صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا

مسلمان کی ضرورت کے لیے کھڑا ہونا

حضرت ابو یزید ؓکہتے ہیں کہ حضرت خولہ ؓ لوگوں کے ساتھ چلی جا رہی تھیں کہ ان سے حضرت عمر بن خطّاب ؓکی ملاقات ہوئی۔ انھوں نے حضرت عمر سے رکنے کو کہا، حضرت عمر رک گئے اور ان کے قریب آگئے اور ان کی طرف سر جھکا لیا اور اپنے دونوں ہاتھ ان کے کندھوں پر رکھ کر ان کی بات سننے لگے۔ (چوںکہ بہت بوڑھی تھیں اس لیے حضرت عمر نے انھیں سنبھالنے کے لیے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھے) اور یوں ہی کھڑے رہے یہاں تک کہ حضرت خولہ نے اپنی بات پوری کرلی اور واپس چلی گئیں۔ اس پر ایک آدمی نے حضرت عمر سے کہا: اے امیر المؤمنین! اس بڑھیا کی وجہ سے آپ نے قریش کے بڑ ے بڑے مردوں کو روکے رکھا؟ حضرت عمر نے فرمایا: تیرا ناس ہو! تو جانتا ہے کہ یہ عورت کون ہے؟ اس نے کہا: نہیں، میں نہیں جانتا۔ حضرت عمر نے فرمایا: یہ وہ عورت ہے جس کی شکایت اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے سنی تھی۔ یہ حضرت خولہ بنتِ ثعلبہ ہیں۔ اللہ کی قسم! اگر یہ رات تک میرے پاس سے نہ ہٹتیں تو میں بھی ان کی بات کے پورا ہونے تک یوں ہی کھڑا رہتا۔2 حضرت ثُمَامہ بن حَزن ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ اپنے گدھے پر چلے جا رہے تھے کہ انھیں ایک عورت ملی۔ اس عورت نے کہا: ٹھہریے اے عمر! حضرت عمر ٹھہر گئے۔ اس عورت نے حضرت عمر سے بڑی سختی سے بات کی۔اس پر ایک آدمی نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں نے آج جیسا منظر تو کبھی دیکھا نہیں۔ حضرت عمر نے کہا: میں س عورت کی بات کیوں نہ سنوں جب کہ یہ وہ عورت ہے جس کی بات کو اللہ تعالیٰ نے سنا۔ اور اسی عورت کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِھَا}1 بے شک اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے معاملہ میں جھگڑتی تھی۔2