صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا
اپنی پیاری چیزوں کو خرچ کرنا
حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر ؓ کو خیبرمیں ایک زمین ملی۔ انھوں نے حضور ﷺ کی خدمت میںحاضر ہو کر عرض کیا: مجھے ایک ایسی زمین ملی ہے کہ اس سے زیادہ عمدہ مال مجھے کبھی نہیں ملا۔ آپ کی کیا رائے ہے کہ میں اس کے بارے میں کیا کروں؟ حضور ﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو زمین کو وقف کر دو اور اس کی آمدنی کو صدقہ کر دو۔ چناںچہ حضرت عمر نے ان شرائط پر اس زمین کی آمدنی کو صدقہ کیا کہ نہ تو یہ زمین بیچی جاسکے گی، نہ کسی کو ہدیہ کی جاسکے گی اور نہ کسی کو وراثت میں مل سکے گی۔ اور اس کی آمدنی فقیروں، رشتہ داروں اور غلاموں کے آزاد کرانے، جہاد فی سبیل اللہ میں اور مہمانوں پر خرچ کی جائے گی۔ اور جو اس زمین کا متولی بنے اسے اجازت ہے کہ وہ عام دستور کے مطابق اس کی آمدنی میں سے خود کھالے اور اپنے دوست کو کھلا دے، لیکن اسے اپنے لیے اس میں سے مال جمع کرنے کی اجازت نہیںہے۔2
حضرت عمر ؓ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کو خط لکھا کہ وہ ان کے لیے جَلُولاء (خراسان کے راستہ میں ایک شہر ہے، ۱۶ ہجری میں مسلمانوں نے اسے فتح کیا تھا) کے قیدیوں میں سے ایک باندی خرید لیں۔ (چناںچہ انھوں نے ایک باندی خرید کر حضرت عمر ؓ کے پاس بھیج دی، وہ حضرت عمرکو بہت اچھی لگی) حضرت عمرنے اس باندی کو بلایااور فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ}3
تم خیرِ کامل کو کبھی حاصل نہ کرسکو گے یہاں تک کہ اپنی پیاری چیز کو خرچ نہ کرو گے۔
اور اس باندی کو آزاد کردیا۔1
حضرت نافع ؓ کہتے ہیں: حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی ایک باندی تھی۔ جب وہ (اپنے اخلاق وعادات اور حسن وجمال کی وجہ سے) انھیں زیادہ پسند آنے لگی تو اسے آزاد کرکے اپنے ایک آزاد کردہ غلام سے اس کی شادی کر دی۔ پھر اس کا لڑکا پید اہوا تو حضرت نافع کہتے ہیں: میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر کو دیکھا کہ وہ اس بچے کو اٹھا کر اس کا بوسہ لیتے اور کہتے: واہ واہ! فلانی کی کتنی اچھی خوش بو اس میں سے آرہی ہے! ان کی مراد وہی آزاد کردہ باندی تھی۔2
حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: مجھے ایک مرتبہ { لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} والی آیت یاد آئی (آیت کا ترجمہ دو حدیث پہلے گزر چکا ہے) تو میں نے ان تمام چیزوں میں غور کیا جو اللہ نے مجھے دے رکھی تھیں (کہ ان میں سے کون سی چیز مجھے سب سے زیادہ پیاری لگتی ہے) تو مجھے اپنی رومی باندی مَرْجانہ سے کوئی چیز زیادہ پیاری نظر نہ آئی، اس لیے میں نے کہا: یہ مَرْجانہ اللہ کے لیے آزاد ہے۔ (آزاد کرنے کے بعد بھی دل میں اس سے تعلق باقی رہا جس کی وجہ سے میں یہ کہتا ہوں)کہ اللہ کو دینے کے بعد چیز کو واپس لینا لازم نہ آتا تو میں اس سے ضرور شادی کرلیتا۔3
