صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا

مسلمان کی غیبت کرنا

حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں: حضرت (ماعز بن مالک) اسلمی ؓ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے چار مرتبہ اپنے بارے میں اس بات کا اقرار کیا کہ انھوں نے ایک عورت سے حرام کا ارتکاب کیا ہے۔ ہر مرتبہ حضورﷺ دوسری طرف منہ پھیر لیتے تھے۔ پھر آگے حدیث کا مضمون اور بھی ہے جس میں یہ بھی ہے کہ حضورﷺ کے فرمان پر ان کو رجم کیا گیا۔ پھر حضورﷺ نے اپنے دو صحابہ کو سنا کہ ان میں سے ایک دوسرے کو کہہ رہا تھا: اس آدمی کو دیکھو، اللہ تعالیٰ نے تو اس کے جرم پر پردہ ڈالا تھا، لیکن یہ خود اپنے پیچھے پڑھ گیا جس کی وجہ سے اسے کتے کی طرح پتھر مار ے گئے۔ حضورﷺ یہ سن کر خاموش ہوگئے۔ پھر تھوڑی دیر چلنے کے بعد آپ کا گذر ایک مردار گدھے کے پاس سے ہوا جس کاپاؤں پھولنے کی وجہ سے اوپر اٹھا ہوا تھا۔ حضورﷺ نے فرمایا: فلاں اور فلاں دونوں کہاں ہیں؟ ان دونوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم دونوں یہ ہیں۔ آپ نے فرمایا: تم دونوں نیچے اترو اور اس مردار گدھے کا گوشت کھاؤ۔ ان دونوں نے کہا: یا نبی اللہ! اللہ آپ کی مغفرت فرمائے، اس کو کون کھا سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ابھی تم دونوں نے اپنے بھائی کی (پیٹھ پیچھے) بے عزتی کی ہے وہ مردار کھانے سے زیادہ سخت ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! وہ اس وقت جنت کی نہروں میں غوطے لگا رہا ہے۔1 حضرت ابنِ مُنکدِر ؓ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے ایک عورت کو رجم کیا جس کے بارے میں ایک مسلمان نے کہا: اس عورت کے تمام نیک اعمال ضائع ہوگئے۔ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں ، بلکہ اس رجم نے تو اس کے برے کو مٹا دیا اور تم نے جو (اس کی غیبت کا برا) عمل کیا ہے اس کا تم سے حساب لیا جائے گا۔2 حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: میں نے حضورﷺ کو کہا: حضرت صفیہ ؓ کی طرف سے آپ کے لیے اتنی بات کافی ہے کہ وہ ایسی اور ایسی ہے یعنی چھوٹے قد والی ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر اسے سمند ر کے پانی میں ملایا جائے تو یہ بات اس کے پانی کا مزا خراب کر دے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: میں نے ایک مرتبہ حضورﷺ کے سامنے کسی آدمی کی نقل اتار دی۔ حضورﷺ نے فرمایا: مجھے یہ بات بالکل پسند نہیں ہے کہ مجھے اتنا اور اتنا مال مل جائے اور تم میرے سامنے کسی انسان کی نقل اتارو۔3 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: حضرت صفیّہ بنتِ حُییؓ کا اُونٹ بیمار ہوگیا۔ حضرت زینب ؓ کے پاس زائد اونٹ تھا۔ حضورﷺ نے حضرت زینب سے کہا: تم صفیہ کو ایک اونٹ دے دو۔ حضرت زینب نے کہا: میں اور اس یہودن عورت کو اونٹ دوں؟ حضورﷺ یہ سن کر ان سے ناراض ہوگئے اور ذو الحجہ، محرّم اور صفر کے چند دن تک حضرت زینب کو حضورﷺ نے چھوڑے رکھا ( ان کے ہاں نہ جاتے تھے) یہاں تک کہ وہ حضورﷺ سے مایوس ہوگئی تھیں۔1 حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: میں ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔ میں نے ایک عورت کے بارے میں کہا کہ یہ تو لمبے دامن والی ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: تھوکو، تھوکو (جو کچھ منہ میں ہے اسے باہر تھوک دو)۔ چناںچہ میں نے تھوکا توگوشت کا ایک ٹکڑا نکلا۔2 حضرت زید بن اسلم ؓ فرماتے ہیں: مرض الوفات میں حضورﷺ کی ازواجِ مطہّرات حضور ﷺ کے پاس جمع ہوئیں۔ حضرت صفیہ بنتِ حُیی ؓ نے کہا: اللہ کی قسم! میری دلی تمنا ہے کہ آپ کو جو بیماری ہے وہ مجھے ہوتی۔ اس پر دوسری ازواجِ مطہّرات نے (ان کی اس با ت کو سچا نہ سمجھا اور اس وجہ سے انھوں نے) آنکھوں سے اشارہ کیا جسے حضورﷺ نے دیکھ لیا۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا: تم سب کلّی کرو۔ انھوں نے کہا: یا نبی اللہ! کس چیز سے کلی کریں؟ آپ نے فرمایا: تم نے ابھی جو اپنی سوکن (حضرت صفیہ) کے بارے میں ایک دوسری کو آنکھ سے اشارہ کیا ہے اس کی وجہ سے (تم نے مردار گوشت کھا لیا ہے اس لیے) کلی کرو۔ اللہ کی قسم! یہ اپنی بات میں بالکل سچی ہے۔3 حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں: ہم لوگ حضورﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک آدمی کھڑا ہوا (اور چلا گیا)۔ صحابہ نے کہا: یہ آدمی کس قدر عاجز ہے! کس قدر کمزور ہے! حضورﷺ نے فرمایا: تم نے اپنے ساتھی کی غیبت کی اور اس کا گوشت کھایا ہے۔ ’’طبرانی‘‘ کی روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ کے پاس سے ایک آدمی کھڑا ہوا۔ لوگوں کو اس کے کھڑے ہونے میں کمزوری نظر آئی تو انھوں نے کہا: فلاں آدمی کس قدر کمزور ہے! حضور ﷺ نے فرمایا: تم نے اپنے بھائی کی غیبت کر کے اس کا گوشت کھا لیا ہے۔1 حضرت معاذ بن جبل ؓ نے پچھلی حدیث جیسی حدیث روایت کی ہے اور اس میں مزید یہ مضمون بھی ہے۔ لوگوں نے عرض کیا: ہم نے وہی بات کہی ہے جو اس میں موجود ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: (تبھی تو یہ غیبت ہے) اگر تم وہ بات کہو جو اس میں نہ ہو پھر تو تم اس پر بہتان لگانے والے بن جاؤ گے۔2 حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ کے پاس لوگوں نے ایک آدمی کا تذکرہ کیا اور کہا: کوئی دوسرا اس کے کھانے کا انتظام کرے تو یہ کھاتا ہے، اور کوئی دوسرا اس کو سواری پر کجاوہ کَس کر دے تو پھر یہ اس پر سوار ہوتا ہے (یہ بہت سُست ہے اپنے کا م خود نہیں کر سکتا)۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم اس کی غیبت کر رہے ہو۔ ان لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم نے وہی بات کہی ہے جو اس میں موجود ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: غیبت ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ تم اپنے بھائی کا وہ عیب بیان کرو جو اس میں موجود ہے۔3 حضرت ابنِ مسعود ؓ فرماتے ہیں: ہم لوگ حضورﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی اٹھ کر چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد ایک آدمی اس کے عیب بیان کرنے لگ گیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: توبہ کرو۔ اس آدمی نے کہا: کس چیز سے توبہ کروں؟ حضورﷺ نے فرمایا: (غیبت کر کے) تم نے اپنے بھائی کا گوشت کھایا ہے۔4 ہیثمی ؓ کی روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے اس آدمی سے کہا: تم خلال کرو۔ اس آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! میں کس وجہ سے خلال کروں؟ میں نے گوشت تو کھایا نہیں۔1 حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا: مجھ سے اجازت لیے بغیر کوئی بھی روزہ نہ کھولے۔ چناںچہ تمام لوگوں نے روزہ رکھ لیا۔ شام کو لوگ آکر روزہ کھولنے کی اجازت مانگنے لگے۔ آدمی آکر اجازت مانگتا اور کہتا: یا رسول اللہ! میں نے آج سارا دن روزہ رکھا آپ اب مجھے اجازت دے دیں تاکہ میں روزہ کھول لوں۔ اتنے میں ایک آدمی نے آکر کہا: یا رسول اللہ! آپ کے گھر کی دو نوجوان عورتوں نے آج سار ا دن روزہ رکھا اور ان دونوں کو خود آکر آپ سے اجازت لینے سے شرم آرہی ہے، آپ انھیں بھی اجازت دے دیں تاکہ وہ بھی روزہ کھول لیں۔ آپ نے اس آدمی سے منہ پھیر لیا۔ اس نے سامنے آکر پھراپنی بات پیش کی، حضورﷺ نے پھر منہ پھیر لیا۔ اس نے تیسری مرتبہ اپنی بات پیش کی، حضورﷺ نے پھر منہ پھیر لیا۔ اس نے چوتھی مرتبہ بات پیش کی تو اس سے منہ پھیر کر حضورﷺ نے فرمایا: ان دونوں نے روزہ نہیں رکھا۔ اور اس آدمی کا روزہ کیسے ہو سکتا ہے جو سارا دن لوگوں کا گوشت کھاتا رہا ہو؟ جاؤ اور دونوں سے کہو کہ اگر ان دونوں کا روزہ ہے تو وہ قے کریں ۔ اس آدمی نے جاکر ان دونوں عورتوں کو حضورﷺ کی بات بتائی، تو ان دونوں نے قے کی تو واقعی ہر ایک کی قے میں خون کا جما ہوا ٹکڑا نکلا۔ اس آدمی نے آکر حضورﷺ کو بتایا۔ حضورﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر خون کے یہ ٹکڑے ان کے پیٹ میں رہ جاتے تو دونوں کو آگ کھاتی۔2 امام احمد ؓ کی روایت میں اس طرح ہے کہ حضورﷺ نے ان دونوں عورتوں میں سے ایک سے فرمایا: قے کرو۔ اس نے قے کی تو پیپ، خون، خون ملی پیپ اور گوشت نکلا جس سے آدھا پیالہ بھر گیا۔ پھر آپ نے دوسری سے فرمایا: تم قے کرو۔ اس نے قے کی تو پیپ، خون، خون ملی پیپ اور تازہ گوشت نکلا جس سے پورا پیالہ بھر گیا۔ پھر آپ نے فرمایا: ان دونوں نے روزہ تو ان چیزوں سے رکھا تھا جو اللہ نے ان کے لیے حلال کی تھیں، لیکن اس چیز سے کھول لیا جو اللہ نے ان پر حرام کی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کے پاس بیٹھ کر لوگوں کے گوشت کھانے لگ گئی تھیں۔1 حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں: عرب کے لوگ سفروں میں ایک دوسرے کی خدمت کیا کرتے ہیں۔ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کے ساتھ ایک آدمی ہوا کرتا تھا جو اِن دونوں کی خدمت کیا کرتا تھا۔ ایک دفعہ یہ دونوں سو گئے (اور اس کے ذمہ کھانا پکانا تھا وہ بھی سو گیا)۔ جب یہ دونوں اٹھے تو دیکھا کہ وہ کھانا تیار نہیں کر سکا (بلکہ سو رہا ہے)۔ تو ان دونوں حضرات نے کہا کہ یہ تو سوؤ ہے۔ ان حضرات نے اسے جگا کر کہا: حضورﷺ کی خدمت میں جا کر عرض کرو کہ ابو بکر و عمر آپ کی خدمت میں سلام عرض کر رہے ہیں اور آپ سے سالن مانگ رہے ہیں۔ (اس نے جا کر حضورﷺ کی خدمت میں عرض کیا) حضورﷺ نے فرمایا: وہ دونوں تو سالن سے روٹی کھا چکے ہیں۔ (اس نے جا کر ان دونوں حضرات کو حضورﷺ کا جواب بتایا، اس پر) ان دونوں حضرات نے آ کر عرض کیا: یارسول اللہ! ہم نے کون سے سالن سے روٹی کھائی ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کے گوشت سے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! میں اس کا گوشت تم دونوں کے سامنے والے دانتوں میں دیکھ رہا ہوں۔ ان دونوں حضرات نے عر ض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے لیے استغفار فرما دیجیے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اس سے کہو وہ تم دونوں کے لیے استغفار کرے۔2