حضورِ اکرم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کا عدل واِنصاف

حضرت مقداد بن اسود ؓ کا عدل واِنصاف

حضرت حارث بن سُوَیْد ؓ فرماتے ہیں: حضرت مقداد بن اسود ؓ ایک لشکر میں گئے ہوئے تھے۔ دشمن نے ان کا محاصرہ کرلیا۔ لشکر کے امیر نے حکم دیا کہ کوئی بھی اپنی سواری چَرانے کے لیے لے کر نہ جائے۔ ایک آدمی کو امیر کے اس حکم کا پتہ نہ چلا، وہ اپنی سواری لے کر چلا گیا جس پر امیر نے اسے مارا۔ وہ امیر کے پاس سے واپس آکر کہنے لگا: جو سلوک آج میرے ساتھ ہوا ہے ایسا میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ حضرت مقداد اس آدمی کے پاس سے گزرے تو اس سے پوچھا: تمہیں کیاہوا؟ اس نے اپنا قصہ سنایا۔ اس پر حضرت مقداد نے تلوار گلے میں ڈالی اور اس کے ساتھ چل پڑے اور امیر کے پاس پہنچ کر اس سے کہا: (آپ نے اسے بلا وجہ مارا ہے اس لیے) آپ اسے اپنی جان سے بدلہ دلوائیں۔ وہ امیر بدلہ دینے کے لیے تیار ہوگئے۔ اس پر اس آدمی نے امیر کو معاف کردیا۔ حضرت مقداد ؓ یہ کہتے ہوئے واپس آئے: میں اِن شاء اللہ اس حال میں مروں گا کہ اسلام غالب ہوگا (کہ کمزور کو طاقت ور سے بدلہ دلوایا جارہا ہوگا)۔ 2