حضرات صحابۂ کرام ؓ کی بہادری
عورتوں کے جہاد میں جانے پر نکیر
قبیلہ بنو قضاعہ کے خاندان عذرہ کی حضرت اُمِّ کبشہ ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں فلاں لشکر میں چلی جائوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! میرا لڑنے کا ارادہ نہیں ہے، میں تو چاہتی ہوں کہ زخمیوں کی مرہم پٹی کروں اور بیماروں کا علاج کروں یا ان کو پانی پلادوں۔ آپ نے فرمایا: اگر مجھے اس بات کا خطرہ نہ ہوتا کہ عورتوں کا جنگ میں جانا مستقل سنت بن جائے گا اور کہا جائے گا کہ فلاں عورت بھی تو گئی تھی (اس لیے ہم بھی جنگ میں جائیں گی حالاں کہ ہر عورت کا جہاد میں جانا مناسب نہیں ہے) تو میں تمہیں ضرور اجازت دے دیتا اس لیے تم گھر بیٹھی رہو۔1
’’بزّار‘‘ میں روایت ہے کہ حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ میں عورتوں کی طرف سے آپ کی خدمت میں نمایندہ بن کر آئی ہوں۔ یہ جہاد تو اللہ تعالیٰ نے مردوں پر فرض کیا ہے۔ اگر جہاد کر کے آئیں تو انھیں اَجر ملتا ہے، اور اگر یہ شہید ہو جائیں تو یہ زندہ ہوتے ہیں اور انھیں ان کے ربّ کے پاس خوب روزی دی جاتی ہے۔ اور ہم عورتیں ان مردوں کی ساری خدمتیں کرتی ہیں تو ہمیں اس میں کیا ملے گا؟ آپ نے فر مایا کہ جو عورت تمہیں ملے اسے یہ بات پہنچا دینا کہ خاوند کی فرماں برداری اور اس کے حقوق کو پہچاننا اس کو جہاد کے برابرثواب دلاتاہے، لیکن تم میں سے بہت تھوڑی عورتیں ایسی ہیں جو اس طرح کر تی ہو ں۔
’’ طبرانی‘‘ نے ایک حدیث نقل کی ہے جس کے آخر میں یہ ہے کہ ایک عورت نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: میں عورتوں کی طرف سے آپ کی خدمت میں قاصد بن کر آئی ہوں۔ جس عورت کو میرے یہاں آنے کی خبر ہے یا نہیں ہر ایک عورت یہ چاہتی ہے کہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ اللہ تعالیٰ مردوں اور عورتوں کے ربّ ہیں اور ان سب کے معبود ہیں، اور آپ مردوں اور عورتوں سب کے لیے اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں پر جہاد فرض کیا اگر وہ جہاد کر کے آئیں تو مالِ غنیمت لے کر آتے ہیں، اور اگر وہ شہید ہو جائیں تو وہ اپنے ربّ کے نزدیک زندہ ہوتے ہیں اور انھیں وہاں خوب روزی دی جاتی ہے۔ تو عورتوں کا کون سا عمل مردوں کے ان اعمال کا ثواب دلا سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: خاوندوں کی فرماں برداری اور ان کے حقوق کو پہچاننا، لیکن تم میں سے بہت تھوڑی عورتیں ایسی ہیں جو اِس طرح کرتی ہوں ۔ 1