حضراتِ اہل الرّائے سے مشورہ کرنا

اَمارت قبول کرنے سے انکار کرنا

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورِ اقدس ﷺ نے حضرت مقداد بن اسود ؓ کو گھوڑے سواروں کی ایک جماعت کا امیر بنایا۔ جب یہ واپس آئے تو حضور ﷺ نے ان سے پوچھا: تم نے اَمارت کو کیسے پایا؟ انھوں نے کہا: یہ لوگ مجھے اُٹھاتے اور بٹھاتے تھے یعنی میرا خوب اِکرام کرتے تھے، جس سے اب مجھے یوں لگ رہا ہے کہ میں وہ پہلے جیسا مقداد نہیں رہا (میری تواضع والی کیفیت میں کمی آگئی ہے)۔ حضور ﷺ نے فرمایا: واقعی اَمارت ایسی ہی چیز ہے۔ حضرت مقداد نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! آیندہ میں کبھی بھی کسی کام کا ذمہ دار نہیں بنوں گا۔ چناںچہ اس کے بعد لوگ ان سے کہاکرتے تھے کہ آپ آگے تشریف لاکر ہمیں نماز پڑھا دیں تو یہ صاف انکار کر دیتے (کیوںکہ نماز میں امام بننا اَمارتِ صغریٰ ہے)۔2 اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت مقداد نے کہا: مجھے سواری پر بٹھا یا جاتا اور سواری سے اتارا جاتا، جس سے مجھے یوں نظر آنے لگا کہ مجھے ان لوگوں پر فضیلت حاصل ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اَمارت تو ایسی ہی چیز ہے، (اب تمہیں اختیار ہے) چاہے اسے آیندہ قبول کرو یا چھوڑ دو۔ حضرت مقدادنے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! آیندہ میں کبھی دو آدمیوں کا بھی امیر نہیں بنوں گا۔1 حضرت مقداد بن اَسود ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ مجھے کسی جگہ (امیر بنا کر) بھیجا۔ جب میں واپس آیا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: تم اپنے آپ کو کیسا پاتے ہو؟ میں نے کہا: آہستہ آہستہ میری کیفیت یہ ہو گئی کہ مجھے اپنے تمام ساتھی اپنے خادم نظر آنے لگے اور اللہ کی قسم! اس کے بعد میں کبھی دو آدمیوں کا بھی امیر نہیں بنوں گا۔2 ایک صاحب بیا ن کرتے ہیں کہ حضورِ اقدس ﷺ نے ایک آدمی کو ایک جماعت کا امیر بنایا۔ جب وہ کام کرکے واپس آئے تو حضور ﷺ نے ان سے پوچھا: تم نے اَمارت کو کیسا پایا؟ انھوں نے کہا: میں جماعت کے بعض افراد کی طرح تھا، جب میں سوار ہو تا تو ساتھی بھی سوار ہو جاتے اور جب میں سوار ی سے اترتا تو وہ بھی اتر جاتے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: عام طور پر ہر سلطان ایسے (ظالمانہ) کام کرتا ہے جس سے وہ اللہ کی ناراضگی کے دروازے پر پہنچ جاتا ہے، مگر جس سلطان کو اللہ تعالیٰ اپنی حفاظت میں لے لیں وہ اس سے بچ جاتاہے (بلکہ وہ تو اللہ کے عرش کا سایہ پاتا ہے)۔ اس آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! اب میں نہ آپ کی طرف سے اور نہ کسی اور کی طرف سے امیر بنوں گا۔ اس پر آپ اتنا مسکرائے کہ آپ کے دندانِ مبارک نظر آنے لگے۔3 حضرت رافع طائی کہتے ہیں: میں ایک غزوہ میں حضرت ابو بکر ؓ کے ساتھ تھا۔ جب ہم واپس آنے لگے تو میں نے کہا: اے ابو بکر! مجھے کچھ وصیت فرما دیجیے۔ انھوں نے فرمایا: فرض نماز اپنے وقت پر پڑھا کرو، اپنے مال کی زکوٰۃ خوشی خوشی ادا کیاکرو، رمضان کے روزے رکھا کرو، بیت اللہ کا حج کیا کرو اور اس بات کا یقین رکھو کہ اِسلام میں ہجرت بہت اچھا عمل ہے اور ہجرت میں جہاد بہت اچھاعمل ہے اور تم امیر نہ بننا۔ پھر فرمایاکہ یہ اَمارت جو آج تمہیں ٹھنڈی اور مزیدار نظر آرہی ہے عنقریب یہ پھیل کر اتنی بڑھے گی کہ نااہل لوگ بھی اسے حاصل کر لیں گے۔ (اور یہ یاد رکھو کہ) جو بھی امیر بنے گا اس کا حساب سب لوگوں سے زیادہ لمبا ہوگا اور اس پر عذاب سب سے زیادہ سخت ہوگا۔ اور جو امیر نہیں بنے گا اس کا حساب سب لوگوں سے زیادہ آسان ہو گا اور اس کا عذاب سب سے ہلکا ہو گا، کیوںکہ اُمراکو مسلمانوں پر ظلم کرنے کے سب سے زیادہ مواقع ملتے ہیں، اور جو مسلمانوں پر ظلم کرتا ہے وہ اللہ کے عہد کو توڑتاہے، اس لیے کہ یہ مسلمان اللہ کے پڑوسی اور اللہ کے بندے ہیں۔ اللہ کی قسم! تم میں سے کسی کے پڑوسی کی بکری یا اُونٹ پر کوئی مصیبت آتی ہے (وہ بکری یا اُونٹ چوری ہو جاتاہے، یا کوئی اسے مار دے ، یا ستائے تو اس پڑوسی کی ہمدردی اور حمایت میں) غصہ کی وجہ سے ساری رات اس کے پٹھے پھولے رہتے ہیں اور کہتا رہتا ہے: میرے پڑوسی کی بکری یا اُونٹ پر فلاں مصیبت آئی ہے، (جب انسان اپنے پڑوسی کی وجہ سے اتنا غصہ میں آتا ہے) تو اللہ تعالیٰ اپنے پڑوسی کی خاطر غصہ میں آنے کے زیادہ حق دارہیں۔1 حضرت رافع ؓ فرماتے ہیں کہ حضورِ اَقدس ﷺ نے حضرت عمرو بن عاص ؓ کو غزوۂ ذاتُ السلاسل کے لشکر کا امیر بنا کر بھیجا، اور اُن کے ساتھ اس لشکر میں حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ ؓ کو بھی بھیجا۔ چناںچہ یہ حضرات (مدینہ منوّرہ) سے روانہ ہوئے اور چلتے چلتے قبیلہ طَے کے دو پہاڑوں پر پڑائو ڈال دیا۔ حضرت عمرو نے فرمایا: کوئی راستہ بتانے والا تلاش کرلو۔ لوگوں نے کہا: ہمارے علم کے مطابق تو رافع بن عمرو کے علاوہ اور کوئی آدمی ایسا نہیں ہے، کیوںکہ وہ رَبِیْل تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے استاذ حضرت طارق سے پوچھا کہ رَبِیْل کسے کہتے ہیں؟ انھوں نے کہا: ربیل اس ڈاکو کو کہتے ہیںجو اکیلا ہی حملہ کر کے پوری قوم کو لوٹ لے۔ رافع کہتے ہیں کہ جب ہم اپنے غزوے سے فارغ ہوگئے اور جس جگہ سے ہم چلے تھے وہاں واپس پہنچ گئے تو مجھے حضرت ابو بکر میں بہت سی خوبیاں نظر آئیں جن کی بنا پر میں نے ان کو اپنے لیے منتخب کیا اور میں نے ان کی خدمت میں جا کر عرض کیا: اے حلال روزی کھانے والے! میں نے خوبیوں کی وجہ سے آپ کے ساتھیوں میں سے آپ کو اپنے لیے منتخب کیا ہے، اس لیے آپ مجھے ایسی چیز بتائیں کہ جس کی پابندی کرنے سے میں آپ لوگوں میں سے شمار ہونے لگوںاور آپ جیسا ہو جائوں۔ حضرت ابو بکر ؓ نے کہا: کیا تم اپنی پانچ انگلیوں کویاد رکھ سکتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیںہے، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اوررسول ہیں۔ نماز قائم کرو، اگر تمہارے پاس مال ہو تو زکوٰۃ ادا کرو، بیت اللہ کا حج کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔ کیا تمہیں یہ باتیں یاد ہو گئیں؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ایک بات اور بھی ہے، اور وہ یہ کہ دو آدمیوں کا بھی ہرگز کبھی امیر نہ بننا۔ میں نے کہا: کیا یہ اَمارت اب اہلِ بدر کے علاوہ کسی اور کو بھی مل سکتی ہے؟ انھوں نے کہا: عنقریب یہ اَمارت اتنی عام ہو جائے گی کہ تمہیں بھی مل جائے گی، بلکہ تم سے کم درجہ کے لوگوں کو بھی مل جائے گی۔ اللہ عزّ وجل نے جب اپنے نبی ﷺ کو مبعوث فرمایا تو (ان کی محنت پر) لوگ اسلام میں داخل ہو گئے۔ بہت سے لوگ تو اپنی خوشی سے اسلام میں داخل ہوئے، اُن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا تھا، لیکن بعض لوگ ایسے ہیں جن کو تلوار نے اسلام لانے پر مجبور کیا۔ بہر حال اب یہ تمام مسلمان اللہ کی پناہ میں آگئے ہیں۔ یہ اللہ کے پڑوسی اور اس کی ذمہ داری میں ہیں۔ جب کوئی آدمی امیر بنتاہے اور لوگ ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں اور یہ امیر ظالم سے مظلوم کا بدلہ نہیں لیتا ہے، تو پھر ایسے امیر سے اللہ بدلہ لیتا ہے۔ جیسے تم میں سے کسی آدمی کے پڑوسی کی بکری ظلماً پکڑ لی جاتی ہے تو سارا دن اس پڑوسی کی حمایت میں غصہ کی وجہ سے اس کی رگیں پھولی رہتی ہیں، ایسے ہی اللہ تعالیٰ بھی اپنے پڑوسی کی پوری حمایت کرتے ہیں۔ حضرت رافع کہتے ہیں کہ میں ایک سال (اپنے گھر) ٹھہرا رہا۔ پھر حضرت ابو بکر خلیفہ بن گئے۔ میں سواری پر سوار ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ان سے کہا: میں رافع ہوں اور میں فلاں جگہ آپ کا رہبر تھا۔ حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا: ہاں! میں نے تم کو پہچان لیا۔ میں نے کہا: آپ نے مجھے تو دو آدمیوں کا بھی امیر بننے سے منع کیا تھا اور اب خود آپ ساری اُمتِ محمدﷺ کے امیر بن گئے ہیں؟ انھوں نے فرمایا: ہاں! لیکن یاد رکھو، جو آدمی ان مسلمانوں میں اللہ کی کتاب والے حکم نہیں چلائے گا اس پر اللہ کی لعنت ہو گی۔1 حضرت سعید بن عمر بن سعید بن عاص ؓکہتے ہیں کہ اُن کے چچا حضرت خالد بن سعید بن عاص اور حضرت اَبان بن سعید بن عاص اور حضرت عمرو بن سعید بن عاص ؓ کو جب حضورِ اَقدس ﷺ کی وفات کی خبر پہنچی تو (یہ حضرات مختلف علاقوں کے امیرتھے، خبر ملتے ہی) یہ حضرات اپنے اپنے عہدے چھوڑ کر (مدینہ منوّرہ) واپس آگئے۔ ان حضرات سے حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا: کوئی آدمی حضور ﷺ کے بنائے ہوئے امیروں سے زیادہ امیر بننے کا حق دار نہیںہے، لہٰذا تم لوگ اپنے علاقوں میں اپنے عہدوں پر واپس چلے جائو۔ ان حضرات نے کہا: اب ہم حضور ﷺ کے بعد کسی کی طرف سے امیر بن کر جانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ چناںچہ یہ حضرات اللہ کے راستہ میں ملک ِشام چلے گئے اور وہاں ہی سب کے سب شہید ہو گئے ۔ (ان حضرات کی طبیعتوں میں اَمارت سے گریز تھا اور اللہ کے راستہ میں جان دینے کا شوق تھا) 2 حضرت عبد الرحمن بن سعید یربوع ؓ کہتے ہیںکہ جب حضرت اَبان بن سعید ؓ (اپنے علاقہ کی اَمارت چھوڑ کر) مدینہ منوّرہ آگئے، تو اُن سے حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے فرمایا: تمہیں یہ حق حاصل نہیں ہے کہ تم اپنے امام ِ وقت کی اجازت کے بغیر اپنا کام چھوڑ کر آجائو اور پھر خصوصاً ان حالات میں (کہ چاروں طرف ارتداد پھیل رہا ہے اور دشمنوں کے مدینہ پر حملے کی خبریں آرہی ہیں) لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تمہیں اپنے امام ِ وقت کا ڈر نہیں رہا اس لیے تم نڈر ہوگئے ہو۔ حضرت اَبان نے کہا: اللہ کی قسم! حضور ﷺ کے بعد اب میں کسی کی طرف سے اَمارت قبول کرنے کے لیے تیار نہیںہوں۔ اگر میں حضور ﷺ کے بعد کسی کی طرف سے اَمارت قبول کرتا تو حضرت ابو بکر ؓ کی طرف سے ضرور قبول کرتا، کیوںکہ انھیں بہت سے فضائل حاصل ہیں اور وہ سب سے پہلے اسلام لائے ہیں اور پرانے مسلمان ہیں، لیکن میں نے طے کرلیا ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کسی کی طرف سے اَمارت قبول نہیں کروں گا۔ چناںچہ حضرت ابو بکر اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرنے لگے کہ اب کسے بحرین بھیجا جائے؟ تو ان سے حضرت عثمان بن عفان ؓ نے کہا: آپ اس آدمی کو بھیجیں جسے حضور ﷺ نے بحرین بھیجا تھا، اور وہ بحرین والوں کو مسلمان اورفرماںبرداربنا کر حضور ﷺ کی خدمت میں لائے تھے۔ بحرین والے انھیں اچھی طرح جانتے ہیں، اور وہ بحرین والوں کو اور اُن کے علاقہ کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ اور وہ ہیں حضرت علاء بن حَضْرمی ؓ۔ حضرت عمر نے اس رائے سے اتفاق نہ کیا اور حضرت ابو بکر سے عرض کیا: آپ (بحرین واپس جانے پر) حضرت اَبان بن سعید بن عاص کو مجبور کریں، کیوںکہ یہ بحرین کئی دفعہ جا چکے ہیں۔ لیکن انھیں مجبور کر کے بھیجنے سے حضرت ابو بکر نے انکار کر دیا اور فرمایا: میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا۔ جو آدمی کہتا ہے کہ میں حضور ﷺ کے بعد کسی کی طرف سے امیر نہیں بنوں گا میں اسے اَمارت قبول کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ اور حضرت ابو بکر نے حضرت علاء بن حضرمی ؓ کو بحرین بھیجنے کافیصلہ کیا۔1 حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر ؓ نے اُن کو امیر بنانے کے لیے بلایا، انھوں نے اَمارت قبول کرنے سے حضرت عمر کو اِنکار کر دیا۔ حضرت عمر نے فرمایا: کیا تم امیر بننے کو برا سمجھتے ہو حالاںکہ اسے تو اس شخص نے مانگا تھا جو تم سے بہترتھے۔ حضرت ابو ہریرہ نے کہا: وہ کون؟ حضرت عمر نے فرمایا: وہ حضرت یوسف بن یعقوب ؑ ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ نے کہا: حضرت یوسف تو خود اللہ کے نبی تھے اور اللہ کے نبی کے بیٹے تھے (انھیں ایسا کرنے کا حق تھا) میں تو اُمیمہ نامی عورت کا بیٹا ابو ہریرہ ہوں۔ اور امیر بننے میں مجھے تین اور دو (کل پانچ) باتوں کا ڈر ہے۔ حضرت عمر نے کہا: پانچ ہی کیوں نہیں کہہ دیتے؟ حضرت ابو ہریرہ نے کہا: (دو باتیں تو یہ ہیںکہ) میں علم کے بغیر کوئی بات کہہ دوں اور کوئی غلط فیصلہ کر دوں۔ (امیر بن کر مجھ سے یہ دو غلطیاں ہو سکتی ہیں جس کے نتیجہ میں مجھے یہ تین سزائیں امیر المؤمنین کی طرف سے دی جاسکتی ہیں:) میر ی کمر پر کوڑے مارے جائیں، اور میرا مال چھین لیا جائے، اور مجھے بے آبرو کر دیا جائے۔1 حضرت عبد اللہ بن مَوْہب ؓ کہتے ہیںکہ حضرت عثمان ؓ نے حضرت ابنِ عمر ؓ سے فرمایا: جائو اور لوگوں کے قاضی بن جائو، ان میں فیصلے کیا کرو۔ حضرت ابنِ عمر نے کہا: اے امیر المؤمنین! کیاآپ مجھے اس سے معاف رکھیں گے؟ حضرت عثمان نے فرمایا: نہیں، میں تمہیں قسم دیتا ہوں تم جا کر لوگوں کے قاضی ضرور بنو۔ حضرت ابنِ عمر نے کہا: آپ جلدی نہ کریں۔ کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے اللہ کی پناہ چاہی وہ بہت بڑی پناہ میں آگیا؟ حضرت عثمان نے فرمایا: ہاں۔ حضرت ابنِ عمر نے کہا: میں قاضی بننے سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ حضرت عثمان نے فرمایا: تم قاضی کیوں نہیں بنتے ہو حالاںکہ تمہارے والد تو قاضی تھے؟ حضرت ابنِ عمر نے کہا: میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو قاضی بنا اور پھر نہ جاننے کی وجہ سے غلط فیصلہ کردیا تو وہ دوزخی ہے۔ اور جو قاضی عالم ہو اور حق و انصاف کا فیصلہ کرے، وہ بھی یہ چاہے گا کہ وہ اللہ کے ہاں جا کر برابر سرابر پر چھوٹ جائے (نہ انعام ملے اور نہ کوئی سزالگے)۔ اب اس حدیث کے سننے کے بعد بھی میں قاضی بننے کاخیال کرسکتا ہوں؟ 2 امام احمد کی روایت میں اس کے بعد یہ ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے اُن کے عذر کو قبول کر لیا اور ان سے فرمایاکہ تم کو تو معاف کردیا، لیکن تم کسی اور کو یہ بات نہ بتانا (ورنہ اگر سارے ہی اِنکار کرنے لگ گئے تو پھر مسلمانوں میں قاضی کون بنے گااور یہ اجتماعی ضرورت کیسے پوری ہو گی؟) حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓ نے انھیں قاضی بنانا چاہا تو انھوں نے معذرت کر دی اور فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قاضی تین قسم کے ہیںایک نجات پائے گادو دوزخ میں جائیں گے ۔جس نے ظالمانہ فیصلہ کیا، یا اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ کیا وہ ہلاک ہو گا اورجس نے حق کے مطابق فیصلہ کیا وہ نجات پائے گا۔1 حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: جس دن حضرت علی اور حضرت معاویہ ؓ دُومۃُ الْجَنْدَل میںجمع ہوئے ( غالباً یہ قصہ حضرت حسن بن علی اور حضرت معاویہ ؓ کاہے، راوی کو غلط فہمی ہوگئی ہے) تو اس دن مجھ سے (میری ہمشیرہ) اُمّ المؤمنین حضرت حفصہؓ نے کہا: تمہارے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ تم ایسی صلح سے پیچھے رہو جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کی اُمت کے درمیان صلح کرادے۔ تم حضور ﷺ کے سسرال سے تعلق رکھتے ہو اور (امیر المؤمنین) حضرت عمر بن خطّاب کے بیٹے ہو۔ اس کے بعد حضرت معاویہ ایک بہت بڑے بختی اُونٹ پر یعنی خراسانی اونٹ پر آکر کہنے لگے: کون خلافت کی طمع اور اُمید رکھتا ہے؟ اور کون اس کے لیے اپنی گردن اُٹھا تا ہے؟ حضرت ابنِ عمرفرماتے ہیں: اس سے پہلے کبھی میرے دل میں دنیا کا خیال نہیں آیا تھا، میں نے سوچا کہ ان سے جا کر یہ کہوں کہ اس خلافت کی اُمید وطمع وہ آدمی کر رہا ہے جس نے آپ کو اور آپ کے باپ کو اِسلام کی وجہ سے مارا تھا، اور (مار مار کر) تم دونوں کو اِسلام میں داخل کیا تھا۔ (اس سے حضرت ابنِ عمر ؓ اپنی ذات مراد لے رہے ہیں) لیکن پھر مجھے جنت اور اس کی نعمتیں یا د آگئیں تو میں نے ا ن سے یہ بات کہنے کا ارادہ چھوڑ دیا۔2 حضرت ابو حُصَیْن کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ ؓ نے فرمایا: اس امرِ خلافت کا ہم سے زیادہ حق دار کون ہے؟ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں: میرے جی میں آئی کہ میں کہہ دوں خلافت کا آپ سے زیادہ حق دار وہ ہے جس نے آپ کو اور آپ کے والد کو اسلام کی وجہ سے مارا تھا، (یعنی خود حضرت ابنِ عمر) لیکن مجھے جنت کی نعمتیں یاد آگئیںاور اس بات کا خطرہ ہوا کہ کہیں اس طرح کہنے سے فساد نہ برپا ہو جائے۔