صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا

بڑوں کو سردار بنانا

حضرت حکیم بن قیس بن عاصم ؓ کہتے ہیں کہ ان کے والد حضرت قیس بن عاصمؓ نے انتقال کے وقت اپنے بیٹوں کو یہ وصیت فرمائی: اللہ سے ڈرتے رہنا اور اپنے بڑے کو سردار بنانا، کیوںکہ جب کوئی قوم اپنے بڑے کو سردار بناتی ہے تو وہ اپنے آباء واجداد کی ٹھیک طرح جانشین بنتی ہے۔ اور جب وہ اپنے سب سے چھوٹے کو سردار بناتی ہے تو اس سے ان کا درجہ برابر والوں کی نگاہ میں کم ہو جاتا ہے۔ اپنے پاس مال رکھو اور اسے حاصل کرو، کیوںکہ مال سے کریم اور سخی آدمی کو شرافت ملتی ہے، اور اسی کے ذریعہ سے انسان کمینے اور کنجوس آدمی کا ضرورت مند نہیں رہتا۔ اور لوگوں سے کچھ نہ مانگنا، کیوںکہ یہ انسان کے لیے کمائی کا سب سے ادنیٰ اور گھٹیا ذریعہ ہے (جسے سخت مجبوری میں ہی اختیار کرنا چاہیے)۔ جب میں مر جاؤں تو مجھ پر نوحہ نہ کرنا، کیوںکہ حضورﷺ پر کسی نے نوحہ نہیں کیا تھا۔ اور جب میں مر جاؤں تو مجھے کسی ایسی جگہ دفن کرنا جس کا قبیلہ بنو بکر بن وائل کو پتا نہ چل سکے (تاکہ وہ میری قبر کے ساتھ نامناسب حرکت نہ کرسکیں)،کیوںکہ میں زمانۂ جاہلیت میں ان کو غافل دیکھ کر ان پر چھاپے مارا کرتا تھا۔2