صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا
صحابۂ کرام ؓ کا ہدیہ دینا
حضرت ابو مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضور ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے۔ لوگوں کو (سخت بھوک کی) مشقّت اُٹھانی پڑی (جس کی وجہ سے) میں نے مسلمانوں کے چہروں پر غم اور پریشانی کے آثار اور منافقوں کے چہروں پر خوشی کے آثار دیکھے۔ جب حضور ﷺ نے بھی یہ بات دیکھی تو آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! سورج غروب ہونے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے لیے رزق بھیج دیں گے۔ جب حضرت عثمان ؓ نے یہ سنا تو انھیں یقین ہوگیا کہ اللہ اور رسول ﷺ کی بات ضرور پوری ہوگی۔ چناںچہ حضرت عثمان نے چودہ اُونٹنیاں کھانے کے سامان سے لدی ہوئی خریدیں اور ان میں سے نو اُونٹنیاں حضور ﷺ کی خدمت میں بھیج دیں۔ جب حضور ﷺ نے یہ اُونٹنیاں دیکھیں تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ عرض کیا گیا: یہ حضرت عثمان نے آپ کو ہدیہ میں بھیجی ہیں۔ اس پر حضور ﷺ اتنے زیادہ خوش ہوئے کہ خوشی کے آثار آپ کے چہرے پر محسوس ہونے لگے، اور منافقوں کے چہروں پر غم اور پریشانی کے آثار ظاہر ہونے لگے۔ میں نے حضور ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے دعا کے لیے ہاتھ اتنے اوپر اٹھائے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی اور حضرت عثمان کے لیے ایسی زبردست دعا کہ کہ میں نے حضور ﷺ کو نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد کسی کے لیے ایسی دعا کرتے ہوئے سنا: اے اللہ! عثمان کو (یہ اور یہ) عطا فرما اور عثمان کے ساتھ (ایسا اور ایسا) معاملہ فرما۔2
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں ایک مہینہ یا ایک ہفتہ یا جتنا اللہ چاہیں اس وقت تک مسلمانوں کے کسی ایک گھرانہ کی ضروریات زندگی پوری کروں، یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں حج پر حج کروں، اور ایک دانق (یعنی درہم کے چھٹے حصے) کا طَباق (خرید کر) اللہ کی نسبت پر تعلق رکھنے والے اپنے بھائی کو ہدیہ کر دوں، یہ مجھے ایک دینار اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ (حالاںکہ ایک دینار ایک دانق سے بہت زیادہ ہوتاہے) 1