ایک بکری اور کپڑا بننے ولا برش گم ہو گیا ہے۔ میں تجھے اپنی بکری اور برش کے بارے میں قسم دیتی ہوں (کہ مجھے واپس فرما دے)۔
راوی کہتے ہیں کہ حضور ﷺ اس طُفَاوی آدمی کو بتانے لگے کہ اس عورت نے کس طرح اپنے رب سے جوش وخروش سے دعا کی۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اس کی وہ بکری اور اس جیسی ایک اور بکری، اور اس کا وہ برش اور اس جیسا ایک اور برش اس کو (اللہ کے غیبی خزانہ سے) مل گیا۔ یہ ہے وہ عورت۔ اگر تم چاہو تو جاکر اس سے پو چھ لو۔ اس طفاوی آدمی نے کہا کہ میں نے حضور ﷺ سے عر ض کیا: نہیں (مجھے اس عورت سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے) بلکہ میں آپ سے سن کر اس کی تصدیق کرتا ہوں (مجھے آپ کی بات پر پورا یقین ہے )۔ 1
’’بخاری‘‘ میں یہ روایت ہے کہ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ حضرت (اُمِّ حرام) بنتِ ملحان ؓ کے گھر تشریف لے گئے، اور ان کے ہاں جا کر ٹیک لگا کر سو گئے اور مسکراتے ہوئے اُٹھے۔ انھوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: (میں نے خواب دیکھا ہے) کہ میری اُمت کے کچھ لوگ اللہ کے راستہ میں سمندر کا سفر کریں گے اور وہ ایسے ہوں گے جیسے بادشاہ تخت پر (بیٹھے) ہوتے ہیں۔ حضرت بنت ِملحان نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا فرما دیں کہ اللہ مجھے ان لوگوں میں شامل فرما دے۔ حضور ﷺ نے دعا فرمائی: اے اللہ! اسے ان لوگوں میں شامل فرما دے۔ آپ نے دوبارہ آرام فرمایا اور مسکراتے ہوئے اُٹھے۔ حضرت بنت ِملحان نے آپ سے پھر وہی کہا، آپ نے پھر وہی جواب دیا (کہ اس مرتبہ خواب میں اُمت کی دوسری جماعت دیکھی ہے)۔ حضرت بنتِ ملحان نے پھر عرض کیا کہ اللہ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان لوگوں میں بھی شامل فرمادے۔ آپ نے فرمایا: تم پہلی جماعت میں سے ہوگی دوسری جماعت میں نہیں ہوگی۔
حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضرت بنتِ ملحان نے حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے شادی کی (اور اُن کے ساتھ جماعت میں گئیں) اور (حضرت معاویہ ؓ کی اہلیہ) حضرت بنتِ قرظہ کی معیت میں سمندر کا سفر کیا۔ واپسی میں اپنے جانور پر سوار ہونے لگیں۔ وہ جانور بِدکا یہ اس سے گر گئیں۔ اور وہاں (جزیرۂ قبرص میں) ان کا انتقال ہو گیا۔