نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کا دنیا سے بے رغبتی اختیا ر کرنا

حضرت ابو عبیدہ بن جرّاح ؓ کا زہد

حضرت عروہ ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ حضرت ابو عبیدہ بن جرّاح ؓ کے ہاں گئے تو وہ کجاوے کی چادر پر لیٹے ہوئے تھے اور گھوڑے کو دانہ کھلانے والے تھیلے کو تکیہ بنایا ہوا تھا۔ ان سے حضرت عمر نے فرمایا: آپ کے ساتھیوں نے جو مکان اور سامان بنالیے وہ آپ نے کیوں نہیں بنالیے؟ انھوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! قبر تک پہنچنے کے لیے یہ سامان بھی کافی ہے۔ اور حضرت معمر راوی کی حدیث میں یہ ہے کہ جب حضرت عمر ؓ ملکِ شام تشریف لے گئے تو لوگوں نے اور وہاں کے سرداروں نے حضرت عمر کا استقبال کیا۔ حضرت عمر نے فرمایا: میرا بھائی کہاں ہے؟ لوگوں نے پوچھا: وہ کون ہے؟ انھوں نے فرمایا: حضرت ابو عبیدہ۔ لوگوں نے کہا: وہ ابھی آپ کے پاس آجائیں گے۔ چناںچہ جب حضرت ابو عبیدہ ؓ آئے تو سواری سے نیچے اتر کر حضرت عمر نے انھیں گلے لگایا۔ پھر ان کے گھر تشریف لے گئے اور انھیں گھر میں صرف یہ چیزیں نظر آئیں: ایک تلوار، ایک ڈھال اورایک کجاوہ۔ پھر پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا۔1