صحابہ کرام ؓ کا دنیا کی وسعت اور کثرت سے ڈرنا
حضرت ابو ہاشم بن عتبہ بن ربیعہ قُرَشِیؓ کا ڈر
حضرت ابو وائل ؓ فرماتے ہیں: حضرت ابو ہاشم بن عتبہ ؓ بیمار تھے۔ حضرت معاویہ ؓ ان کی عیادت کرنے آئے تو دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں۔ تو ا ن سے پوچھا: اے ماموں جا ن! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا کسی درد نے آپ کو بے چین کر رکھا ہے؟ یا دنیا کے لا لچ میں رو رہے ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ با ت با لکل نہیں ہے، بلکہ میں اس وجہ سے رو رہا ہوں کہ حضور ﷺ نے ہمیں ایک وصیت فرمائی تھی ہم اس پر عمل نہیں کر سکے۔ حضر ت معا ویہ نے پوچھا: وہ کیا وصیت تھی؟ حضرت ابو ہاشم نے کہا: میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آدمی نے مال جمع کر نا ہی ہے تو ایک خادم اور جہاد فی سبیل اللہ کے لیے ایک سواری کافی ہے۔ اور میں دیکھ رہا ہوں کہ میں نے آج (اس سے زیادہ) مال جمع کر رکھا ہے۔
ابنِ ما جہ کی روایت میں یوں ہے کہ حضرت سَمُرہ بن سہم کی قوم کے ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو ہاشم بن عتبہؓ کا مہمان بنا تو اُن کے پاس حضرت معاویہ ؓ آئے۔ ’’ابنِ حَبَّان‘‘ کی روایت میں ہے کہ حضرت سَمُرہ بن سہم کہتے ہیں: میں حضرت ابو ہاشم بن عتبہؓ کا مہمان بنا تو وہ طاعون کی بیماری میں مبتلا تھے۔ پھر اُن کے پاس حضرت معاویہ آئے۔ اور ’’رزین‘‘ کی روایت میں یہ ہے کہ جب حضرت ابو ہاشم ؓ کا انتقال ہوگیا تو اُن کے ترکہ کا حساب کیا گیا تو اس کی قیمت تیس درہم بنی تھی۔ اور اس میں وہ پیالہ بھی شما ر کیا گیا جس میں وہ آٹا گوندھا کرتے تھے اور اسی میں وہ کھاتے تھے۔1