صحابۂ کرام ؓکا باہمی اتحاد اور اتفاق رائے کا اہتمام کرنا

صحابۂ کرام ؓ کا حضرت ابو بکر صدیق ؓکی خلافت پر اتفاق

صحابۂ کرام ؓکا باہمی اتحاد اور اتفاق رائے کا اہتمام کرنا، اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف دعوت دینے، اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے میں آپس کے اختلا ف اور جھگڑے سے بچنے کا اہتمام کرنا ابنِ اسحاق سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے سقیفۂ بنی ساعدہ والے دن بیان کرتے ہوئے فرمایاکہ یہ بات جائز نہیں ہے کہ مسلمانوں کے دو امیر ہوں، کیوں کہ جب بھی ایسا ہو گا مسلمانوں کے تمام کاموں اور تمام اَحکام میں اختلاف پیدا ہو جائے گا، اور اُن کا شیرازہ بکھر جائے گا، اور اُن کا آپس میں جھگڑا ہو جائے گا، اور پھر سُنّت چھوٹ جائے گی اور بدعت غالب آجائے گی، اور بڑا فتنہ ظاہر ہو گا اور کوئی بھی اسے ٹھیک نہ کرسکے گا۔1 حضرت سالم بن عبید ؓ حضرت ابو بکر ؓکی بیعت کے بارے میںروایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس موقع پر اَنصار میں سے ایک آدمی نے کہا: ایک امیر ہم (اَنصار) میں سے ہو اور ایک امیر آپ (مہاجرین) میں سے ہو۔ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا: ایک نیام میں دو تلواریں نہیںسما سکتیں ۔2 حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے ایک مرتبہ بیان میں فرمایا: اے لوگو! (اپنے امیرکی) بات ماننا اور آپس میں اِکھٹے رہنااپنے لیے ضروری سمجھو، کیوں کہ یہی چیز اللہ کی وہ رسی ہے جس کو مضبوطی سے تھامنے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ اور آپس میں جڑ مل کر چلنے میں جو ناگوار باتیں تمہیں پیش آئیں گی وہ تمہاری ان پسندیدہ باتوں سے بہتر ہیں جو تم کو الگ چلنے میں حاصل ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ نے جو چیز بھی پیدا فرمائی ہے اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک انتہا بھی بنائی ہے جہاں وہ چیز پہنچ جا تی ہے۔ یہ اسلام کے ثَبات اور ترقی کا زمانہ ہے، اور عنقریب یہ بھی اپنی انتہا کو پہنچ جائے گا، پھر قیامت کے دن تک اس میں کمی زیادتی ہو تی رہے گی۔ اور اس کی نشانی یہ ہے کہ لوگ بہت زیادہ فقیر ہو جائیں گے اور فقیر کو ایساآدمی نہیںملے گا جو اس پر اِحسان کرے اور غنی بھی یہ سمجھے گا کہ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ اس کے لیے کافی نہیں ہے، یہاں تک کہ آدمی اپنے سگے بھائی اور چچازاد بھائی سے اپنی فقیری کی شکایت کرے گا لیکن وہ بھی اسے کچھ نہیں دے گا، اور یہاں تک کہ ضرورت مند سائل ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک ہفتہ بھر مانگتا پھرے گا لیکن کوئی بھی اس کے ہاتھ پر کچھ نہیں رکھے گا۔ اور جب نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی تو زمین سے ایک زوردار آواز اس طرح نکلے گی کہ ہر میدان کے لوگ یہی سمجھیں گے کہ یہ آواز اُن کے میدان سے ہی نکلی ہے۔ اور پھر جب تک اللہ چاہیں گے زمین میں خاموشی رہے گی۔ پھر زمین اپنے جگر کے ٹکڑوں کو باہر نکال پھینکے گی۔ ان سے پوچھاگیا: اے حضرت ابو عبد الرحمن! زمین کے جگر کے ٹکڑے کیا چیزیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: سونے اور چاندی کے ستون۔ اور پھر اس دن کے بعد سے قیامت کے دن تک سونے اور چاندی سے کسی طرح کا نفع نہیں اُٹھا یا جا سکے گا۔ 1 اورحضرت مُجالد ؓ کے علاوہ دیگر حضرات کی روایت میں یہ مضمون ہے کہ رشتہ داریوں کو توڑا جائے گا یہاں تک کہ مال دار کو صرف فقیری کا ڈر ہوگا، اورفقیر کو کوئی آدمی ایسا نہ ملے گاجو اس پر احسان کرے۔ اور آدمی کا چچا زاد بھائی مال دار ہوگااور وہ اس سے اپنی حاجت کی شکایت کرے گا لیکن وہ چچازاد بھائی اسے کچھ نہیں دے گا۔ اس کے بعد والا مضمون ذکر نہیں کیا۔2 ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابو ذر ؓکو دینے کے لیے ایک چیز اُٹھا کر لے چلے۔ اُن کے مقام رَبْذہ پہنچ کر ہم نے ان کے بارے میں پوچھا تو وہ ہمیں وہاںنہ ملے اور ہمیں بتایا گیاکہ انھوں نے (امیر المؤمنین سے) حج پر جانے کی اجازت مانگی تھی ان کو اجازت مل گئی تھی (وہ حج کرنے گئے ہوئے ہیں)۔ چناںچہ ہم وہاں سے چل کر شہرِ منیٰ میں ان کے پاس پہنچے۔ ہم لوگ اُن کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے ان کو بتایا کہ (امیر المؤمنین) حضرت عثمان ؓ نے (منیٰ میں) چار رکعت نماز پڑھی ہے۔ تو انھیں اس سے بڑی ناگواری ہوئی اور اس بارے میں انھوں نے بڑی سخت بات کہی اور فرمایا: میں نے حضور ﷺ کے ساتھ (یہاں منیٰ میں) نماز پڑھی تھی تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی تھی، اور میں نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر ؓ کے(ساتھ) یہاںنماز پڑھی تھی (تو انھوں نے بھی دو دو رکعت نماز پڑھی تھی)۔ لیکن جب نماز پڑھنے کا وقت آیا تو حضرت ابو ذر ؓ نے کھڑے ہو کر چار رکعت نماز پڑھی۔ (حضرت عثمان ؓ نے مکہ میں شادی کرلی تھی اور مکہ میں کچھ دن رہنے کا ارادہ کرلیا تھا اس لیے وہ مقیم ہو گئے تھے اور چار رکعت نماز پڑھ رہے تھے) اس پر اُن کی خدمت میں کہاگیا کہ ا میر المؤمنین کے جس کام پر آپ اعتراض کر رہے تھے اب آپ خود ہی اسے کر رہے ہیں؟ فرمایا: امیرکی مخالفت کرنا اس سے زیادہ سخت ہے۔ ایک مرتبہ حضور ﷺ نے ہم لوگوں میں بیان فرمایاتھا تو ارشاد فرمایاتھاکہ میرے بعدبادشاہ ہو گا تم اسے ذلیل نہ کرنا، کیوںکہ جس نے اسے ذلیل کرنے کا ارادہ کیا اس نے اِسلام کی رسی کو اپنی گردن سے نکال پھینکا۔ اور اس شخص کی توبہ اس وقت تک قبول نہ ہوگی جب تک وہ اس سوراخ کو بند نہ کر دے جو اس نے کیا ہے ( یعنی بادشاہ کو ذلیل کر کے اس نے اِسلا م کو جو نقصان پہنچایا ہے اس کی تلافی نہ کرلے)۔ اور وہ ایسا کر نہ سکے گا اور (اپنے سابقہ رویہ سے) رجوع کر کے اس بادشاہ کی عزّت کرنے والا نہ بن جائے۔ حضور ﷺ نے ہمیں اس بات کا حکم دیا کہ تین باتوں میں بادشاہوں کو ہم اپنے پر غالب نہ آنے دیں ( یعنی ہم اُن کی عزّت کرتے رہیں، لیکن اُن کی وجہ سے یہ تین کام نہ چھوڑیں): ایک توہم نیکی کا لوگوں کو حکم دیتے رہیں، اور برائی سے روکتے رہیں، اور لوگوں کو سُنّت طریقے سکھاتے رہیں۔ 1 حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیںکہ حضورِ اَقدس ﷺ، حضرت ابو بکر اور حضرت عمر ؓ مکہ اور منیٰ میں دو رکعت قصر نماز پڑھا کرتے تھے اور اسی طرح حضرت عثمان ؓ نے بھی اپنی خلافت کے ابتدائی زمانہ میں دو ہی رکعت نماز پڑھی، لیکن بعد میں چار رکعت پڑھنے لگے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓکو جب یہ بات معلوم ہوئی تو انھوں نے کہا: إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔(لیکن جب نماز پڑھنے کا وقت آیا) تو انھوں نے کھڑے ہو کر چار رکعت نماز پڑھی، تو ان سے کہا گیا کہ(چار رکعت کی خبر پر تو) آپ نے إِنَّا لِلّٰہِپڑھی تھی اور خود چار رکعت پڑھ رہے ہیں؟ تو انھوں نے فرمایا: امیر کی مخالفت کرنا اس سے زیادہ بُری چیز ہے۔1 حضرت علیؓ نے ایک مرتبہ فرمایاکہ تم ویسے ہی فیصلے کرتے رہو جیسے پہلے کیا کرتے تھے، کیوںکہ میں اختلاف کو بہت بری چیز سمجھتا ہو ں۔ یا تو لوگوں کی ایک ہی جماعت رہے یا میں مرجائوں جیسے میرے ساتھی ( حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان ؓ بغیراختلافات کے) مر گئے۔ چناںچہ حضرت ابنِ سیرین ؓکی رائے یہ تھی کہ (غلو پسند) لوگ حضرت علی ؓ سے عموماً جو روایات نقل کرتے ہیں وہ غلط ہیں۔2 حضرت سُلیم بن قیس عامری بیان کرتے ہیں: ابنِ کوّاء نے حضرت علی ؓ سے سُنّت اور بدعت اور اِکٹھے رہنے اور بکھر جانے کے بارے میں پوچھا تو حضرت علی نے فرمایا: اے ابنِ کوّاء! تم نے سوال یاد رکھا اب اس کا جواب سمجھ لو۔ اللہ کی قسم! سُنّت تو حضر ت محمد ﷺ کا طریقہ ہے، بدعت وہ کام ہے جو اس طریقہ سے ہٹ کر ہو۔ اور اللہ کی قسم! اہلِ حق کا اکٹھا ہونا ہی اصل میں اکٹھا ہونا ہے چاہے وہ تعداد میں کم ہوں، اور اہلِ باطل کا اکٹھا ہونا حقیقت میں بکھر جاناہے چاہے وہ تعداد میں زیادہ ہوں۔3 صحابۂ کرام ؓ کا حضرت ابو بکر صدیق ؓکی خلافت پر اتفاق حضرت عروہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں: (حضور ﷺ کے انتقال کی خبر سن کر) حضرت ابوبکر صدیق ؓسُنَح محلہ سے اپنی سواری پر تشریف لائے اورمسجدکے دروازے پر پہنچ کر سواری سے نیچے اُترے۔ آپ بڑے بے چین اور غمگین تھے۔ اور انھوں نے اپنی بیٹی حضرت عائشہ ؓ سے گھر میں آنے کی اجازت چاہی، حضرت عائشہ نے اجازت دی۔ حضرت ابو بکر اندر تشریف لے گئے۔ حضور ﷺ کا انتقال ہوچکا تھا اورآپ اپنے بسترپرتھے اورآپ کی ازواجِ مطہّرات آپ کے اِرد گرد بیٹھی ہوئی تھیں۔ حضرت عائشہ ؓ کے علاوہ باقی تمام ازواجِ مطہّرات نے اپنے چہرے چادروں سے چھپا لیے اور حضرت ابو بکرسے پردہ کرلیا۔حضرت ابو بکر ؓ نے حضور ﷺ کے چہرۂ مبارک سے چادر ہٹائی اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر بوسہ لینے لگے اور روتے ہوئے فرمانے لگے کہ حضرت (عمر) ابنِ خطّاب جو کہہ رہے ہیں وہ ٹھیک نہیں ہے (کہ حضور ﷺ کا انتقال نہیں ہوا ہے بلکہ یہ بے ہوشی طاری ہوئی ہے یا اُن کی رُوح معراج میں گئی ہے جو واپس آجائے گی) رسول اللہ ﷺکاانتقال ہو گیا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! یا رسول اللہ! آپ پر اللہ کی رحمت ہو۔ آپ حالتِ حیات میں اور وفات کے بعد بھی کتنے پاکیزہ ہیں۔ حضرت ابو بکر ؓ نے حضور ﷺ کے چہرے پر چادر ڈال دی اور پھر تیزی سے مسجد کی طرف چلے اور لوگوں کی گردنوں کو پھلانگتے ہوئے منبر تک پہنچے۔ حضرت ابو بکر کو آتا ہوا دیکھ کر حضرت عمر ؓ بیٹھ گئے۔ حضرت ابو بکر نے منبر کی ایک جانب کھڑے ہو کر لوگوں کو آواز دی۔ آواز سن کر سب بیٹھ گئے اور خاموش ہو گئے۔ پھر حضرت ابو بکر ؓ نے کلمۂ شہادت جیسا انھیں آتا تھا پڑھا اور فرمایاکہ جب اللہ کے نبی ﷺ تمہارے درمیان زندہ تھے اسی وقت اللہ تعالیٰ نے اُن کو موت کی خبر دے دی تھی،اور تم کو بھی تمہاری موت کی خبر دے دی، اور یہ موت ایک یقینی امر ہے۔ اللہ عزّ وجل کے علاوہ تم میں سے کوئی بھی (اس دنیا میں) باقی نہیں رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے (قرآن میں) فرمایا ہے: {وَمَا مُحَمَّدٌ اِلاَّ رَسُوْلٌج قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ}1 اور محمد (ﷺ) نِرے رسول ہی تو ہیں۔اور آپ سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ سو اگر آپ کا انتقال ہو جاوے یا آپ شہید ہی ہو جائیں تو کیا تم لوگ اُلٹے پھر جائوگے؟ حضرت عمرنے فرمایا:(میں اس آیت کو بالکل ہی بھول گیا تھا اور حضرت ابو بکرکے پڑھنے سے مجھے یہ یاد آئی اور مجھے ایسا لگا کہ جیسے) قرآن کی یہ آیت آج ہی نازل ہوئی ہے اور آج سے پہلے نازل نہیں ہوئی۔ اور اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ سے فرمایاہے: {اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّاِنَّھُمْ مَّیِّتُوْنَ o}1 آ پ کو بھی مرنا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے: {کُلُّ شَیْئٍ ھَالِکٌ اِلاَّ وَجْھَہٗ ط لَہُ الْحُکْمُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ o}2 سب چیزیں فنا ہونے والی ہیں بجز اس کی ذات کے۔ اسی کی حکومت ہے (جس کا ظہورِ کامل قیامت میں ہے) اور اسی کے پاس تم سب کو جانا ہے۔ (پس سب کو اُن کے کیے کی جزادے گا) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍo وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ o}3 جتنے ( ذی روح) رُوئے زمین پر موجو د ہیںسب فنا ہو جائیں گے اور آپ کے پروردگار کی ذات جو کہ عظمت والی احسان والی ہے باقی رہ جائے گی۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ط وَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ}4 ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور تم کو پوری پاداش تمہاری قیامت کے روز ملے گی۔ اور پھر حضرت ابو بکر نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو اتنی عمر عطا فرمائی اور اُن کو اتنا عرصہ دنیا میں باقی رکھا کہ اس عرصہ میں آپ نے اللہ کے دین کو قائم کر دیا، اللہ کے حکم کو غالب کر دیا، اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور اللہ کے راستہ میں جہاد کیا۔ پھر آپ کو اللہ تعالیٰ نے اسی حالت پر وفات دی۔ اور حضور ﷺ تمہیں ایک (صاف اور کھلے) راستے پر چھوڑ کر گئے ہیں۔ اب جو بھی ہلاک ہو گا وہ اِسلام کی واضح دلیلوں اور (کفر وشرک سے) شفا دینے والے قرآن کو دیکھ کر ہی ہلاک ہوگا۔ جس آدمی کے ربّ اللہ تعالیٰ ہیں تو اللہ تعالیٰ ہمیشہ زندہ ہیں جن پر موت نہیں آ سکتی، اور جو حضرت محمد ﷺ کی عبادت کیا کرتاتھا اور اُن کو معبود کا درجہ دیا کرتا تھا تو (وہ سن لے کہ) اس کا معبود مرگیا۔ اے لوگو! اللہ سے ڈرو اور اپنے دین کو مضبوط پکڑو اور اپنے ربّ پر توکل کرو، کیوںکہ اللہ تعالیٰ کا دین موجود ہے اور اللہ تعالیٰ کی بات پوری ہے۔ اور جو اللہ (کے دین) کی مدد کرے گا اللہ اس کی مدد فرمائیں گے اور اپنے دین کو عزّت عطا فرمائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ کی کتاب ہمارے پاس ہے جو کہ نور اور شفا ہے۔ اسی کتا ب کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو ہدایت عطا فرمائی، اور اسی کتاب میں اللہ کی حلال اور حرام کردہ چیزیں مذکور ہیں۔ اللہ کی قسم! اللہ کی مخلوق میں سے جو بھی ہمارے اوپر لشکر لائے گا ہم اس کی کوئی پروا نہیں کریں گے۔ بے شک اللہ کی تلواریں سُتی ہوئی ہیںہم نے اُن کو ابھی رکھا نہیں ہے۔ اور جو ہماری مخالفت کرے گا ہم اس سے جہاد کریں گے جیسے کہ ہم حضور ﷺ کے ساتھ ہو کر جہاد کیا کرتے تھے۔ اب جو بھی زیادتی کرے گا وہ حقیقت میں اپنے اوپر ہی زیادتی کرنے والا ہے۔ پھر ان کے ساتھ مہاجرین حضورﷺ کی طرف ( تکفین اور تدفین کے لیے) چلے گئے۔1 حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ انھوں نے حضرت عمر ؓکا وہ آخری خطبہ سنا جو انھوں نے منبر پر بیٹھ کر بیا ن فرمایا تھا۔ یہ حضورﷺ کی وفات سے اگلے دن کی بات ہے اور اس وقت حضرت ابو بکر ؓ بالکل خاموش تھے اور کوئی بات نہ فرما رہے تھے۔ حضرت عمر نے فرمایا: مجھے امید تھی کہ حضور ﷺ اتنا زیادہ عرصہ زندہ رہیں گے کہ ہم دنیا سے چلے جائیں گے اور حضور ﷺ ہمارے بعد تشریف لے جائیں گے (لیکن اللہ کو ایسا منظور نہیں تھا۔ اب) اگر حضرت محمد ﷺ کا انتقال ہو گیا ہے تو (گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے) اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان ایک نور (یعنی قرآن) باقی رکھا ہوا ہے جس کے ذریعہ سے تم ہدایت پا سکتے ہو۔ اور اسی کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو ہدایت نصیب فرمائی تھی۔ اور (دوسری بات یہ ہے کہ) حضرت ابو بکر حضور ﷺ کے (خاص) صحابی ہیں اور (ان کی امتیازی صفت اور بڑی فضیلت یہ ہے کہ جب حضور ﷺ ہجرت کی رات میں مکہ سے چل کر غارِ ثور میں چھپ گئے تھے تو اس وقت صرف ابو بکرہی حضور ﷺ کے ساتھ تھے جس کی وجہ سے قرآنِ مجید کے الفاظ کے مطابق) یہ {ثَانِیَ اثْنَیْنِ} یعنی دومیں سے دوسرے ہیں۔ اور یہ تمہارے کاموں کے لیے تمام مسلمانوں میں سے سب سے زیادہ مناسب ہیں، لہٰذا کھڑے ہو کر ان سے بیعت ہو جائو۔ اور اس سے پہلے سقیفۂ بنی ساعدہ میں ایک جماعت حضرت ابو بکر ؓ سے بیعت ہو چکی تھی اور عام مسلمانو ں کی بیعت (مسجد میں) منبر پر ہوئی۔1 حضرت زُہری حضرت انس بن مالک ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے اس دن حضرت عمر ؓ کو سنا کہ وہ حضرت ابو بکر ؓ سے کہہ رہے تھے کہ آپ منبر پر تشریف لے جائیں۔ اور ان کو بار بار یہی کہتے رہے یہاں تک کہ حضرت عمرنے حضرت ابو بکر کو منبر پر خود چڑھایا پھر عام مسلمانوں نے حضرت ابو بکرسے بیعت کی۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ جب سقیفہ (بنی ساعِدہ) میںحضرت ابو بکر ؓ سے بیعت ہوگئی اور حضرت ابو بکر (حضور ﷺ کے انتقال کے) اگلے دن منبر پر بیٹھے۔ اور حضرت عمر ؓ نے کھڑے ہو کر حضرت ابو بکرسے پہلے بیان فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی شایانِ شان حمد وثنا بیان کی پھر فرمایا: اے لوگو! کل میں نے تمہارے سامنے ایسی بات کہہ دی تھی جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہے اور نہ ہی مجھے اس میں ملی ہے اور نہ اس کا مجھ سے حضور ﷺ نے عہد لیا تھا۔ بس میرا اپنا یہ خیال تھا کہ حضور ﷺ ہم سب کے بعد دنیا سے تشریف لے جائیں گے ( اس لیے کل میں نے کہہ دیا تھا کہ حضرت محمد ﷺ کا انتقال نہیں ہوا جو کہ غلط تھا)۔ اور اب اللہ تعا لی نے تمہارے میں اپنی اس کتاب کو باقی رکھا ہوا ہے جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو ہدایت نصیب فرمائی تھی۔ اگر تم اسے مضبوطی سے پکڑ لو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں بھی ان باتوں کی ہدایت دے دے گا جن کی انھیں ہدایت دی تھی۔ اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے امرِ(خلافت) کو تمہارے میں سے سب سے بہترین آدمی پر مجتمع فرما دیا ہے جو حضور ﷺ کے صحابی اور غارِثور کے ساتھی ہیں، لہٰذا تم سب کھڑے ہو کر ان سے بیعت ہو جائو۔ چناںچہ سقیفہ کی بیعت کے بعد (اب مسجد میں) عام مسلمانوں نے حضرت ابو بکر ؓ سے بیعت کی۔ پھر حضرت ابو بکر ؓ نے بیان فرمایا۔ پہلے اللہ تعالیٰ کی شان کے مناسب حمدوثنا بیان کی اور پھر کہا: مجھے تمہارا والی بنا دیا گیا ہے حالاںکہ میں تم میں سب سے بہتر نہیں ہوں۔ (حضرت ابو بکر ؓ یہ بات تواضعًا فرما رہے ہیں ورنہ تمام عُلمائے اُمّت کے نزدیک حضرت ابو بکرتمام صحابہ ؓ میں سب سے افضل ہیں) اگرمیں ٹھیک کام کروں تو تم میری مدد کرو، اور اگر میں ٹھیک نہ کروں تو تم مجھے سیدھا کر دینا۔ سچائی امانت داری ہے اور جھوٹ خیانت ہے۔ اور تمہارا کمزور میرے نزدیک طاقت ورہے، وہ جو بھی شکایت میرے پاس لے کر آئے گا میں اِن شاء اللہ اسے ضرور دور کر دوں گا۔ تمہارا طاقت ور میرے نزدیک کمزورہے، میں اس سے کمزور کا حق لے کر کمزور کو اِن شاء اللہ دوں گا۔ جو لوگ بھی جہاد فی سبیل اللہ چھوڑ دیں گے اللہ تعالیٰ اُن پر ذلّت مسلط فرما دیں گے، اور جو لوگ بھی بے حیائی کی اِشاعت کرنے لگ جائیں گے اللہ تعالیٰ (دنیا میں) ان سب کو (فرماںبردار اور نافرمان کو) عام سزا دیں گے۔ جب تک میں اللہ اور اس کے رسول کی بات مانتا رہوں تم بھی میری مانتے رہو، اور جب میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کروں گا تو پھر میری اطاعت تم پر لازم نہیں ہے۔ اب نماز کے لیے کھڑے ہو جائو۔ اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے! 1 حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیںکہ میں حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓکو قرآن پڑھایا کرتا تھا۔ (اس زمانہ میں بڑے چھوٹوں سے بھی علم حاصل کیا کرتے تھے) ایک دن حضرت عبد الرحمن اپنی قیام گاہ پر واپس آئے تو انھوں نے مجھے اپنے انتظار میں پایا اور یہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ کے آخری حج کا اور منیٰ کا واقعہ ہے۔ حضرت عبد الرحمن نے مجھے بتایا کہ ایک آدمی نے حضرت عمر بن خطّاب کی خدمت میں آکر کہاکہ فلاں آدمی کہہ رہا تھا کہ اگر حضرت عمرکا انتقال ہو گیا تو میں فلاں آدمی سے (یعنی حضرت طلحہ بن عبید اللہ) سے بیعتِ خلافت کرلوں گا۔ اللہ کی قسم! حضرت ابو بکرکی بیعت یوں اچانک ہوئی تھی اور پوری ہوگئی تھی۔ (میں بھی یوں اچانک ان سے بیعت کر لوں گا توان کی بیعت بھی پوری ہوجائے گی اور سب ان سے بیعت ہو جائیں گے) اس پرحضرت عمر ؓ نے فرمایا: آج شام اِن شاء اللہ میں لوگوں میں کھڑے ہو کر بیا ن کروں گا اور لوگوں کو اس جماعت سے ڈرائوں گا جو مسلمانوں سے ان کا امرِ خلافت (یوں اچانک) چھینناچاہتے ہیں (یعنی بغیر مشورہ اور سوچ وبچار کے اپنی مرضی کے آدمی کو اہلیت دیکھے بغیر خلیفہ بنانا چاہتے ہیں)۔ حضرت عبد الرحمن ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر ؓ سے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ ایسا نہ کریں کیوںکہ موسم ِ حج میں گرے پڑے، کم سمجھ اور عام لوگ جمع ہو جا تے ہیں۔ جب آپ بیان کے لیے لوگوں میں کھڑے ہوں گے تو یہی آپ کی مجلس میں غالب آجائیں گے (اوریوں سمجھ دار،عقل مندآدمیوں کوآپ کی مجلس میں جگہ نہ ملے گی)۔ اس لیے مجھے خطرہ ہے کہ آپ جو بات کہیں گے اسے یہ لوگ لے اُڑیں گے، نہ خود پوری طرح سمجھیں گے اور نہ اسے موقع محل کے مطابق دوسروں سے بیان کر سکیں گے۔ (لہٰذا ابھی آپ صبر فرمائیں) جب آپ مدینہ پہنچ جائیں (تو وہاں آپ یہ بیان فرمائیں) کیوںکہ مدینہ ہجرت کا مقام اور سنّتِ نبوی کا گھر ہے۔ لوگوں میں سے عُلمااور سرداروں کو الگ لے کر آپ جو کہنا چاہتے ہیں اطمینان سے کہہ لیں۔ وہ لوگ آپ کی بات کو پوری طرح سمجھ بھی لیں گے اور موقع محل کے مطابق اسے دوسروں سے بیان بھی کریں گے۔ حضرت عمر نے (میری بات کو قبول کرتے ہوئے) فرمایا: اگر میںصحیح سالم مدینہ پہنچ گیا تو (اِن شاء اللہ) میں اپنے سب سے پہلے بیان میں لوگوں سے یہ بات ضرور کہوں گا۔ (حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ) جب ہم ذی الحجہ کے آخری دنوں میں جمعہ کے دن مدینہ پہنچے تو میں سخت گرمی کی پروا کیے بغیر عین دوپہر کے وقت جلدی سے (مسجدِ نبوی) گیا تو میں نے دیکھاکہ حضرت سعید بن زید ؓ مجھ سے پہلے آکر منبر کے دائیں کنارے کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں ان کے برابرمیں گھٹنے سے گھٹنا ملا کر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ حضرت عمر تشریف لے آئے۔ میںنے حضرت عمر کو دیکھ کر کہا: آج حضرت عمر اس منبر پر ایسی بات کہیں گے جو آج سے پہلے اس پرکسی نے نہ کہی ہو گی۔ حضرت سعید بن زید ؓ نے میری اس بات کا انکار کیا اور کہاکہ میرا تو یہ خیال نہیں ہے کہ حضرت عمرآج ایسی بات کہیں جو اُن سے پہلے کسی نے نہ کہی ہو۔ (کیوںکہ دین تو حضور ﷺ کے زمانہ میں پورا ہو چکا اب کون نئی بات لاسکتاہے؟) چناںچہ حضرت عمر منبر پر بیٹھ گئے۔ (پھر مؤذّن نے اذان دی) جب مؤذّن خاموش ہو گیا تو حضرت عمر کھڑے ہوئے اور اللہ کی شان کے مطابق اللہ کی حمد وثنابیان کی۔ پھر فرمایا: اَما بعد! اے لوگو! میں ایک بات کہنے والا ہوںجس بات کو کہنا پہلے سے ہی میرے مقدر میں لکھا جا چکا ہے اور ہو سکتاہے یہ بات میری موت کا پیش خیمہ ہو۔ لہٰذا جو میری بات کو یاد رکھے اور اسے اچھی طرح سمجھ لے تو جہاں تک اس کی سواری اسے دنیا میں لے جائے وہاں تک کے تمام لوگوں میں میری اس بات کو بیان کرے۔ اور جو میری بات کو اچھی طرح نہ سمجھے تو میں اسے اس کی اجازت نہیں دیتا ہوں کہ وہ میرے بارے میں غلط بیا نی سے کام لے۔ (سب کو چوکنا کرنے کے لیے حضرت عمر نے یہ بات پہلے فرما دی) اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو حق دے کر بھیجااور اُن پر کتاب کو نازل فرمایا۔ اور جو کتاب حضور ﷺ پر ناز ل ہوئی اس میں رجم (یعنی زانی کو سنگسار کرنے) کی آیت بھی تھی۔ (اور وہ یہ آیت تھی: ’’ اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوْھُمَا‘‘۔اس آیت کے الفاظ تو منسوخ ہو چکے ہیں لیکن اس کا حکم باقی ہے) ہم نے اس آیت کو پڑھا اور اسے یاد کیا اور اسے اچھی طرح سمجھا۔