صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا

مانگنے والوں پر مال خرچ کرنا

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: ایک دن حضور ﷺ مسجد میں تشریف لائے۔ آپ کے اوپر نجران (یمن کا ایک شہر) کی بنی ہوئی ایک چادر تھی جس کا کنارہ موٹا تھا۔ آپ کے پیچھے سے ایک دیہاتی آیا۔ اس نے آپ کی چادر کا کنارہ پکڑ کر اس زور سے کھینچا کہ آپ کی گردن مبارک پر اس موٹے کنارے کا نشان پڑگیا۔ اور اس نے کہا: اے محمد! اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے ہمیں بھی دو۔ حضور ﷺ نے اس کی طرف متوجہ ہو کر تبسّم فرمایا اور فرمایا: اسے ضرور کچھ دو۔3 حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں: ہم لوگ حضور ﷺ کے ساتھ صبح کو مسجد میں بیٹھے رہتے تھے۔ جب حضور ﷺ گھر جانے کے لیے کھڑے ہوتے تو ہم لوگ آپ کے گھر میں داخل ہونے تک کھڑے رہتے۔ چناںچہ ایک دن حضور ﷺ گھر جانے کے لیے کھڑے ہوئے۔ جب آپ مسجد کے درمیان میں پہنچے تو ایک دیہاتی آپ کے پاس پہنچا اور اس نے اس زور سے آپ کی چادر کھینچی کہ آپ کی گردن مبارک سرخ ہوگئی۔ اور اس نے کہا: اے محمد! مجھے دو اُونٹ دیں، کیوںکہ یہ دو اُونٹ نہ تو آپ اپنے مال میں سے دیں گے اور نہ اپنے والد کے مال میں سے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: نہیں، میں تو اللہ سے مغفرت چاہتا ہوں۔ جب تک تم مجھے اس کا بدلہ نہیں دو گے میں تمہیں اُونٹ نہیں دوں گا۔ یہ بات حضور ﷺ نے تین مرتبہ فرمائی۔ (پھر حضور ﷺ نے اسے معاف فرما دیا، بلکہ اس کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ فرمایا) اور پھر ایک آدمی کو بلا کر کہا: اسے دو اُونٹ دے دو: ایک اونٹ جَو کا اور دوسرا کھجور کا۔1 حضرت نعمان بن مُقرِن ؓ فرماتے ہیں: ہم قبیلہ مُزَینہ کے چار سو آدمی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضور ﷺ نے ہمیں اپنے دین کے احکام بتائے۔ (جب ہم حضور ﷺ سے فارغ ہو کر واپس جانے لگے تو) ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! راستہ کے لیے ہمارے پاس کھانے کی کوئی چیز نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت عمر ؓ سے فرمایا: انھیں راستہ کے لیے توشہ دے دو۔ حضرت عمر نے کہا: میرے پاس تو بس تھوڑی سی بچی ہوئی کھجوریں ہیں، میرے خیال میں تو وہ کھجوریں ان کی ضرورت کچھ بھی پوری نہ کرسکیں گی۔ حضور ﷺ نے فرمایا: جائو اور انھیں راستہ کے لیے تو شہ دے دو۔ چناںچہ حضرت عمر ہمیں ایک بالاخانے میں لے گئے ۔ وہاں ایک خاکستری جوان اُونٹ جتنی کھجوریںرکھی ہوئی تھیں۔ (یعنی بیٹھے ہوئے ایک اُونٹ جتنا اونچا کھجوروں کا ایک ڈھیر تھا) حضرت عمر نے کہا: آپ لوگ یہ کھجوریں لے لیں۔ ہمارے تمام قافلہ والوں نے اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں لے لیں اور میں سب سے آخر میں لینے گیا۔ میں نے دیکھا تو نظر آیا کہ (کھجوریں شروع میں جتنی تھیں اب بھی اتنی ہی ہیں) ان میں سے ایک کھجور بھی کم نہ ہوئی تھی، حالاںکہ اس ڈھیر میں سے چار سو آدمی کھجوریں لے چکے تھے۔ (یہ حضور ﷺ کے فرمان کی برکت تھی) 2 حضرت دُکَیْن بن سعید ؓ فرماتے ہیں: ہم چار سو چالیس آدمی حضور ﷺ کے پاس (سفر کے لیے) کھانے کی کوئی چیز مانگنے گئے۔ حضور ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو فرمایا: جائو اور انھیں سفر کے لیے کچھ دو۔ حضرت عمر نے کہا: میرے پاس تو صرف اتنا ہے جس سے میرے اور میرے بچوں کے گرمی کے چار مہینے گزر سکیں (اس سے ان کا کام نہیں چل سکے گا)۔ حضور ﷺ نے فرمایا: نہیں، جائو اور جو ہے وہ انھیں دے دو۔ حضرت عمر نے کہا: یا رسول اللہ! بہت اچھا جیسے آپ فرمائیں، میں تو آپ کی ہر بات سنوں گا اور مانوں گا۔ چناںچہ حضرت عمر وہاں سے کھڑے ہوئے اور ہم بھی ان کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ حضرت عمر ہمیں اوپر اپنے ایک بالاخانے میں لے گئے اور اپنے نیفہ میں سے چابی نکال کر بالاخانے کا دروازہ کھولا تو بالاخانے میں بیٹھے ہوئے اُونٹ کے بچے کے برابر کھجوروں کا ایک ڈھیر تھا۔ حضرت عمر نے کہا: آپ لوگ اس میں سے جتنا چاہیں لے لیں۔ چناںچہ ہم میں سے ہر آدمی نے اپنی ضرورت کے لیے کھجوریں اپنی مرضی کے مطابق لیں۔ میں سب سے آخر میں لینے گیا تو میں نے دیکھا تو ایسے لگ رہا تھا جیسے ہم نے اس ڈھیر میں سے ایک بھی کھجور نہ لی ہو۔1 حضرت دُکَیْن ؓ فرماتے ہیں کہ ہم چارسو سوار حضور ﷺ کے پاس کھانے کی کوئی چیز مانگنے آئے۔ پھر آگے پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا اور اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا: میرے پاس تو صرف چند صاع کھجوریں ہیں جو شاید مجھے اور میرے اہل وعیال کو گرمیوں کے لیے کافی نہ ہوں۔ حضرت ابو بکر ؓ نے کہا: ارے! حضور ﷺ کی بات سنو اور مانو۔ حضرت عمر نے کہا: اچھا، میں حضور ﷺ کی بات سنتا اور مانتا ہوں۔2 حضرت اَفلح بن کثیر ؓ کہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عمر ؓ کسی بھی مانگنے والے کو واپس نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ کوڑھی آدمی بھی ان کے ساتھ ان کے پیالہ میں کھانا کھاتا اور اس کی انگلیوں میںسے خون ٹپک رہا ہوتا تھا۔3