صحابۂ کرام ؓکا باہمی اتحاد اور اتفاق رائے کا اہتمام کرنا
امرِ خلافت کی صلاحیت رکھنے والے حضرات کے مشورہ پر امرِ خلافت کو موقوف کر دینا
حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: جب ابو لؤلؤہ نے حضرت عمر ؓ پر نیزے کے دو وار کیے تو حضر ت عمر کو یہ خیال ہوا کہ شاید ان سے لوگوں کے حقوق میں کوئی ایسی کوتاہی ہوئی ہے جسے وہ نہیں جانتے ہیں۔ چناںچہ انھوں نے حضرت ابنِ عباس ؓ کو بلایا۔ حضرت عمر کو ان سے بڑی محبت تھی، وہ ان کو اپنے قریب رکھتے تھے اور ان کی با ت سنا کرتے تھے۔ اور ان سے فرمایا: میں یہ چاہتا ہوں کہ تم یہ پتہ کرو کہ کیا میرا یہ قتل لوگوں کے مشورے سے ہوا ہے؟ چناںچہ حضرت ابنِ عباس باہر چلے گئے۔ وہ مسلمانوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے وہ روتے نظر آتے۔ حضرت ابنِ عباس نے حضرت عمر کی خدمت میں واپس آکر عرض کیا: اے امیر المؤمنین! میں جس جماعت کے پاس سے گزرا میں نے اُن کو روتے ہوئے پایا۔ ایسے معلوم ہو رہا تھا کہ جیسے آج اُن کا پہلا بچہ گم ہو گیا ہو۔ حضرت عمر نے پوچھا: مجھے کس نے قتل کیا ہے؟ حضرت ابنِ عباس نے کہا: حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کے مجوسی غلام ابو لؤلؤہ نے۔ حضرت ابنِ عباس کہتے ہیں: (جب حضرت عمر ؓ کو پتہ چلا کہ اُن کا قاتل مسلمان نہیں بلکہ مجوسی ہے) تو میں نے اُن کے چہرے پر خوشی کے آثار دیکھے اور وہ کہنے لگے: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میرا قاتل ایسے آدمی کو نہیں بنایاجو لاَ إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ کر مجھ سے حجت بازی کر سکے۔ غورسے سنو! میں نے تم کو کسی عجمی کافر غلام کو یہاں لانے سے منع کیا تھا، لیکن تم نے میری بات نہ مانی۔ پھر فرمایا: میرے بھائیوں کو بلا لائو۔ لوگوں نے پوچھا: وہ کون ہیں؟ انھوں نے فرمایا: حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زُبیر، حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ۔
ان لوگوں کے پاس آدمی بھیجا پھر اپنا سر میری گود میں رکھ دیا۔ جب وہ حضرات آگئے تو میں نے کہا: یہ سب آگئے ہیں۔ تو فرمایا: اچھا! میںنے مسلمانوں کے معاملہ میں غور کیا ہے۔ میں نے آپ چھ حضرات کو مسلمانوں کا سردار اور قائد پایا ہے، اور یہ امرِ خلافت صرف تم میں ہی ہوگا۔ جب تک تم سیدھے رہو گے اس وقت تک لوگوں کی بات بھی ٹھیک رہے گی، اگر مسلمانوں میں اختلاف ہوا تو پہلے تم میں ہوگا۔ جب میں نے سنا کہ حضرت عمرنے آپس کے اختلاف کا ذکر کیا ہے تو میں نے سوچا کہ اگرچہ حضرت عمر یوں کہہ رہے ہیں اگر اختلاف ہوا ، لیکن یہ اختلاف ضرور ہو کر رہے گا، کیوںکہ بہت کم ایسا ہواہے کہ حضرت عمرنے کوئی چیز کہی ہو اور میں نے اسے ہوتے ہوئے نہ دیکھا ہو۔ پھر ان کے زخموں سے بہت سا خون نکلا جس سے وہ کمزور ہو گئے۔ وہ چھ حضرات آپس میں چپکے چپکے باتیں کرنے لگے یہاں تک کہ مجھے خطرہ ہوا کہ یہ لوگ ابھی اپنے میں کسی ایک سے بیعت ہو جائیں گے۔ اس پر میں نے کہا: ابھی امیر المؤمنین زندہ ہیں اور ایک وقت میں دو خلیفہ نہیں ہونے چاہییں کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں (ابھی کسی کو خلیفہ نہ بنائو)۔ پھرحضرت عمرنے فرمایا: مجھے اُٹھائو۔ چناںچہ ہم نے ان کو اٹھایا۔ پھر انھوںنے فرمایا: تم لوگ تین دن مشورہ کرو اور اس عرصہ میں حضرت صُہَیب ؓ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہیں۔ ان حضرات نے پوچھا: ہم کن سے مشورہ کریں؟ انھوں نے فرمایا: مہاجرین اور اَنصار سے، اور یہاں جتنے لشکر ہیں ان کے سرداروں سے۔ اس کے بعد تھوڑا سا دودھ منگوایا اور اسے پیا تو دونوں زخموں میں سے دودھ کی سفیدی باہر آنے لگی جس سے حضرت عمر نے سمجھ لیا کہ موت آنے والی ہے۔
پھر فرمایا: اب اگر میرے پاس ساری دنیا ہو تو میں اسے موت کے بعد آنے والے ہولناک منظر کی گھبراہٹ کے بدلے میں دینے کو تیارہوں، لیکن مجھے اللہ کے فضل سے امید ہے کہ میں خیر ہی دیکھوں گا۔ حضرت ابنِ عباس نے کہا: آپ نے جو کچھ فرمایاہے اس کا بہترین بدلہ اللہ تعالیٰ آپ کو عطا فرمائے! کیا یہ بات نہیں ہے کہ جس زمانے میں مسلمان مکہ میں خوف کی حالت میں زندگی گزار رہے تھے، اس وقت حضور ﷺ نے یہ دعا فرمائی تھی کہ آپ کو ہدایت دے کراللہ تعالیٰ دین کو اور مسلمانوں کوعزّت عطا فرمائے؟ جب آپ مسلمان ہوئے تو آپ کا اِسلا م عزّت کا ذریعہ بنا، اور آپ کے ْذریعہ سے اسلام اور حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کھلم کھلا سامنے آئے، اور آپ نے مدینہ کو ہجرت فرمائی اور آپ کی ہجرت فتح کا ذریعہ بنی۔ پھر جتنے غزوات میں حضور ﷺ نے مشرکین سے قتال فرمایا آپ کسی سے غیر حاضر نہ ہوئے۔ پھر حضور پاک ﷺ کی وفات اس حال میں ہوئی کہ وہ آپ سے راضی تھے۔ پھر آپ نے حضور ﷺ کے طریقہ کے مطابق حضورﷺ کے بعد خلیفۂ رسول کی خوب زوردار مدد کی اور ماننے والوں کو لے کر آپ نے نہ ماننے والوں کا مقابلہ کیا، یہاں تک کہ لوگ طوعاً وکرہاً اِسلام میں داخل ہوگئے۔ (بہت سے لوگ خوشی سے داخل ہوئے، کچھ ماحول اور حالات سے مجبور ہو کر داخل ہوئے) پھر ان خلیفہ کا اس حال میں انتقال ہوا کہ وہ آپ سے راضی تھے۔ پھر آپ کو خلیفہ بنا یا گیا اور آپ نے اس ذمہ داری کو اچھے طریقہ سے انجام دیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ سے بہت سے نئے شہر آباد کرائے ( جیسے کوفہ اور بصرہ) اور (مسلمانوں کے لیے روم وفارس کے) سارے اَموال جمع کر دیے۔ اور آپ کے ذریعہ دشمن کا قَلع قَمع کر دیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہر گھر میں آپ کے ذریعہ دین کو بھی ترقی عطا فرمائی اور رزق میں بھی وسعت عطا فرمائی اور پھر اللہ نے آپ کو خاتمہ میں شہادت کا مرتبہ عطا فرمایا۔ یہ مرتبۂ شہادت آپ کو مبارک ہو۔
