حضرات خُلَفَائے کرام کا دیگر خُلَفَاواُمرا کو وصیّت کرنا
حضرت عمر بن خطّاب ؓ کا حضرت ابوعبیدہ بن جَرَّاح ؓکو وصیت کرنا
حضرت صالح بن کَیْسان ؓکہتے ہیں: خلیفہ بننے کے بعد حضرت عمر ؓ نے پہلا خط جو حضرت ابوعبیدہ ؓ کو لکھا، جس میں انھوں نے حضرت ابو عبیدہ کو حضرت خالد ؓ کے لشکر کا امیر بنایا۔ اس میں یہ مضمون تھا:
میں تمہیں اس اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں جو کہ باقی رہے گا اور اس کے علاوہ باقی تمام چیزیں فنا ہوجائیں گی۔ اور اسی نے ہمیں گمراہی سے نکال کر ہدایت دی اور وہی اندھیروں سے نکال کر ہمیں نور کی طرف لے آیا۔ میں نے تمہیں خالد بن ولید کے لشکر کا امیر بنا دیا ہے۔ چناںچہ مسلمانوںکے جو کام تمہارے ذمہ ہیںان کو تم پورا کرو اور مالِ غنیمت کی اُمید میں مسلمانوں کو ہلاکت کی جگہ نہ لے جاؤ۔ کسی جگہ پڑاؤ کرنے سے پہلے آدمی بھیج کر مسلمانوں کے لیے مناسب جگہ تلاش کرلو اور یہ بھی معلوم کرلو کہ اس جگہ پہنچنے کا راستہ کیسا ہے؟ اور جب بھی کوئی جماعت بھیجو تو بھرپور جماعت بنا کر بھیجو (تھوڑے آدمی نہ بھیجو) اور مسلمانوں کو ہلاکت میں ڈالنے سے بچو۔ اللہ تعالیٰ تمہیں میرے ذریعہ اور مجھے تمہارے ذریعہ سے آزما رہے ہیں۔ اپنی آنکھیں دنیا سے بند رکھو اور اپنا دل اس سے ہٹا لو۔ اس کا خیال رکھو کہ کہیں دنیا (کی محبت) تمہیں ہلاک نہ کر دے جیسے کہ تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کرچکی ہے اور تم ان لوگوں کی ہلاکت کی جگہیں دیکھ چکے ہو۔1