صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا

حضرت عمر فاروق ؓ کا مال تقسیم کرنا اور پرانوں اور حضور ﷺ کے رشتہ داروں کو زیادہ دینا

حضرت غفرہ ؓ کے آزاد کردہ غلام حضرت عمر ؓ پچھلی حدیث جیسا مضمون بیان کرتے ہیں اور اس میں مزید یہ بھی ہے کہ جب حضرت ابو بکر ؓ کا انتقال ہوگیا تو حضرت عمر ؓ کو خلیفہ بنایا گیا اور اللہ نے ان کے لیے فتوحات کے بڑے دروازے کھولے اور ان کے پاس حضرت ابو بکر کے زمانہ سے بھی زیادہ مال آیا۔ توحضرت عمر نے فرمایا: اس مال کی تقسیم میں حضرت ابو بکر کی اور رائے تھی اور میری رائے اور ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جس نے (حالتِ کفر میں) حضور ﷺ سے جنگ کی اور جس نے حضور ﷺ کا ساتھ دے کر (کافروں سے) جنگ کی ان دونوں کو میں برابر نہیں کر سکتا۔ چناںچہ انھوں نے حضراتِ مہاجرین واَنصار کو دوسروں سے زیادہ دینے کا فیصلہ کیا۔ اور جو صحابہؓ جنگِ بدر میں شریک ہوئے تھے ان کے لیے پانچ پانچ ہزار مقرر کیے اور جو بدر سے پہلے اسلام لائے (لیکن جنگِ بدر میں شریک نہیں ہوسکے) ان کے لیے چار چار ہزار مقرر کیے۔ اور حضرت صفیہ اور حضرت جویر یہ ؓ کے علاوہ باقی تمام اَزواجِ مطہّرات کے لیے بارہ بارہ ہزار مقرر کیے، اور ان دونوں کے لیے چھ چھ ہزار مقرر کیے (کیوں کہ باقی تمام ازواجِ مطہّرات ؓ تو ہمیشہ آزاد ہی رہیں کبھی باندی نہ بننا پڑا اور ان دونوں کو کچھ تھوڑے عرصے کے لیے باندی بننا پڑا تھا)۔ ان دونوں نے چھ چھ ہزار لینے سے انکار کر دیا تو حضرت عمر نے فرمایا: میں نے باقی ازواجِ مطہّرات کے لیے بارہ بارہ ہزار اس لیے مقرر کیے ہیںکہ ان سب نے ہجرت کی ہے (اور آپ دونوں نے نہیں کی ہے)۔ ان دونوں نے کہا: نہیں۔ آپ نے ان کے لیے ہجرت کی وجہ سے مقرر نہیں کیے ہیں، بلکہ ان کے حضور ﷺ سے تعلق کی وجہ سے اتنے مقرر کیے ہیں اور ہمارا بھی حضور ﷺ سے ان جیسا ہی تعلق ہے۔ حضر ت عمر نے ان دونوں کی بات کو منظور فر مالیا اور تمام اَزواجِ مطہّرات کو برابر کر دیا۔ (یعنی ان دونوں کے لیے بھی بارہ بارہ ہزار مقرر کر دیے) اور حضرت عبا س بن عبد المطلب ؓ کی حضور ﷺ سے خاص رشتہ دار ی تھی اس وجہ سے ان کے لیے بارہ ہزار مقرر کر دیے۔ حضرت اُسامہ بن زید ؓ کے لیے چار ہزار اور حضرت حسن وحضرت حسین ؓ کے لیے پانچ پانچ ہزار مقرر کیے۔ حضور ﷺ کے (نواسہ ہونے) کی رشتہ داری کی وجہ سے حضرت عمر نے ان دونوں کو ان کے والد (حضرت علی ؓ) کے برابر دیا۔ اور (اپنے بیٹے) حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کے لیے تین ہزار مقرر کیے۔ انھوں نے عرض کیا: ابا جان! آپ نے حضرت اُسامہ بن زید کے لیے چار ہزار مقرر کیے ہیں اور میرے لیے تین ہزار، حالاںکہ ان کے والد (حضرت زید بن حارثہ ؓ)کو ایسی کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے جو آپ کو حاصل نہ ہو، اور خود ان کو بھی ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جو مجھے حاصل نہ ہو (لہٰذا مجھے بھی ان کے برابر دیں)۔ حضرت عمر نے فرمایا: نہیں (اسے اور اس کے والد کو ایسی فضیلت حاصل ہے جو تجھے اور تیرے والد کو حاصل نہیں ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ) اس کے والد تمہارے والد سے زیادہ حضور ﷺ کے محبوب تھے اور وہ خود تم سے زیادہ حضور ﷺ کے محبوب تھے۔ اور جو مہاجرین جنگِ بدر میں شریک ہوئے تھے ان کے بیٹوں کے لیے دو دو ہزار مقرر کیے۔ حضرت عمر کے پاس سے حضرت عمر بن ابی سلمہ ؓ گزرے تو فرمایا: انھیں ایک ہزار اور دے دو۔ تو حضرت محمد بن عبد اللہ (بن جحش) ؓ نے عر ض کیا: آپ انھیں ہم سے زیادہ کیوں دینے لگے ہیں؟ جو فضیلت ہمارے والدوں کو حاصل ہے وہی ان کے والد کو حاصل ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا: میں نے ان کے لیے دو ہزار تو (ان کے والد) ابو سلمہ کی وجہ سے مقرر کیے ہیں اور مزید ایک ہزار اُن کو (ان کی والدہ) حضرت اُمّ سلمہ ؓ کی وجہ سے دینا چاہتا ہوں (کیوںکہ وہ بعد میں حضور ﷺ کی زوجۂ محترمہ بن گئی تھیں)۔ اگر حضرت اُمّ سلمہ جیسی تیری بھی ماں ہے تو تمھیں بھی ایک ہزار اور دے دوں گا۔ حضرت عثمان بن عبید اللہ بن عثمان ؓ کے لیے آٹھ سو مقرر کیے، یہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ کے بھائی ہیں۔ اور حضرت نضر بن انس ؓ کے لیے دو ہزار مقرر کیے، تو حضرت عمر سے حضرت طلحہ نے کہا کہ آپ کے پاس اسی جیسے (حضرت عثمان بن عبید اللہ) ابنِ عثمان آئے تو اس کے لیے آپ نے آ ٹھ سو مقرر کیے اور آپ کے پاس اَنصار کا ایک لڑکا یعنی حضرت نضر بن انس آیا اس کے لیے آپ نے دو ہزار مقرر کر دیے۔ حضرت عمر نے فرمایا: اس لڑکے یعنی حضرت نضر کے والد سے میری ملاقات جنگِ اُحُد کے دن ہوئی۔ انھوں نے مجھ سے حضور ﷺ کے بارے میں پوچھا۔ میں نے کہا: میرا تو خیال یہی ہے کہ حضور ﷺ کو (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ) شہیدکر دیا گیا ہے۔ یہ سنتے ہی انھوں نے اپنے بازو چڑھائے اور اپنی تلوار سو نت لی اور کہا کہ اگر حضور ﷺ کو شہید کر دیا گیا ہے تو کیا بات ہے اللہ تعالیٰ تو زندہ ہیں ، ان پر تو موت طاری نہیں ہو سکتی (اور ہم جو کچھ کر رہے تھے وہ اللہ کی وجہ سے کر رہے تھے)۔ یہ کہہ کر انھوں نے جنگ شروع کر دی یہاں تک کہ وہ شہید ہو گئے۔ اور یہ یعنی حضرت عثمان بن عبید اللہ کے والد حضرت عبید اللہ ؓ اس وقت بکر یاں چرا رہے تھے۔ تو تم چاہتے ہو کہ میں دونوں کو برابر کر دوں؟ حضرت عمر نے زندگی بھر اسی اصول پر عمل کیا۔ آگے اور مضمون ذکر کیا جس میں سے کچھ مضمون عنقریب آگے آئے گا۔1 حضرت انس بن مالک ؓ اور حضرت ابنِ مسیّب ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب ؓ نے مہاجر ین کو پانچ ہزار والوں میں اور انصار کو چار ہزار والوں میں لکھا۔ اور مہاجرین کے جو بیٹے جنگِ بدر میں شریک نہیں ہوسکے ان کو چار ہزار والوں میں لکھا۔ ان میں حضرت عمر بن ابی سلمہ بن عبد الاسد مخزومی، حضرت اُسامہ بن زید، حضرت محمد بن عبد اللہ بن جحش اَسَدی اور حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ بھی تھے۔ اس پرحضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ نے کہا: حضرت ابنِ عمر اِن میں سے نہیں ہیں اور ان کے یہ یہ فضائل ہیں۔ ( یہ ان سب سے پہلے اسلام لائے ہیں اوریہ ان سے افضل ہیں، لہٰذا ان کو ان سے زیادہ دیا جائے) حضرت ابنِ عمر نے کہا: اگر میرا حق بنتا ہے تو مجھے دیں ورنہ نہ دیں۔ حضرت عمر نے حضرت ابنِ عوف سے کہا: ابنِ عمر کو پانچ ہزار والوں میں لکھ دو اور مجھے چار ہزار والوں میں۔ اس پر حضرت عبد اللہ نے کہا: میرا مطلب یہ نہیں تھا۔ حضرت عمر نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں اور تم دونوں پانچ ہزار والوں میں اکٹھے نہیں ہوسکتے۔1 حضرت زید بن اسلم ؓ کہتے ہیں: جب حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے لوگوں کے لیے وظیفہ مقرر کیا تو حضرت عبد اللہ بن حنظلہ ؓ کے لیے دو ہزار وظیفہ مقرر کیا۔ پھر حضرت طلحہ ؓ اپنے بھتیجے کو حضرت عمر کے پاس لائے تو حضرت عمر نے اس کے لیے اس سے کم وظیفہ مقرر کیا۔ حضرت طلحہ نے کہا: اے امیر المؤ منین! آپ نے اس انصار ی کے لیے میرے بھتیجے سے زیادہ وظیفہ مقرر کیا ہے اور یوں اس انصار ی کو میرے بھتیجے پر فضیلت دے دی؟ (حالاںکہ میرا بھتیجا تو مہاجرین میں سے ہے) حضرت عمر نے فرما یا: ہاں،کیوںکہ میں نے اس انصاری کے والد (حضرت حنظلہ ؓ) کو دیکھا کہ وہ جنگِ اُحُدکے دن اپنی تلوار سے ہی اپنا بچاؤ کر رہے تھے اور تلوار دائیں بائیں، اوپر نیچے اس طرح تیزی سے ہلا رہے تھے جیسے اونٹ اپنی دم ہلاتا ہے (ان کے پاس بچاؤ کے لیے ڈھال بھی نہ تھی، تلوار سے ہی ڈھا ل کا کام لے رہے تھے)۔ 2 حضرت ناشرہ بن سمی یزنی ؓ کہتے ہیں: جابیہ کے دن میں نے حضرت عمر ؓ کو لوگوں میں یہ بیان کر تے ہوئے سنا کہ اللہ عزّ وجل نے مجھے اس مال کا خزانچی اور اسے تقسیم کرنے والا بنایا ہے، بلکہ اصل میں تو خود اللہ تعالیٰ ہی تقسیم فر مانے والے ہیں۔ (اب مال تقسیم کر نے میں میرے ذہن میں یہ ترتیب ہے کہ) میں حضور ﷺ کی ازواجِ مطہّرات سے تقسیم شروع کروں گا اور پھر ان کے بعد لوگوں میں جو زیادہ بزرگ ہیں ان کو دوں گا۔ چناںچہ حضرت عمر نے حضرت جویریہ ،حضرت صفیہ اور حضرت میمونہ ؓ کے علاوہ باقی تمام ازواجِ مطہّرات کے لیے دس دس ہزار مقرر کیے۔ اس پر حضرت عائشہ ؓ نے کہا: حضور ﷺ ہم ازواجِ مطہّرات کے درمیان ہر چیزمیں برابر ی کیا کرتے تھے۔ چناںچہ حضرت عمر نے تمام ازواجِ مطہّرات کا وظیفہ ایک جیسا کر دیا۔ پھر فرمایا کہ ان کے بعد میں اپنے مہاجرینِ اوّلین ساتھیوںکو دوں گا کیوں کہ ہمیں اپنے گھروں سے ظلماًاور زبردستی نکالا گیا۔ پھر ان کے بعد جو زیادہ بزرگ ہوں گے ان کو دوں گا۔ چناںچہ مہاجرین میں سے جو جنگِ بدر میں شریک ہوئے ان کے لیے پانچ ہزار مقرر کیے، اور جو انصار ی جنگِ بدر میں شریک ہوئے ان کے لیے چار ہزار مقرر کیے۔ اور جنگِ اُحُد میں شریک ہو نے والوں کے لیے تین ہزار مقرر کیے اور فرمایا: جس نے پہلے ہجرت کی اسے پہلے دوں گا اور جس نے بعد میں ہجرت کی اسے بعد میں دوںگا، (لہٰذا جسے بعد میں ملے وہ دینے والے کو ملامت نہ کرے بلکہ) اپنے آپ کو اس بات پر ملامت کر ے کہ اس نے اپنی سواری کیوں بٹھائے رکھی (اور جلدی ہجرت کیوں نہیں کی)۔ اور میں تمھیں حضرت خالد بن ولید ؓ کو معزول کر نے کے اسباب بتانا چاہتا ہوں۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ وہ مال صرف کمزور مہاجرین کو دیں لیکن انھوں نے طاقت ور، باحیثیت اور زیادہ باتیں کر نے والوں کو سارا مال دے دیا، اس لیے میں نے انھیں ہٹا کر ان کی جگہ حضرت ابو عبیدہ ؓ کو امیر بنا دیا ہے۔ اس پر حضرت ابو عمرو بن حفص ؓ نے کہا: اللہ کی قسم! اے عمر بن خطّاب! آپ نے معزول کر نے کا جو سبب بتایا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے۔ آپ نے اس شخص کو معزول کیا ہے جسے حضور ﷺ نے امیر بنایا تھا اور آپ نے اس تلوار کو نیام میں رکھ دیا جسے حضورﷺ نے سونتا تھا اور آپ نے وہ جھنڈا اتار دیا جسے حضورﷺ نے گاڑا تھا اور آپ کے دل میں چچا زاد بھائی سے حسد پیدا ہوگیا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا: تمہاری ان سے قریبی رشتہ داری ہے اور ابھی تم نو عمر ہو، ا ور اپنے چچازاد بھائی کی خاطر ناراض ہو رہے ہو۔1