حاکم کی روایت میں اس کے بعد یہ مضمون ہے کہ پھر میں نے اس کی شادی نافع سے کردی، چناںچہ اب وہ نافع کی اولاد کی ماں ہے۔4
ابو نُعیم نے’’ حِلیہ‘‘ میں بیان کیا ہے کہ حضرت نافع ؓ کہتے ہیں: حضرت ابنِ عمر ؓ کی یہ عادت تھی کہ جب انھیں اپنے مال میں سے کوئی چیز زیادہ پسند آنے لگتی تو اسے فوراً اللہ کے نام پر خرچ کر دیتے اور یوں اللہ کا قرب حاصل کرلیتے، اور ان کے غلام بھی ان کی اس عادتِ شریفہ سے واقف ہوگئے تھے۔ چناںچہ بعض دفعہ ان کے بعض غلام نیک اَعمال میں خوب زور دکھاتے اور ہر وقت مسجد میں اَعمال میں لگے رہتے۔ جب حضرت ابنِ عمراُن کو اس اچھی حالت پر دیکھتے تو ان کو آزاد کر دیتے۔ اس پر ان کے ساتھی ان سے کہتے: اے ابو عبد الرحمن! اللہ کی قسم! یہ لوگ تو اس طرح آپ کو دھوکہ دے جاتے ہیں۔ (انھیں مسجد سے اور مسجد والے اعمال سے دلی لگاؤ کوئی نہیںہے، صرف آپ کو دکھانے کے لیے یہ کرتے ہیں تاکہ آپ خوش ہو کر انھیں آزاد کردیں)۔ تو یہ جواب دیتے کہ ہمیں جو اللہ کے اعمال میں لگ کر دھوکہ دے گاہم اللہ کے لیے اس سے دھوکہ کھاجائیں گے۔ چناںچہ میں نے ایک دن شام کو دیکھا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ ایک عمدہ اونٹ پر جارہے ہیں جسے انھوں نے بہت زیادہ قیمت دے کر خریدا تھا۔ چلتے چلتے انھیں اس کی چال بڑی پسند آئی۔ وہیں اونٹ کو بٹھایا اور اس سے نیچے اُتر کر فرمایا: اے نافع! اس کی نکیل نکال دو اور اس کا کجاوہ اتار دو اور اس پر جُھول ڈال دو اور اس کے کوہان کے ایک طرف زخم کردو (اس زمانہ میں یہ زخم اس بات کی نشانی تھاکہ یہ جانور اللہ کے نام پر قربان کیا جائے گا )اور پھر اسے قربانی کے جانوروں میں شامل کردو۔1
ابو نُعیم کی ایک اور روایت میں یہ ہے کہ حضرت نافع ؓ کہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت ابنِ عمر ؓ اپنی اونٹنی پر جا رہے تھے کہ وہ اُونٹنی انھیں اچھی لگنے لگی، تو فوراً اسے (بٹھانے کے لیے) فرمایا: اِخْ اِخْ۔ (اس زمانہ میں اس آواز سے عرب اُونٹ کو بٹھایا کرتے تھے) اور اسے بٹھا کر فرمایا: اے نافع! اس سے کجاوہ اُتار لو۔ میں یہ سمجھا کہ وہ مجھے کجاوہ اتارنے کو جو فرما رہے ہیں یا تو اپنی کوئی ضرورت اس کجاوہ سے پوری کرنا چاہتے ہیں یا آپ کو اس اونٹنی کے بارے میں کوئی شک گزرا ہے (کہ کہیں اس کو کوئی تکلیف تو نہیں ہو رہی ہے)۔ چناںچہ میں نے اس سے کجاوہ اتار دیا تو مجھ سے فرمایا: دیکھو، اس پر جو سامان ہے کیا ا س سے دوسری اونٹنی خریدی جاسکتی ہے؟ (یعنی اسے تو اللہ کے نام پر قربان کر دیا جائے کیوںکہ یہ پسند آگئی ہے اور پسندیدہ مال اللہ کے نام پر قربان کر دینا چاہیے اور اس کے سامان کو بیچ کر اس سے سفر کے لیے دوسری اونٹنی خرید لی جائے) میں نے کہا: میں آپ کو قسم دے کر کہتا ہوں کہ اگر آپ چاہیں تو اسے بیچ کر اس کی قیمت سے دوسری اُونٹنی خرید سکتے ہیں۔ چناںچہ انھوں نے اپنی اس اونٹنی کو جھول پہنائی اور اس کی گردن میں جوتے کا ہار ڈالا ( یہ ہار بھی اس بات کی نشانی تھی کہ اس جانور کو حرم شریف میں لے جاکر قربان کیا جائے گا) اور اسے اپنے قربانی کے اونٹوں میں شامل کر دیا، اور ان کو جب بھی اپنی کوئی چیز اچھی لگنے لگتی تو اسے فوراً آگے بھیج دیتے۔ (یعنی اللہ کے نام پر خر چ کردیتے تا کہ کل قیامت کو کام آئے)