پھر حضرت عمر ؓ نے فرمایاکہ اللہ کی قسم! تم (ایسی باتیں کر کے) جسے دھوکہ دے رہے ہو اگر وہ ان باتوں کو اپنے لیے مان جائے گا تو وہ واقعی دھوکہ کھا نے والا انسان ہے۔ پھر فرمایا: اے عبد اللہ! کیا تم قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی میرے حق میںان تمام باتوں کی گواہی دے سکتے ہو؟ حضرت ابنِ عباس نے کہا:جی ہاں۔ تو فرمایا: اے اللہ! تیرا شکر ہے (کہ میری گواہی دینے کے لیے حضور ﷺ کے چچا زاد بھائی تیار ہوگئے ہیں۔ پھرفرمایا:) اے عبد اللہ بن عمر! میرے رخسار کو زمین پر رکھ دو۔ ( حضرت ابنِ عمرکہتے ہیں:) میں نے اُن کا سر اپنی ران سے اٹھا کر اپنی پنڈلی پر رکھ دیا۔ تو فرمایا: نہیں، میرے رخسار کو زمین پر رکھ دو۔ چناںچہ انھوں نے اپنی ڈاڑھی اور رخسار کو اٹھا کر زمین پر رکھ دیا۔ اور فرمایا: او عمر! اگر اللہ نے تیری مغفرت نہ کی تو پھر اے عمر! تیری بھی ہلاکت ہے اور تیری ماں کی بھی ہلاکت ہے۔ اس کے بعد اُن کی روح پرواز کر گئی۔ ؒ۔ جب حضرت عمر ؓ کا انتقال ہوگیا تو ان حضرات نے حضرت عبد اللہ بن عمر کے پاس پیغام بھیجا۔ انھوں نے کہا: حضرت عمر آپ لوگوں کو حکم دے گئے ہیں کہ آپ لوگ مہاجرین اور اَنصار سے اور جتنے لشکر یہاں موجود ہیں اُن کے اُمرا سے مشورہ کریں۔ اگر آپ لوگ یہ کام نہیں کرو گے تو میں آپ لوگوں کے پاس نہیں آئوں گا۔
جب حضرت حسن بصری ؓ سے حضرت عمر ؓ کے انتقال کے وقت کے عمل کا اور ان کے اپنے ربّ سے ڈرنے کا تذکرہ کیا گیا تو انھوں نے کہا: مؤمن ایسے ہی کیا کر تا ہے کہ عمل بھی اچھے طر یقے سے کرتا ہے اوراللہ سے ڈرتا بھی ہے، اور منافق عمل بھی بُرے کرتا ہے اور اپنے بارے میں دھوکہ میں مبتلا رہتا ہے۔ اللہ کی قسم! گزشتہ زمانے میں اور موجودہ زمانے میں میں نے یہی پایا کہ جو بندہ اچھے عمل میں ترقی کرتا ہے وہ اللہ سے ڈرنے میں بھی ترقی کرتا ہے، اور جو بُرے عمل میں ترقی کرتا ہے اس کا اپنے بارے میں دھوکہ بھی بڑھتا جاتاہے۔1
حضرت عمرو بن میمون ؓ حضرت عمر ؓ کی شہادت کا قصہ ذکر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرنے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے کہا: دیکھو! مجھ پر کتنا قرض ہے؟ اس کا حساب لگائو۔ انھوں نے کہا: چھیاسی ہزار۔ حضرت عمرنے کہا: اگر عمر کے خاندان کے مال سے یہ قرضہ ادا ہو جائے تو ان سے مال لے کر میرایہ قرضہ ادا کر دینا، ورنہ (میری قوم) بنو عدی بن کعب سے مانگنا۔ اگر اُن کے مال سے میرا تما م قرضہ اُتر جائے تو ٹھیک ہے، ورنہ (میرے قبیلہ) قریش سے مانگنا۔ ان کے بعد کسی اور سے نہ مانگنا اور میرا قرضہ ادا کردینا۔
اور اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں جاکر سلام کرو اور ان سے کہو، عمر بن خطّاب اپنے دونوں ساتھیوں (حضور ﷺ اور حضرت ابو بکر ؓ) کے ساتھ (حجرۂ مبارک میں) دفن ہونے کی اجازت مانگ رہاہے۔ عمر بن خطّاب کہنا اور اس کے ساتھ امیر المؤمنین نہ کہنا، کیوںکہ میں آج امیرالمؤمنین نہیںہوں۔ چناںچہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں گئے تودیکھا کہ وہ بیٹھی ہوئی رو رہی ہیں۔ سلام کر کے اُن کی خدمت میں عرض کیا: عمر بن خطّاب اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت چاہتے ہیں۔ انھوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے اس جگہ دفن ہونے کی اپنے لیے نیت کی ہوئی تھی، لیکن میں آج حضرت عمر کو اپنے اوپر ترجیح دوں گی (یعنی اُن کو اجازت ہے)۔
