صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا

حضرت عامر بن ربیعہ ؓ کا زمین واپس کرنا

حضرت زید بن اسلم ؓ کہتے ہیں: ایک عربی شخص حضرت عامر بن ربیعہ ؓ کا مہمان بنا۔ انھوں نے اس کی خوب خاطر تواضع کی اور اکرام کیا اور ان کے بارے میں حضورﷺ سے (سفارش کی) بات بھی کی۔ وہ آدمی (حضورﷺ کے پاس سے) حضرت عامر کے پاس آیا اور کہا: میں نے حضورﷺ سے ایک ایسی وادی بطور جاگیر مانگی تھی کہ پورے عرب میں اس سے اچھی وادی نہیں ہے۔ (حضورﷺ نے وہ مجھے عطا فرما دی ہے) اب میں چاہتا ہوں کہ اس وادی کا ایک ٹکڑا آپ کو دے دوں، جو آپ کی زندگی میں آپ کا ہو اور آپ کے بعد آپ کی اولاد کا۔ حضرت عامر نے کہا: مجھے تمہارے اس ٹکڑے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیوںکہ آج ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے جس نے ہمیں دنیا ہی بھلا دی ہے اور وہ سورت یہ ہے: {اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُھُمْ وَھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ مُّعْرِضُوْنَ o}2 ان (منکر) لوگوں سے ان کا (وقت) حساب نزدیک آپہنچا اور یہ (ابھی) غفلت (ہی) میں (پڑے ہیں اور اِعراض) کیے ہو ئے ہیں۔3