اور حضور ﷺ نے رجم کیا اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا، لیکن مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ طویل زمانہ گزرنے پر کوئی آدمی یوں کہے کہ ہم تو رجم کی آیت کو کتابُ اللہ میں نہیں پاتے ہیں، اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ فرض کو چھوڑ کر وہ لوگ گمراہ ہوجائیں گے۔ زانی کو رجم کرنے کا حکم اللہ کی کتاب میں تھا۔ جو مُحصَن ( شادی شدہ) مرد یا عورت زنا کریں گے اور زنا کے گواہ پائے جائیں گے، یا زنا سے حاملہ عورت زنا کا اقرار کرلے گی، یا کوئی مرد یا عورت ویسے ہی زنا کا اقرار کریں گے تو اسے رجم کرنا شرعاً لازم ہو گا۔ اور سنو! ہم (قرآن میں) یہ آیت بھی پڑھا کرتے تھے: ’’لَا تَرْغَبُوْا عَنْ اٰبَائِکُمْ، فإِنَّ کُفْرًا بِکُمْ أَنْ تَرْغَبُوْا عَنْ اٰبَائِکُمْ‘‘۔ اپنے باپ دادے کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی طرف نسب کی نسبت نہ کرو، کیوںکہ اپنے باپ دادا کے نسب کو چھوڑنا کفر ہے۔ یعنی کفرانِ نعمت ہے۔ (اب اس آیت کے الفاظ بھی منسوخ ہو چکے ہیں لیکن اس کا حکم باقی ہے) اور سنو! حضور ﷺ نے فرمایاہے کہ میری تعریف میںایسا مبالغہ نہ کرو جیسے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کی تعریف میں مبالغہ کیا گیا۔ میں تو بس ایک بندہ ہی ہوں، لہٰذاتم (میرے بارے) میں یہ کہو کہ یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اور مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم میں کوئی آدمی یہ کہہ رہا ہے کہ اگر حضرت عمرمر گئے تو میں فلاں سے بیعت کرلوں گا۔ اسے اس بات سے دھوکہ نہیں لگنا چاہیے کہ حضرت ابو بکر ؓ کی بیعت اچانک ہوئی تھی اور وہ پوری بھی ہو گئی تھی۔ سنو! وہ بیعت واقعی ایسے ہی (جلدی میں) ہوئی تھی، لیکن اس بیعت کے (جلدی میں ہونے کے) شر سے اللہ تعالیٰ نے (ساری اُمت کو) بچا لیا۔ اور آج تم میں حضرت ابو بکر جیسا کوئی نہیں ہے جس کی فضیلت کے سب قائل ہوں اور قریب وبعید سب اس کی موافقت کرلیں۔ جب حضورﷺ کا انتقال ہوا اس وقت کا ہمارا قصہ یہ ہے کہ حضرت علی اور حضرت زبیر ؓ اور ان کے ساتھ کچھ اور لوگ حضور ﷺ کی صاحب زادی حضرت فاطمہ ؓ کے گھرمیں پیچھے رہ گئے، اور اُدھر تمام اَنصار سقیفۂ بنی ساعدہ میں جمع ہوگئے، اور مہاجرین حضرت ابو بکر ؓ کے پاس جمع ہوگئے۔ میں نے اُن سے کہا: اے ابو بکر! آئیں ہم اپنے اَنصاری بھائیوں کے پاس چلیں۔ چناںچہ ہم ان اَنصاریوں کے ارادے سے چل پڑے۔ راستہ میں ہمیں دو نیک آدمی (حضرت عُویم اَنصاری اورحضرت مَعْن ؓ) ملے اور اَنصار جو کر رہے تھے وہ ان دونوں نے ہمیں بتایا اور ہم سے پوچھاکہ اے جماعتِ مہاجرین! تمہارا کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا: ہم اپنے اَنصاری بھائیوں کے پاس جا رہے ہیں۔ ان دونوںنے کہا: ان اَنصار کے پاس جانا آپ لوگوں کے لیے ضروری نہیں ہے۔ اے جماعتِ مہاجرین! تم اپنے معاملہ کا خود فیصلہ کرلو۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں، ہم تو ان کے پاس ضرور جائیں گے۔ چناںچہ ہم گئے اورہم ان کے پاس پہنچے۔ وہ سب سقیفۂ بنی ساعدہ میں جمع تھے اور ان کے درمیان ایک آدمی چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ ان لوگوںنے کہا: یہ سعد بن عبادہ ہیں۔ میں نے کہا: ان کوکیا ہوا؟ انھوں نے بتایا: یہ بیمار ہیں۔ جب ہم بیٹھ گئے تو ان میں سے ایک صاحب بیان کے لیے کھڑے ہوئے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد کہا: اَما بعد! ہم اللہ (کے دین) کے اَنصار ومددگار اور اِسلام کا لشکر ہیں۔ اور اے جماعتِ مہاجرین! آپ لوگ ہمارے نبی کی جماعت ہیں، اور آپ لوگوں میں سے کچھ لوگ ایسی باتیں کر رہے ہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ لوگ ہمیں نظر انداز کرناچاہتے ہیں اور امرِخلافت سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ جب وہ صاحب خاموش ہوگئے تو میں نے بات کرنی چاہی اور میں نے ایک مضمون (اپنے ذہن میں) تیار کر رکھا تھا جو مجھے بہت پسند تھا اور حضرت ابو بکر کے سامنے میں اسے کہنا چاہتا تھا اور میں اس میں نرمی اختیار کیے ہوئے تھا اور میں غصہ والی باتیں نہیں کہنا چاہتا تھا۔ حضرت ابو بکر نے کہا: اے عمر! آرام سے بیٹھے رہو۔ میں نے حضرت ابوبکر کو ناراض کرنا پسند نہ کیا (اس لیے اپنی بات کہنے کے لیے کھڑانہ ہوا)۔ چناںچہ انھوں نے گفتگو فرمائی اور وہ مجھ سے زیادہ دانا اور زیادہ باوقار تھے۔ اور اللہ کی قسم! جب وہ خاموش ہوئے تو میں نے اپنے مضمون میں جتنی باتیں سوچی تھیں وہ سب باتیں انھوں نے اپنے برجستہ بیان میں کہہ دیں، یا تو وہی باتیں کہیں یا ان سے بہتر کہیں۔ چناںچہ انھوں نے کہا: اَما بعد! تم نے اپنے بارے میں جس خیر کا ذکر کیا تم لوگ واقعی اس کے اہل ہو، لیکن تمام عرب کے لوگ امرِ خلافت کا حق دار صرف قبیلۂ قریش کو ہی سمجھتے ہیں۔ اور قبیلۂ قریش سارے عرب میں نسب اور شہرت کے اعتبار سے سب سے افضل ہے۔ اور مجھے تمہارے خلیفہ بننے کے لیے ان دو آدمیوںمیں سے ایک آدمی پسند ہے۔ دونوں میں جس سے چاہو بیعت ہو جائو۔ اور یہ کہہ کرحضرت ابو بکرنے میرا ہاتھ پکڑا اور حضرت ابو عبیدہ بن جرّ اح ؓ کا۔ اور اس ایک بات کے علاوہ حضرت ابو بکر کی اور کوئی بات مجھے ناگوار نہ گزری۔ اور اللہ کی قسم! مجھے آگے بڑھا کر بغیر کسی گناہ کے میری گردن اُڑا دی جائے یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ حضرت ابو بکر کے ہوتے ہوئے میں لوگوں کا امیر بن جائوں۔ اس وقت تو میرے دل کی یہی کیفیت تھی، لیکن مرتے وقت میری یہ کیفیت بدل جائے تو اور بات ہے۔ پھر اَنصار میں سے ایک آدمی نے کہاکہ اس مسئلہ کا میرے پاس بہترین حل ہے اور اس مرض کی بہت عمدہ دوا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اے جماعتِ قریش! ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک امیر آپ لوگوں میں سے ہو۔ اس کے بعد سب بولنے لگ گئے اور آوازیں بلند ہوگئیں اور ہمیں آپس کے اختلاف کا خطرہ ہوا، تو میں نے کہا: اے ابو بکر! آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں۔ چناںچہ انھوں نے اپنا ہاتھ بڑھا دیا۔ پہلے میں ان سے بیعت ہوا، پھر مہاجرین بیعت ہوئے، اس کے بعد اَنصار ان سے بیعت ہوئے اور یوں ہم حضرت سعد بن عبادہ پر غالب آگئے (کہ وہ امیرنہ بن سکے)۔ اس پر ان میں سے کسی نے کہا: ارے! تم نے تو سعد کو مار ڈالا۔ میں نے کہا: اللہ انھیں مارے! (یعنی جیسے انھوں نے اس موقع پر حق کی نصرت نہیں کی ہے ایسے ہی اللہ تعالیٰ امیر بننے میں اُن کی نصرت نہ کرے) حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! اس موقع پر ہم جتنے امور میں شریک ہوئے ان میں کوئی امر حضرت ابو بکر ؓ کی بیعت سے زیادہ کارآمد اور مناسب نہ پایا۔ (اور میں نے حضرت ابو بکر سے بیعت کا سلسلہ ایک دم اس لیے شروع کرادیا) کیوںکہ ہمیں ڈر تھا کہ بیعت کے بغیر ہم ان اَنصار کو یہاں چھوڑ کر چلے گئے تو یہ ہمارے بعد کسی نہ کسی سے بیعت ہو جائیں گے۔ پھر ہمیں (ان کاساتھ دینے کے لیے) یا تو ناپسندیدہ صورتِ حال کے باوجود ان سے بیعت ہوناپڑے گا، یا ہمیں ان کی مخالفت کرنی پڑے گی تو فساد کھڑا ہو جائے گا۔ (لہٰذا اب قاعدۂ کلیہ سن لو) جو آدمی مسلمانوں سے مشورہ کیے بغیر کسی امیر سے بیعت ہو جائے گا تو اس کی یہ بیعت شرعاً معتبر نہ ہوگی اور نہ اس امیر کی بیعت کی کوئی حیثیت ہو گی، بلکہ اس بات کا ڈر ہے کہ(ان دونوں کے بارے میں حکم ِ شرعی یہ ہو کہ اگر یہ حق بات نہ مانیں تو ان) دونوں کو قتل کر دیا جائے۔ حضرت زُہری حضرت عروہ ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ دو آدمی جو حضرت ابو بکر اور حضرت عمر ؓ کو راستہ میں ملے تھے وہ حضرت عُویم بن ساعدہ اور حضرت مَعْن بن عدی ؓ تھے۔ اور حضرت سعید بن مسیب ؓ سے روایت ہے کہ جن صاحب نے کہاتھاکہ اس مسئلہ کا میرے پاس بہترین حل ہے وہ حضرت حُباب بن منذر ؓ تھے۔1 حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضراتِ صحابۂ کرام کا قصہ اس طرح ہوا کہ حضور ﷺ کا انتقال ہوا تو ہم سے ایک آدمی نے آکر کہاکہ اَنصار سقیفۂ بنی ساعدہ میں حضرت سعد بن عبادہ ؓ کے پاس جمع ہو چکے ہیں اور وہ بیعت ہو نا چاہتے ہیں۔ یہ سن کر میں، حضرت ابو بکر اور حضرت ابو عبید ہ بن جرّ اح گھبرا کر اُن کی طرف چل پڑے کہ کہیں یہ اَنصار اِسلام میں نئی بات نہ کھڑی کر دیں۔ راستہ میں ہمیں اَنصار کے دو آدمی ملے جو بڑے سچے آدمی تھے: ایک حضرت عُویم بن ساعدہ ؓ، دوسرے مَعْن بن عدی ؓ۔ ان دونوں نے کہا: آپ لوگ کہاں جا رہے ہیں؟ ہم نے کہا: تمہاری قوم (اَنصار) کے پاس، کیوںکہ ہمیں ان کی بات پہنچ گئی ہے۔ ان دونوں نے کہا: آپ حضرات واپس چلے جائیں، کیوںکہ آپ لوگوں کی مخالفت ہر گز نہیں کی جاسکتی ہے اور ایسا کوئی کام نہیں کیا جاسکتا ہے جو آپ حضرات کو ناگوار ہو۔ لیکن ہم نے کہا: ہم تو ان کے پاس ضرور جائیں گے۔ اور میں (راستہ میں) وہاں جا کر بیان کرنے کے لیے مضمون تیار کرتا جا رہا تھا یہاں تک کہ ہم اَنصار کے پاس پہنچ گئے تو وہ حضرت سعد بن عبادہ کے اردگرد جمع تھے اور حضرت سعد اپنے تخت پر بیمار پڑے ہوئے تھے۔ جب ہم ان کے مجمع میں پہنچ گئے تو انھوں نے (ہم سے) کہا: اے جماعتِ قریش! ایک امیر ہم میںسے ہو اور ایک امیر آپ لوگوں میں سے ہو۔ اور حضرت حُباب بن منذر ؓ نے کہاکہ اس مرض کی میرے پاس بہت عمدہ دوا ہے اور اس مسئلہ کا میرے پاس بہترین حل ہے، اور اللہ کی قسم! اگر تم چاہو تو ہم اس مسئلہ کا فیصلہ جوان اونٹ کی طرح پسندیدہ بنا دیں۔ اس پر حضرت ابو بکرنے کہا: آپ سب لوگ اپنی جگہ آرام سے بیٹھے رہیں۔ حضرت عمر کہتے ہیں کہ میں نے ارادہ کیا کہ کچھ کہوں لیکن حضرت ابو بکرنے کہا: اے عمر! تم خاموش رہو۔ اور پھر انھوں نے حمد وثناکے بعدکہا: اے جماعتِ انصار! اللہ کی قسم! آپ لوگوں کی فضیلت کا اور اِسلام میں جس عظیم درجہ تک آپ لوگ پہنچ گئے ہیں اس درجہ کا اور آپ لوگوں کے حقِ واجب کا ہمیں اِنکار نہیں ہے۔ لیکن آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ اس قبیلۂ قریش کو عربوں میں ایک خاص مقام حاصل ہے جو ان کے علاوہ اور کسی کو حاصل نہیں ہے، اور عرب اس قبیلہ ہی کے کسی آدمی پر جمع ہو سکیں گے۔ لہٰذا ہم لوگ امیر ہوں گے آپ لوگ وزیر۔ لہٰذا آپ اللہ سے ڈریں اور اسلام کے شیرازے کو نہ بکھیریں، اور آپ لوگ اسلام میں سب سے پہلے نئی بات پیدا کرنے والے نہ بنیں۔ اور ذرا غور سے سنیں! میں نے آپ لوگوں کے لیے ان دو آدمیوں میں سے ایک کو پسند کیا ہے۔ حضرت ابو بکر نے دو آدمیوں سے مجھے اور حضرت ابو عبیدہ بن جرّاح کو مراد لیا تھا۔ پھر فرمایا: ان دونوں میں سے جس سے بھی آپ لوگ بیعت ہو جائیں وہ قابلِ اعتماد انسان ہے۔ حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں جو بات بھی کہنا پسند کرتا تھا وہ بات حضرت ابو بکر نے کہہ دی تھی سوائے اس آخری با ت کے کہ یہ مجھے پسند نہ تھی، کیوںکہ اللہ کی قسم! مجھے کسی گناہ کے بغیر قتل کیا جائے اور پھر مجھے زندہ کیا جائے، پھر مجھے قتل کیا جائے اور پھر مجھے زندہ کیا جائے، یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں ایسے لوگوں کا امیر بنوں جن میں حضرت ابو بکر بھی ہوں۔ پھر میں نے کہا: اے جماعتِ انصار! اور اے جماعتِ مسلمین! حضور ﷺ کے بعد ان کے امرِ خلافت کے لوگوں میں سے سب سے زیادہ حق دار وہ صاحب ہیں جن کے بارے میں (قرآن مجید میں) {ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ھُمَا فِی الْغَارِ} کے الفاظ آئے ہیں، اور وہ ہیں حضرت ابو بکر۔ جو ہر نیکی میں کھلے طور پر سب سے سبقت لے جانے والے ہیں۔ پھر میں نے حضرت ابوبکر کا ہاتھ (بیعت ہونے کے لیے) پکڑناچاہا، لیکن ایک اَنصاری آدمی مجھ پر سبقت لے گئے اور انھوں نے میرے ہاتھ دینے سے پہلے حضرت ابوبکرکے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا (اور بیعت ہو گئے)۔ پھرتو لوگوں نے لگاتار بیعت ہونا شروع کردیا اور حضرت سعد بن عبادہ کی طرف سے سب کی توجہ ہٹ گئی۔1 حضرت ابنِ سیرین ؓ فرماتے ہیں کہ قبیلۂ زُریق کے ایک آدمی نے بیان کیا کہ اس دن (یعنی حضور ﷺ کے انتقال کے دن) حضرت ابو بکر اور حضرت عمر ؓ حجرہ سے نکلے اور اَنصار کے پاس پہنچے۔ حضرت ابو بکر نے فرمایا: اے جماعتِ انصار! ہمیں تمہارے حق کا انکار نہیں ہے اور نہ ہی کوئی مومن تمہارے حق کا انکار کر سکتا ہے۔ اور اللہ کی قسم! ہم لوگوں نے جو خیر بھی حاصل کی ہے تم اس میں ہمارے برابر کے شریک رہے ہو۔ لیکن عرب کے لوگ قریش ہی کے کسی آدمی (کے خلیفہ بننے) سے راضی اور مطمئن ہو سکیں گے، کیوںکہ ان کی زبان تمام لوگوں سے زیادہ فصیح ہے اور ان کے چہرے سب سے زیادہ خوبصورت ہیں اور ان کا شہر (مکہ مکرمہ) تمام عرب(کے شہروں) سے افضل ہے اور یہ تمام عربوں سے زیادہ لوگوں کو کھانا کھلانے والے ہیں۔ لہٰذا حضرت عمر کی طرف آئو اور ان سے بیعت ہو جائو۔ انصار نے کہا: نہیں۔ حضرت عمر نے کہا: کیوں؟ (یہ بات حضرت عمر ؓ نے اندر کی کہلوانے کے لیے پوچھی تھی ورنہ اُن کا خود خلیفہ بننے کا ارادہ نہیں تھا) اَنصار نے کہا: ہمیں خطرہ ہے کہ ہم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی۔حضرت عمرنے کہا: جب تک میں زندہ رہوں گا اس وقت تک تو تم پر دوسروں کو ترجیح نہیں دی جائے گی، آپ لوگ حضرت ابو بکر سے بیعت ہوجائیں۔ حضرت ابو بکرنے حضرت عمرسے کہا: تم مجھ سے زیادہ قوی ہو۔ حضرت عمرنے کہا: آپ مجھ سے زیادہ افضل ہیں۔ یہی بات دونوں حضرات میں دوسری دفعہ ہوئی۔ جب تیسری مرتبہ حضرت ابو بکرنے کہا تو حضرت عمر نے کہا: میری ساری قوت آپ کے ساتھ ہو گی اور پھر آپ کو مجھ پر فضیلت بھی حاصل ہے۔ چناںچہ لوگ حضرت ابو بکر ؓ سے بیعت ہوگئے۔ حضرت ابو بکر کی بیعت کے وقت کچھ لوگ حضرت ابو عبیدہ بن جرّ اح ؓ کے پاس (بیعت ہونے) آئے۔ حضرت ابو عبیدہ نے کہا: تم میرے پاس آرہے ہو حالاںکہ تم میں وہ صاحب بھی ہیں جن کے بارے میں (قرآن مجیدمیں) {ثَانِیَ اثْنَیْنِ}کے الفاظ ہیں (یعنی حضرت ابو بکرؓ)۔1