صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا
مال کی تقسیم میں حضرت عمر ؓ کا حضرت ابو بکر اور حضرت علی ؓ کی رائے کی طرف رجوع کر نا
حضرت غفرہ ؓ کے آزاد کردہ غلام حضرت عمر بن عبد اللہ ؓکہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر ؓ کے پاس بحرین سے مال آیا۔ پھر آگے لمبی حدیث بیان کی جیسے کہ پہلے گزر چکی ہے۔ اس میںیہ مضمون بھی ہے کہ جمعہ کے دن حضرت عمر ؓ باہر تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا: مجھے پتہ چلا ہے کہ تم میں سے کسی نے یہ بات کہی ہے کہ جب حضرت عمر کا انتقال ہوجائے گا (یا یوں کہا: جب امیر المؤمنین کا انتقال ہوجائے گا) تو ہم فلاں کو کھڑا کر کے اس سے ایک دم اچانک بیعت ہوجائیںگے، آخر حضرت ابو بکر کی (بیعت) خلافت بھی تو اچانک ہی ہوئی تھی۔ ہاں، اللہ کی قسم! یہ ٹھیک ہے کہ حضرت ابو بکر ؓ کی (بیعتِ) خلافت اچانک ہی ہوئی تھی، لیکن اب ہمیں حضرت ابو بکر جیسا آدمی کہاں مل سکتا ہے جس کا احترام اور جس کی اِطاعت ہم اس طرح کرتے ہوںجس طرح ابو بکر کی کرتے تھے۔ اور حضرت ابوبکرکی رائے یہ تھی کہ مال تمام مسلمانوں میں برابر تقسیم کیا جائے اور میری رائے یہ تھی کہ دینی فضائل کے لحاظ سے مسلمانوں کو مال کم یا زیادہ دیا جا ئے۔ (اور میں نے اپنے زمانۂ خلافت میں اسی پرعمل کیا، لیکن اب) اگر میں اگلے سال تک زندہ رہا تو حضرت ابو بکر کی رائے پر عمل کروںگا (اور سب کو برابر مال دوں گا)، ان کی رائے میری رائے سے بہتر تھی۔ آگے اوربھی حدیث ذکر کی ہے۔1