صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا

نبی کریم ﷺ کا خرچ کرنے کی ترغیب دینا

نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کس طرح اللہ کے راستہ میں اور اللہ کی رضامندی کی جگہوں میں مال کو اور اللہ کی دی ہوئی ہر نعمت کو خرچ کیا کرتے تھے۔ اور یہ خرچ کرنا ان کو کس طرح اپنے اوپر خرچ کرنے سے زیادہ محبوب تھا، چناںچہ یہ حضرات فاقہ کے باوجود دوسروں کو اپنے اوپر مقدّم رکھتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کا خرچ کرنے کی ترغیب دینا حضرت جریر ؓ فرماتے ہیں: ہم لوگ دن کے شروع حصہ میں حضور ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں کچھ لوگ آئے جو ننگے بدن اور ننگے پاؤں، اور دھاری دار اُونی چادریں اور عَبا پہنے ہوئے تھے، اور تلواریں گردنوں میں لٹکا رکھی تھیں۔ ان میں سے اکثر لوگ قبیلہ مُضَرکے تھے، بلکہ سارے ہی لوگ مُضَرکے تھے۔ ان کے فاقہ کی حالت دیکھ کر آپ کا چہرۂ مبارک بدل گیا۔ پھر آپ گھر تشریف لے گئے (کہ شاید وہاں اُن کے لیے کچھ مل جائے، لیکن وہاں بھی کچھ نہ ملا، یا آپ نماز کی تیاری کرنے گئے ہوں گے)۔ پھر باہر تشریف لاکر حضرت بلال ؓ کو حکم فرمایا۔ انھوں نے پہلے اذان دی (ظہر یا جمعہ کی نماز تھی) پھر اقامت کہی۔ آپ نے نماز پڑھائی پھر بیان فرمایا اور یہ آیت تلاوت فرمائی: {یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ}سے لے کر آیت کے آخر {اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًاo}تک۔ 1 اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان دار سے پیدا کیا، اور اس جان دار سے اس کا جوڑا پیدا کیا، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلائیں۔ اور تم خدائے تعالیٰ سے ڈرو جس کے نام سے ایک دوسرے سے مطالبہ کیا کرتے ہو اور قرابت سے بھی ڈرو۔ بالیقین اللہ تعالیٰ تم سب کی اطلاع رکھتے ہیں۔ اور سورۂ حشر میں ہے: {اِتَّقُوا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ}1 اور اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص دیکھ بھال لے کہ کل (قیامت) کے واسطے اس نے کیا ذخیرہ بھیجا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ اپنے دینار، درہم، کپڑے، ایک صاع گندم اور ایک صاع کھجور میں سے کچھ ضرور صدقہ کرے، حتی کہ آپ نے فرمایا: اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی ہو تو اسے ہی صدقہ کر دے۔ (یعنی یہ ضروری نہیں ہے کہ جس کے پاس زیادہ ہو صرف وہی صدقہ کرے، بلکہ جس کے پاس تھوڑا ہے وہ بھی اس میں سے خرچ کرے) راوی کہتے ہیں: چناںچہ ایک اَنصاری ایک تھیلی لے کر آئے (وہ اتنی وزنی تھی) کہ ان کا ہاتھ اسے اٹھانے سے عاجز ہونے لگا، بلکہ عاجز ہو ہی گیا تھا۔ پھر تو لوگوں کا تانتا بندھ گیا (اور لوگ بہت سامان لائے) حتی کہ میں نے غلّہ او ر کپڑے (اور درہم ودینار) کے دو بڑے ڈھیر دیکھے۔ یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ حضور ﷺ کا چہرۂ انور (خوشی سے) ایسا چمک رہا ہے کہ گویا کہ آپ کے چہرے پر سونے کا پانی پھیرا ہوا ہے۔ (اس کام کی فضیلت سناتے ہوئے) حضور ﷺ نے فرمایا: جو شخص اسلام میں اچھاطریقہ جاری کرتا ہے تو اسے اپنا اَجر ملے گا، اور اس کے بعد جتنے لوگ اس طریقہ پر عمل کریں گے ان سب کے برابر اسے اَجر ملے گا اور ان کے اجر میں سے کچھ کم نہیں ہوگا۔ اور جو اسلام میں برا طریقہ جاری کرتا ہے تو اسے اپناگناہ ملے گا، اور اس کے بعد جتنے لوگ اس طریقہ پر عمل کریں گے ان سب کے برابر گناہ اسے ملے گا اور ان کے گناہ میں سے کچھ کم نہیں ہوگا۔2 اور اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کے بارے میں حضور ﷺ کے ترغیب دینے کی حدیث گزر چکی ہے ۔ حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں: حضور ﷺ بدھ کے دن قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے پاس تشریف لے گئے۔ پھر انھوں نے مزید حدیث ذکر کی۔ اس کے بعد یہ مضمون ہے کہ آپ نے فرمایا: اے جماعتِ انصار! انھوں نے عرض کیا: لبیک یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا: زمانۂ جاہلیت میں تم لوگ اللہ کی عبادت نہیں کیا کرتے تھے، لیکن اس زمانہ میں تم میں یہ خوبیاں تھیں کہ تم یتیموں کا بوجھ اٹھاتے تھے، اپنا مال دوسروں پر خرچ کرتے تھے اور مسافروں کی ہر طرح کی خدمت کرتے تھے۔ یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام کی دولت عطا فرماکر اور اپنے نبی کو بھیج کر تم پر بہت بڑا احسان کیا تواب تم اپنے مال سنبھال کر رکھنے لگ گئے ہو! (حالاںکہ مسلمان ہونے کے بعد اور زیادہ خرچ کرنا چاہیے تھا، کیوںکہ اسلام تو دوسروں پر خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے) لہٰذا انسان جو کچھ کھاتا ہے اس پر اَجر ملتا ہے، بلکہ درندے اور پرندے جو کچھ (باغوں، کھیتوں وغیرہ میں سے) کھاجاتے ہیں اس پر بھی اسے اَجر ملتا ہے۔ (بس یہ فضیلت سننے کی دیر تھی کہ) وہ حضراتِ انصار ایک دَم (اپنے باغوں کو) واپس گئے اور ہر ایک نے اپنے باغ کی دیوار میں تیس تیس دروازے کھول دیے (تاکہ ہر ایک آئے اور کھائے)۔1 حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: حضور ﷺ نے سب سے پہلے جو بیان فرمایا اس کی صورت یہ ہوئی کہ آپ منبر پر تشریف لے گئے اور اللہ کی حمد وثنا بیان کی اور فرمایا: اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین کے پسند فرمایاہے، لہٰذا اسلام میں سخاوت اور حسنِ اَخلاق کے ساتھ اچھی زندگی گزارو۔ غور سے سنو! سخاوت جنت کا ایک درخت ہے اور اس کی ٹہنیاں دنیا میں جھکی ہوئی ہیں، لہٰذا تم میں سے جو آدمی سخی ہوگا وہ اس درخت کی ایک ٹہنی کو مضبوطی سے پکڑنے والا ہوگا اور وہ یوںہی اسے پکڑے رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں پہنچا دیں گے۔ غور سے سنو! کنجوسی دوزخ کا ایک درخت ہے اور اس کی ٹہنیاں دنیا میں جھکی ہوئی ہیں، لہٰذا تم میں سے جو آدمی کنجوس ہوگا وہ اس درخت کی ایک ٹہنی کو مضبوطی سے پکڑنے والا ہوگا، اور وہ یوںہی اسے پکڑے رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے دوزخ میں پہنچا دیں گے۔ پھر آپ نے دو مرتبہ فرمایا: تم لوگ اللہ کی وجہ سے سخاوت کو اختیار کرو، اللہ کی وجہ سے سخاوت کو اختیارکرو۔2