جب حضرت عبد اللہ بن عمر واپس آئے تو حضرت عمرنے کہا: تم کیا جواب لائے ہو؟ حضرت عبد اللہ نے کہا: انھوں نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ حضرت عمرنے فرمایا: (اس وقت) میرے نزدیک اس کام سے زیادہ ضروری کوئی چیز نہیں ہے۔ پھر فرمایا: جب میں مر جائوں تم میرے جنازے کو اُٹھا کر (حضرت عائشہ ؓ کے دروازے کے سامنے) لے جانا، پھر اُن سے دوبارہ اجازت طلب کرنا اور یوں کہنا کہ عمربن خطاب (حجرہ میں دفن ہونے کی) اجازت مانگ رہے ہیں۔ اور اگر وہ اجازت دے دیں تو مجھے اندر لے جانا (اور اس حجرہ میں دفن کر دینا) اور اگر اجازت نہ دیں تو مجھے واپس کر کے مسلمانوں کے عام قبرستان میں دفن کر دینا۔ جب حضرت عمر ؓ کے جنازے کو اٹھایا گیا تو (سب کی چیخیں نکل گئیں اور) ایسے لگا کہ جیسے آج ہی مسلمانوں پر مصیبت کا پہاڑ ٹوٹا ہے۔ چناںچہ حضرت عبد اللہ بن عمر نے سلام کر کے عرض کیا کہ عمر بن خطّاب (اندر دفن ہونے کی) اجازت طلب کر رہے ہیں۔ حضرت عائشہ نے اجازت دے دی اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر کو حضور ﷺ اور حضرت ابو بکر ؓ کے ساتھ دفن ہونے کا شرف عطافرما دیا۔
جب حضرت عمر ؓ کے انتقال کا وقت قریب آیا تو لوگوں نے کہا: آپ کسی کو اپنا خلیفہ مقرر کر دیں۔ تو فرمایا: میں (ان چھ آدمیوںکی) اس جماعت سے زیادہ کسی کو بھی امرِ خلافت کا حق دار نہیں پاتا ہوں کہ حضور ﷺ کا اس حال میں انتقال ہوا تھا کہ وہ ان چھ سے راضی تھے۔ یہ جسے بھی خلیفہ بنالیں وہی میرے بعد خلیفہ ہوگا۔ پھر حضرت علی، حضرت عثمان، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت سعد ؓ کے نام لیے۔ اگر خلافت حضرت سعد کو ملے تو وہی اس کے مستحق ہیں ورنہ ان میں سے جسے بھی خلیفہ بنا یا جائے وہ ان سے مدد حاصل کرتا رہے، کیوںکہ میں نے ان کو (کوفہ کی خلافت سے) کسی کمزوری یا خیانت کی وجہ سے معزول نہیں کیا تھا۔ اورحضرت عمر نے (اپنے بیٹے) عبد اللہ کے لیے یہ طے کیا کہ یہ چھ حضرات ان سے مشورہ لے سکتے ہیں، لیکن ان کا خلافت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ جب یہ چھ حضرات جمع ہوئے تو حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا: اپنی رائے کو تین آدمیوں کے حوالے کر دو۔ چناںچہ حضرت زُبیرنے اپنا اختیارحضرت علی کو اور حضرت طلحہ نے حضرت عثمان کو اور حضرت سعدنے حضرت عبد الرحمن کو دے دیا۔
جب ان تینوں کو اختیار مل گیا تو ان تینوں نے اکھٹے ہو کر مشورہ کیا اور حضرت عبد الرحمن نے کہا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ فیصلہ میرے حوالہ کردو اور میں اللہ سے اس بات کا عہد کرتا ہوں کہ تم میںسے سب سے افضل آدمی کی اور مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ مفید شخص کی تلاش میں کمی نہیں کروں گا؟ دونوں حضرات نے کہا: ہاں، ہم دونوںتیار ہیں۔ پھر حضرت عبد الرحمن نے حضرت علی سے تنہائی میں بات کی اور کہاکہ آپ کو حضور ﷺ سے رشتہ داری کا شرف بھی حاصل ہے اور اسلام میں سبقت بھی۔ میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ اگر آپ کو خلیفہ بنا دیا جائے تو کیا آپ انصاف کریں گے؟ اور اگر میں حضرت عثمان کو خلیفہ بنا دوں تو کیا آپ اُن کی بات سنیں گے اور مانیں گے؟ حضرت علی نے کہا: جی ہاں۔ پھر حضرت عبد الرحمن نے حضرت عثمان سے تنہائی میں بات کی اور ان سے بھی یہی پوچھا۔ حضرت عثمان نے جواب میں کہا: جی ہاں۔ پھر حضرت عبد الرحمن نے حضرت عثمان سے کہا: اے عثمان! آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں۔ چناںچہ انھوں نے اپنا ہاتھ بڑھا یا اور حضرت عبد الرحمن نے ان سے بیعت کی، پھر حضرت علی اور باقی لوگوں نے کی۔1
