صحابہ کرام ؓ کا دنیا کی وسعت اور کثرت سے ڈرنا

حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ کا دنیا کی وسعت سے ڈرنا اور رونا

حضرت ابراہیم ؓ کہتے ہیں: حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ (روزہ کھولنے کے لیے) ان کے پاس کھانا لایا گیا تو اسے دیکھ کر فرمایا: حضرت مصعب بن عمیرؓ مجھ سے بہتر تھے۔ انھیں شہید کیا گیا، اور پھر انھیں ایسی چادر میں کفن دیا گیا جو اتنی چھوٹی تھی کہ اگر اُن کا سر ڈھک دیا جاتا تو ان کے پیر کھل جاتے اور اگر پیر ڈھکے جاتے تو ان کا سر کھل جاتا۔ اور حضرت حمزہ ؓ مجھ سے بہتر تھے، ان کو بھی شہید کیا گیا۔ پھر دنیا کی ہم پر بہت وسعت ہوگئی اور ہمیں اللہ کی طرف سے دنیا بہت زیادہ دی گئی۔ اب ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہمیں ہماری نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی تو نہیں دے دیا گیا۔ پھر رونا شروع کر دیا جس کی وجہ سے وہ کھانا نہ کھا سکے۔1 حضرت نوفل بن اِیاس ہُذَلی ؓ کہتے ہیں: حضرت عبد الرحمن ؓ ہمارے ہم مجلس تھے اور بڑے اچھے ہم مجلس تھے۔ ایک دن ہمیں اپنے گھر لے گئے، ہم ان کے گھر میں داخل ہوگئے۔ پھر وہ اندر گئے اور غسل کر کے باہر آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھ گئے۔ پھر اندر سے ایک پیالہ آیا جس میں روٹی اور گوشت تھا۔ جب وہ پیالہ سامنے رکھا گیا تو حضرت عبد الرحمن بن عوف رو پڑے۔ ہم لوگوں نے ان سے کہا: اے ابو محمد! (یہ حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓکی کنیت ہے) آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انھوں نے کہا: حضورﷺ دنیا سے اس حال میں تشریف لے گئے کہ آپ نے اور آپ کے گھر والوں نے کبھی جَو کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھا ئی، اس لیے میرے خیال میں یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ نے ہمیں جو دنیا میں زندہ رکھا ہے اور دنیا کی وسعت ہمیں عطا فرمائی ہے، ہماری یہ حالت حضورﷺ کی حالت سے بہتر ہو اور ہمارے لیے اس میں خیر زیادہ ہو۔2 حضرت اُمّ سلمہ ؓ فرماتی ہیں: حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ میرے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اے اماں جان! مجھے ڈر ہے کہ میرا مال مجھے ہلاک کر دے گا، کیوںکہ میں قریش میں سب سے زیادہ مال دار ہوں۔ میں نے کہا: اے میرے بیٹے! تم (اپنا مال دوسروں پر) خوب خرچ کرو، کیوںکہ میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: میرے بعض ساتھی ایسے ہیں جو جدا ہونے کے بعد مجھے دیکھ نہیں سکیں گے۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف وہاں سے چلے گئے اور ان کی حضرت عمر ؓسے ملاقات ہوئی تو انھوں نے حضرت عمر کو میری والی حدیث سنائی۔ حدیث سن کر حضرت عمر ؓ میرے پاس آئے اور فرمایا: میں خداکا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا میں ان میں سے ہوں؟ میں نے کہا: نہیں، آپ ان میں سے نہیں ہیں۔ اور آپ کے اس سوال کا تو میں نے جواب دے دیا، لیکن آیندہ آپ کے بعد کسی کو نہیں بتاؤں گی کہ وہ ان میں سے نہیں ہے۔1