صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا
حضرت عمر بن خطّابؓ کا کھانا کھلانا
حضرت اسلم ؓ کہتے ہیں: میں نے حضرت عمر ؓ سے کہا: سواری اور مال برداری کے اونٹوں میں ایک اندھی اونٹنی ہے۔ حضرت عمر نے کہا: وہ اونٹنی کسی کو دے دو، وہ اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔ میں نے کہا: وہ تو اندھی ہے۔ حضرت عمر نے کہا: وہ اسے اونٹوں کی قطار میں باندھ لیں گے (ان کے ساتھ پھرتی رہے گی)۔ میں نے کہا: وہ زمین سے (گھاس وغیرہ) کیسے کھائے گی؟ حضرت عمر نے پوچھا: وہ جزیہ کے جانوروں میں سے ہے یا صدقہ کے؟ (یہ اس وجہ سے پوچھا کہ جزیہ کا جانور مال دار اور فقیر دونوں کھا سکتے ہیں، اور صدقہ کا جانور صرف فقیر ہی کھا سکتا ہے) میں نے کہا: نہیں، وہ تو جزیہ کے جانوروں میں سے ہے۔ حضرت عمر نے کہا: اللہ کی قسم! آپ لوگوں نے تو اسے کھانے کا ارادہ کر رکھا ہے۔ میں نے کہا: (میں ویسے نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ) اس پر جزیہ کے جانوروں کی نشانی لگی ہوئی ہے۔ اس پر حضرت عمر نے اسے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ چناںچہ اسے ذبح کیا گیا۔ حضرت عمر کے پاس نو چوڑے پیالے تھے۔ (حضور ﷺ کی ازواجِ مطہّرات چوںکہ نو تھیں اس وجہ سے ان کی تعداد کے مطابق پیالے بھی نو بنا رکھے تھے تاکہ ان سب کو چیز ہدیہ میں بھیجی جاسکے) جب بھی حضرت عمرکے پاس کوئی پھل یا کوئی نادر اور پسندیدہ میوہ آتا تو اسے ان پیالوں میں ڈال کر حضور ﷺ کی ازواجِ مطہّرات کے پاس بھیج دیتے اور اپنی بیٹی حضرت حفصہ ؓ کے پاس سب سے آخر میں بھیجتے تاکہ اگر کمی آئے تو حضرت حفصہکے حصہ میں آئے۔ چناںچہ حضرت عمر نے اس اونٹنی کا گوشت ان پیالوں میں ڈالا اور پھر حضور ﷺ کی ازواجِ مطہّرات کے پاس بھیج دیا اور اونٹنی کا جو گوشت بچ گیا اسے پکانے کا حکم دیا۔ جب وہ پک گیا تو حضرات مہاجرین واَنصار کو بلا کر انھیں کھلا دیا۔1