حضرت عمرو ؓ سے ہی یہ روایت ہے کہ جب حضرت عمر ؓکی موت کا وقت قریب آیا تو آپ نے کہا: حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زُبیر، حضرت عثمان اورحضرت عبد الرحمن بن عوف ؓکو میرے پاس بلا کر لائو۔ (چناںچہ یہ حضرات آگئے) ان حضرات میں سے صرف حضرت علی اورحضرت عثمان سے گفتگو فرمائی۔ چناںچہ حضرت علی سے فرمایا: اے علی! یہ حضرات آپ کی حضور ﷺ کی رشتہ داری کو اور ان کے داماد ہونے کو بھی جانتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو علم اور فقہ عطافرمایاہے اسے بھی جانتے ہیں۔ لہٰذا اگر آپ کو خلیفہ بنا دیا جائے تو اللہ سے ڈرتے رہنا اور بنو فلاں (یعنی بنو ہاشم) کو لوگوں کی گردنوں پر نہ بٹھا دینا۔ پھر حضرت عثمان سے فرمایا: اے عثمان! یہ حضرات اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ حضور ﷺ کے داماد ہیں اور آپ کی عمر زیادہ ہے اور آپ بڑی شرافت والے ہیں، لہٰذا اگر آپ کو خلیفہ بنا دیا جائے تو اللہ سے ڈرتے رہنا اور بنو فلاں (یعنی رشتہ داروں) کو لوگوں کی گردنوں پر نہ بٹھا دینا۔ پھر فرمایا: حضرت صہیب ؓ کو میرے پاس بلا کر لائو۔ (وہ آئے) تو ان سے فرمایا: تم لوگوں کو تین دن نماز پڑھائو۔ یہ (چھ) حضرات ایک گھر میں جمع رہیں۔ اگر یہ حضرات کسی ایک کے خلیفہ ہونے پر متفق ہو جائیں تو جو ان کی مخالفت کرے اس کی گردن اُڑا دینا۔1
حضرت ابو جعفر کہتے ہیں:حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے حضراتِ شوریٰ سے فرمایا: آپ لوگ اپنے امرِ خلافت کے بارے میں مشورہ کریں۔ (اور اگر رائے میں اختلاف ہو اور چھ حضرات) اگر دو اور دو اور دو ہو جائیں، یعنی تین آدمیوں کو خلیفہ بنانے کی رائے بن رہی ہو تو پھر دوبارہ مشورہ کرنا۔ اور اگر چار اور دو ہوجائیں تو زیادہ کی یعنی چار کی رائے کو اختیار کرلینا۔ حضرت اسلم حضرت عمر ؓ سے روایت کرتے ہیںکہ حضرت عمر نے فرمایا: اگر رائے کے اختلاف کی وجہ سے یہ حضرات تین اورتین ہو جائیں تو جدھر حضرت عبد الرحمن بن عوف ہوں اُدھر کی رائے اختیار کر لینا اور ان حضرات کے فیصلہ کو سننا اورماننا۔ 2
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر ؓ نے اپنی وفات سے تھوڑی دیر پہلے حضرت ابو طلحہ ( اَنصاری) ؓ کو بلا کر فرمایا: اے ابو طلحہ! تم اپنی قوم اَنصار کے پچاس آدمی لے کر ان حضراتِ شوریٰ کے ساتھ رہنا۔ میرا خیال یہ ہے کہ یہ اپنے میں سے کسی ایک کے گھر جمع ہوں گے۔ تم ان کے دروازے پر اپنے ساتھی لے کر کھڑے رہنا اور کسی کو اندر نہ جانے دینا اور نہ ان کو تین دن تک چھوڑنا، یہاں تک کہ یہ حضرات اپنے میں سے کسی کو امیر مقرر کرلیں۔ اے اللہ! تو ان میں میرا خلیفہ ہے۔3