صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا

حضرت عثمان بن عفان ؓ کا مال خرچ کرنا

حضرت عبد الرحمن بن خباب سَلَمی ؓ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے بیان فرمایا اور جیشِ عُسرہ (غزوۂ تبوک میں جانے والے لشکر) پر خرچ کرنے کی ترغیب دی۔ تو حضرت عثمان بن عفان ؓ نے کہا: کجاوے اور پالان سمیت سو اُونٹ میرے ذمّہ ہیں یعنی میں دوں گا۔ پھر حضور ﷺ منبر سے ایک سیڑھی نیچے تشریف لائے اور پھر (خرچ کرنے کی) ترغیب دی تو حضرت عثمان نے پھر کہا: کجاوے اور پالان سمیت اور سو اونٹ میرے ذمّہ ہیں۔ حضرت عبد الرحمن کہتے ہیں: میں نے حضور ﷺ کو دیکھا کہ (حضرت عثمان کے اتنا زیادہ خرچ کرنے پر بہت خوش ہیں اور خوشی کی وجہ سے) ہاتھ کو ایسے ہلا رہے ہیں جیسے تعجب وحیرانی میں انسان ہلایا کرتا ہے۔ اس موقع پر عبد الصمد راوی نے سمجھانے کے لیے اپنا ہاتھ باہر نکال کر ہلا کر دکھایا۔ اور حضور ﷺ فرما رہے تھے: اگر اتنا زیادہ خرچ کرنے کے بعد عثمان کو ئی بھی (نفل) عمل نہ کرے تو ان کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ ’’بیہقی‘‘ کی روایت میں یہ ہے کہ حضور ﷺ نے تین مرتبہ ترغیب دی اور حضرت عثمان ؓ نے کجاوے اور پالان سمیت تین سو اُونٹ اپنے ذمّہ لیے۔ حضرت عبد الرحمن کہتے ہیں: میں اس وقت موجودتھا جب حضور ﷺ منبر پر یہ فرما رہے تھے: اتنا خرچ کرنے کے بعد، یا فرمایا: آج کے بعد عثمان ؓ کا کسی گناہ سے نقصان نہیں ہوگا۔1 حضرت عبد الرحمن بن سَمُرہ ؓ فرماتے ہیں: جب حضورِ اَقدس ﷺ جیشِ عسرہ (یعنی غزوۂ تبوک کے لشکر) کو تیا ر کر رہے تھے تو حضرت عثمان ؓ حضور ﷺ کے پاس ایک ہزار دینار لے کر آئے اور لاکر حضور ﷺ کی جھولی میں ڈال دیے۔ حضور ﷺ ان دیناروں کو اُلٹتے پلٹتے جا رہے تھے اور یہ کہتے جا رہے تھے: آج کے بعد عثمان جو بھی (گناہِ صغیرہ یا خلافِ اولیٰ) کام کریں گے تو اس سے ان کا نقصان نہیں ہوگا۔ یہ بات آپ نے کئی مرتبہ فرمائی۔2 ابو نعیم نے یہی روایت حضرت ابنِ عمر ؓ سے نقل کی ہے۔ اس میں یہ مضمون ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! عثمان کے اس کارنامے کو نہ بھولنا اور اس کے بعد عثمان کوئی نیکی کا کام نہ کریں تو اس سے ان کا نقصان نہیں ہوگا۔ حضرت حذیفہ بن یمان ؓ فرماتے ہیں: حضور ﷺ نے حضرت عثمان ؓ کے پاس جیشِ عسرہ کی مدد کرنے کے لیے پیغام بھیجا تو حضرت عثمان نے دس ہزار دینار حضور ﷺ کے پاس بھیجے۔ لانے والے نے وہ دینار حضور ﷺ کے سامنے ڈال دیے۔ حضور ﷺ اپنے سامنے ان دیناروں کو اوپر نیچے اُلٹنے پلٹنے لگے اور حضرت عثمان کے لیے دعاکرنے لگے: اے عثمان! اللہ تمہاری مغفرت فرمائے! اور جو گناہ تم نے چھپ کر کیے اور علی الاعلان کیے اور جو تم نے مخفی رکھے اور جو گناہ تم سے قیامت تک ہوںگے اللہ ان سب کو معاف فرمائے۔ اس عمل کے بعد عثمان کوئی بھی نیک عمل نہ کریں تو کوئی پروا نہیں۔1 (انسان جب مرتا ہے تو اس کی قیامت قائم ہو جاتی ہے، اس لیے مطلب یہ ہے کہ عثمان سے مرتے دم تک جتنے گناہ ہوں اللہ انھیں معاف کرے)۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ فرماتے ہیں: جب حضرت عثمان بن عفّان ؓ نے حضورِ اَقدس ﷺ کو جیشِ عسرہ کی تیاری کے لیے سامان دیا اور سات سو اُوقیہ سونا لا کر دیا، اس وقت میں بھی وہاں موجود تھا۔2 حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں: حضرت عثمان ؓ نے غزوۂ تبوک میں ہزار سواریاں دیں جن میں پچاس گھوڑے تھے۔3 حضرت حسن ؓ کہتے ہیں: غزوۂ تبوک میں حضرت عثمان ؓ نے ساڑھے نو سو اونٹنیاں اور پچاس گھوڑے دیے تھے، یا یہ کہا:نو سو ستّر اُونٹنیاں اور تیس گھوڑے دیے تھے۔4 اور یہ پہلے گزر چکا کہ غزوۂ تبوک میں حضرت عثمان ؓ نے ایک تہائی لشکر کو ان کی ضرورت کا سامان دیا تھا یہاں تک کہ کہاجاتا تھا کہ ایک تہائی لشکر کی ضرورت کی ہر چیز انھوں نے مہیّا کی تھی۔