ابونُعیم کی اور ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت نافع ؓ کہتے ہیں: حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کا مستقل معمول یہ تھاکہ جب بھی انھیں اپنے مال میں سے کوئی چیز پسند آجاتی تو فوراً اسے اللہ کے نام پر خرچ کر دیتے اور اس کی ملکیت سے دستبردار ہوجاتے۔ اور بعض مرتبہ ایک ہی مجلس میں تیس ہزار اللہ کے لیے دے دیتے۔ اور دو مرتبہ ان کو ابنِ عامر نے تیس ہزار دیے تو انھوں نے (مجھ سے) فرمایا: اے نافع! میں ڈرتا ہوں کہ کہیں ابنِ عامر کے درہم مجھے فتنہ میں مبتلا نہ کر دیں، جا تو آزاد ہے۔ سفر اور رمضان شریف کے علاوہ کبھی بھی پورے مہینے مسلسل گوشت نہیں کھاتے تھے۔ بعض دفعہ پورا مہینہ گزر جاتا اور گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ چکھتے۔1
حضرت سعید بن ابی ہلال ؓ کہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے حجفہ مقام پر قیام فرمایااور وہ بیمار بھی تھے۔ انھوں نے کہا: مچھلی کھانے کو میرا دل چاہ رہا ہے۔ ان کے ساتھیوں نے بہت تلاش کیا بس صرف ایک مچھلی ملی۔ ان کی بیوی حضرت صفیہ بنتِ ابی عبید نے اس مچھلی کو لیا اور اسے تیار کرکے ان کے سامنے رکھ دیا۔ اتنے میں ایک مسکین ان کے پاس آکر کھڑا ہوگیا۔ انھوں نے اس مسکین سے کہا: تم یہ مچھلی لے لو۔ اس پر ان کی بیوی نے کہا: سبحان اللہ! ہم نے آپ کی خاطر بڑی مشقت اٹھا کر یہ مچھلی خاص طور پر آپ کے لیے تیار کی ہے، (اس لیے اسے تو آپ خود کھائیں) ہمارے پاس سامانِ سفر ہے اس میں سے اس مسکین کو دے دیں گے۔ انھوں نے (اپنا نام لے کر) کہا: عبد اللہ کو یہ مچھلی بہت پسند آرہی ہے (اس لیے اس مسکین کو یہی مچھلی دینی ہے)۔ 2
ابنِ سعد نے اس جیسی روایت ذکر کی ہے، اس میں یہ ہے کہ ان کی بیوی نے کہا: ہم اس مسکین کو ایک درہم دے دیتے ہیں، یہ درہم اس مچھلی سے زیادہ اس کے کام آئے گا، آپ یہ مچھلی کھائیں اور اپنی چاہت پوری کریں۔ انھوں نے کہا: میری چاہت وہی ہے جو میں کہہ رہاہوں۔1
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: مدینہ منوّرہ میں اَنصارمیںسب سے زیادہ کھجوروں کے باغات حضرت ابو طلحہ ؓ کے پاس تھے اور انھیں اپنے باغوں میں سے سب سے زیادہ محبوب بَیْرُحَا باغ تھا جو کہ بالکل مسجدِ نبوی کے سامنے تھا۔ اس کا پانی بہت عمدہ تھا۔ حضور ﷺ بھی اکثر اس باغ میں تشریف لے جاتے اور ا س کا پانی نوش فرماتے۔ جب
{ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ}2
تم خیرِ کامل کو کبھی حاصل نہ کرسکوگے یہاں تک کہ اپنی پیاری چیز کو خرچ نہ کروگے۔
