صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا
حضرت ابنِ عمر اور دیگر صحابۂ کرام ؓ کا مال خرچ کرنا
حضرت نافع ؓ کہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عمر ؓ نے اپنی ایک زمین دوسو اونٹنیوں کے بدلہ میں بیچی۔ پھر ان میں سے سو اونٹنیاں اللہ کے راستے میں جانے والوں کو دے دیں اور ان کو اس بات کا پابند کیا کہ وہ لوگ وادیٔ قُریٰ سے گزرنے سے پہلے ان میں سے کوئی بھی اونٹنی نہ بیچیں۔3
حصہ اوّل صفحہ ۵۱۸ پر حضور ﷺ کے جہاد کی اور مال خرچ کر نے کی ترغیب دینے کے باب میں گزر چکا ہے کہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے غزوۂ تبوک کے موقع پر ایک سو اُوقیہ یعنی چار ہزار درہم دیے اورحضرت عاصم بن عدی ؓ نے نوّے وَسْق (تقریباً پونے پانچ سو من) کھجور دی اور حضرت عباس، حضرت طلحہ، حضرت سعد بن عبادہ اور حضرت محمد بن مَسْلَمہ ؓ نے حضور ﷺ کو بہت زیادہ مال لاکر دیا۔ اور حصہ اوّل صفحہ ؟؟ پر گزر چکا ہے کہ ایک صحابی نے ایک اونٹنی اللہ کے راستہ میں دی تھی اور حضرت قیس بن سَلَع انصاری ؓ نے جہاد میں بہت سامال خرچ کیا تھا۔