1 حضرت زُہری فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی اور حضرت معاویہ ؓ جمع ہوئے تو حضرت معاویہ نے کھڑے ہو کر فرمایا: اس امرِ خلافت کا مجھ سے زیادہ حق دار کون ہے؟ حضرت ابنِ عمر فرماتے ہیں: میرا ارادہ ہوا کہ میں کھڑے ہو کر کہوں کہ اس خلافت کا آپ سے زیادہ حق دار وہ ہے جس نے آپ کو اور آپ کے والد کو کفر کی وجہ سے مارا تھا ( یعنی خود حضرت ابنِ عمر) لیکن مجھے ڈر ہوا کہ میرے اس طرح کہنے سے میرے بارے میں اس چیزکا گمان کر لیا جائے گا جو مجھ میں نہیں ہے (یعنی یہ سمجھ لیا جائے گاکہ مجھے خلیفہ بننے کا شوق ہے حالاںکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے)۔ حضرت عبد اللہ بن صامت ؓ فرماتے ہیں کہ زِیاد نے حضرت عمران بن حُصَیْن ؓ کو خراسان کا حاکم بنا کر بھیجنا چاہا تو انھوں نے معذرت کر دی۔ ان کے ساتھیوں نے ان سے کہا: کیا آپ نے خراسان کی اَمارت چھوڑ دی؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے اس بات سے کوئی خوشی نہیں ہے کہ مجھے تو خراسان کی گرمی پہنچے، اور زیاد اور اس کے ساتھیوں کو اس کی ٹھنڈک۔ یعنی میں تو وہاں امیر بن کر مشقّت اٹھاتا رہوں اور وہ لوگ وہاں کی آمدنی سے مزے اُڑاتے رہیں۔ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ میں تو دشمن کے مقابلہ میں کھڑا ہوں اور میرے پاس زِیاد کا ایسا خط آئے کہ اگرمیں اس پر عمل کروں تو ہلاک ہو جائوں، اور اگر اس پر عمل نہ کروں تو (زِیاد کی طرف سے) میری گردن اُڑا دی جائے۔ پھر زِیاد نے حضرت حکم بن عمرو غِفَاری ؓ سے خُراسان کا امیر بننے کو کہا جسے انھوں نے قبول کرلیا۔ راوی کہتے ہیں: یہ سن کر حضرت عمران نے فرمایا: کوئی ہے جو حَکَم کو میرے پاس بلا لائے؟ چناںچہ حضرت عمران کا قاصد گیا اور اس پر حضرت حَکَم حضرت عمران کے پاس آئے تو حضرت عمران نے ان سے فرمایا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کسی کی ایسی بات ماننی بالکل جائز نہیں ہے جس میں خدا کی نافرمانی ہو رہی ہو؟ حضرت حکم نے کہا: جی ہاں۔ اس پر حضرت عمران نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہہ کر اللہ کا شکر ادا کیا، یا اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہہ کر خوشی کا اظہار کیا۔ حضرت حسن کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ زِیاد نے حضرت حَکَم غِفاری ؓ کو ایک لشکر کا امیر بنایا توحضرت عمران بن حصین ؓ ان کے پاس آئے اور لوگوں کی موجودگی میں ان سے ملے اور فرمایا: کیا آپ جانتے ہیں کہ میں آپ کے پاس کیوں آیا ہوں؟ حضرت حَکَم نے کہا: (آپ ہی بتائیں) آپ کیوں آئے ہیں؟ حضرت عمران نے کہا: کیا آپ کو یاد ہے کہ ایک آدمی سے اس کے امیر نے کہاتھا کہ اپنے آپ کو آگ میں پھینک دو۔ (وہ آدمی تو آگ کی طرف چل دیا تھا لیکن دوسرے) لوگوں نے جلدی سے اسے پکڑ کر آگ میں چھلانگ لگانے سے روک دیا تھا؟ یہ سارا واقعہ حضور ﷺ کو بتایا گیا تھا تو آپ نے فرمایاتھا: اگر یہ آدمی آگ میں گر جاتا تو یہ آدمی بھی اور اُسے حکم دینے والا امیر بھی دونوں دوزخ میں جاتے۔ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی صورت میں کسی کی بات ماننی جائز نہیں ہے۔ حضرت حکم نے کہا: ہاں (یاد ہے)۔ حضرت عمران نے کہا: میں تو تمہیں صرف یہ حدیث یاد دلانا چاہتا تھا۔1