آیت نازل ہوئی توحضرت ابوطلحہ نے حضورِ ا قدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب تک تم اپنی پیاری چیز خرچ نہیں کرو گے اس وقت تک تم نیکی کے کمال کو نہیں پہنچ سکتے۔ اور مجھے اپنے سارے مال میں سے سب سے زیادہ محبوب بَیْرُحَا باغ ہے، میںاسے اللہ کے لیے صدقہ کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس نیکی پر مجھے جنت عطا فرمائیں گے اور اس کے اجر کو میرے لیے ذخیرہ بنا کر رکھیں گے جو مجھے قیامت کے دن کام آئے گا۔ یا رسول اللہ! آپ جہاں مناسب سمجھیں اسے خرچ فرمادیں۔ آپ نے خوش ہو کر فرمایا: واہ واہ! یہ بڑے نفع والا مال ہے۔ یہ بڑے نفع والا مال ہے۔3
’’بخاری ‘‘ میں اس کے بعد یہ مضمون ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہاری بات سن لی ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ تم اسے اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کردو۔ حضرت ابو طلحہ نے عرض کیا: یارسول اللہ! ایسے ہی کروں گا۔ چناںچہ حضرت ابو طلحہ نے وہ باغ اپنے رشتہ داروں اور چچا زاد بھائیوں میں تقسیم کردیا۔
حضرت محمد بن منکدر ؓ کہتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: { لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ}تو حضرت زید بن حارثہ ؓ اپنی ایک گھوڑی لے کر حضورِ اَقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جس کا نام شِبْلہ تھا۔ اور انھیں اپنے مال میں سے کوئی چیز اس گھوڑی سے زیادہ محبوب نہیں تھی۔ اور عرض کیا کہ یہ گھوڑی اللہ کے لیے صدقہ ہے۔ حضور ﷺ نے اسے قبول فرماکر ان کے بیٹے حضرت اُسامہ بن زید ؓ کو سواری کے لیے دے دی۔ (حضرت زید بن حارثہ کو یہ اچھا نہ لگا کہ ان کی صدقہ کی ہوئی گھوڑی ان کے ہی بیٹے کو مل گئی، یوں صدقہ کی ہوئی چیز اپنے ہی گھر واپس آگئی) حضور ﷺ نے اس ناگواری کا اثر اُن کے چہرے میں محسوس فرمایا تو ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہارے اس صدقہ کو قبول کرچکے ہیں (لہٰذا اب یہ گھوڑی جسے بھی مل جائے تمہارے اجر میں کوئی کمی نہیں آئے گی)۔ 1
حضرت ابو ذر ؓ فرماتے ہیں: ہر مال میں تین شریک ہوتے ہیں: ایک تو تقدیر ہے جو مال کے ہلاک ہونے اور جانوروں کے مرجانے کی صورت میں تیر امال لے جاتی ہے اور تجھ سے پوچھتی بھی نہیں ہے کہ وہ تیرا عمدہ مال لے جائے یا گھٹیا۔ دوسرا شریک وارث ہے جو اس کا انتظار کر رہا ہے کہ تو (قبر میں) سر رکھے، یعنی تو مرجائے اور وہ تیرا مال لے جائے۔ وہ تیرا مال بھی لے جائے گااور تو اس کی نگاہ میں برا بھی ہو گا۔ اور تیسرا شریک تو خود ہے۔ لہٰذا تم اس بات کی پوری کوشش کرو کہ تم ان تینوں شریکوں میں سے سب سے کمزور شریک نہ بنو (یعنی تم ان دونوں سے زیادہ مال اللہ کے راستہ میں خرچ کرلو)۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} غور سے سنو! یہ اُونٹ مجھے اپنے مال میں سے بہت اچھا لگتا ہے، اس لیے میں نے چاہا کہ میں اسے اپنے (کام آنے کے) لیے آگے (آخرت میں) بھیج دوں۔2