حضورِ اکرم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کا عدل واِنصاف
حضرت علی المرتضیٰ ؓ کا عدل واِنصاف
حضرت کُلَیب ؓ کہتے ہیں: حضرت علی ؓ کے پاس اِصْبَہان سے مال آیا، آپ نے اسے سات حصوں میں تقسیم کیا۔اس میں آپ کو ایک روٹی بھی ملی، آپ نے اس کے سات ٹکڑے کیے اور ہر حصہ پر ایک ٹکڑا رکھ دیا۔ پھر لشکر کے ساتوں حصوں کے امیروں کو بلایا اور ان میں قرعہ اندازی کی تاکہ پتہ چلے کہ ان میں سے پہلے کس کو دیا جائے۔2
حضرت عبد اللہ ہاشمی اپنے والد سے نقل کرتے ہیں: حضرت علی ؓ کے پاس دوعورتیں مانگنے کے لیے آئیں ان میں سے ایک عربی تھی اور دوسری اس کی آزاد کردہ باندی تھی۔ آپ نے حکم دیا کہ ان میں سے ہر ایک کو ایک کُر(تقریباً ۶۳ من) غلّہ اور چالیس درہم دیے جائیں۔ اس آزاد شدہ باندی کو تو جو ملا وہ اسے لے کر چلی گئی، لیکن عربی عورت نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ نے اس کو جتنا دیا مجھے بھی اتنا ہی دیا،حالاںکہ میں عربی ہوں اور یہ آزاد کردہ باندی ہے۔ اس سے حضرت علی نے کہا: میں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں بہت غور سے دیکھا تو اس میں مجھے اولادِ اسماعیل ؑ کواولادِ اسحاق ؑ پر کوئی فضیلت نظر نہیں آئی۔3
حضرت علی بن ربیعہ ؓ کہتے ہیں: حضرت جَعْدہ بن ہُبَیْرہ نے حضرت علی ؓ کی خدمت میں آکر کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کے پاس دو آدمی آئیں گے۔ ان میں سے ایک کو تو اپنی جان سے بھی زیادہ آپ سے محبت ہے، یا یوں کہا: اپنے اہل وعیال اور مال و دولت سے بھی زیادہ محبت ہے اور دوسرے کا بس چلے تو آپ کو ذبح کردے۔ اس لیے آپ دوسرے کے خلاف پہلے کے حق میں فیصلہ کریں۔ اس پر حضرت علی نے حضرت جَعْدہ کے سینہ پرمکّامارا اور فرمایا: اگر یہ فیصلے اپنے آپ کو راضی کرنے کے لیے ہوتے تو میں ضرور ایسا کرتا، لیکن یہ فیصلے تو اللہ کو راضی کرنے کے لیے ہوتے ہیں (اس لیے میں تو حق کے مطابق فیصلہ کروں گا، اب وہ فیصلہ جس کے حق میں چاہے ہوجائے) ۔1
حضرت اَصبغ بن نُباتہ ؓ کہتے ہیں: میں حضرت علی بن ابی طالب ؓ کے ساتھ بازار گیا۔ آپ نے دیکھا کہ بازار والے اپنی جگہ سے آگے بڑھ گئے ہیں۔ آپ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ بازار والے اپنی جگہ سے آگے بڑھ گئے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اپنی جگہ بڑھا لینے کا انھیں کوئی حق نہیں ہے۔ مسلمانوں کا بازار نمازیوں کے نماز پڑھنے کی جگہ یعنی مسجد کی طرح ہوتاہے، لہٰذاجس جگہ کاکوئی مالک نہیں ہے وہاں پہلے آکر جو قبضہ کرلے گا وہ جگہ اس دن اسی کی ہوگی۔ ہاں وہ خود اسے چھوڑ کر کہیں اور چلاجائے تو اس کی مرضی۔2
ایک یہودی کے ساتھ حضرت علی ؓ کا قصہ جلد اول صفحہ ۲۹۲ پر صحابۂ کرام کے ان اخلاق واعمال کے قصوں میں گزر چکا ہے جن کی وجہ سے لوگوں کو ہدایت ملتی تھی۔