صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا

اپنے بڑوں کی وجہ سے ناراض ہونا

حضرت شریح بن عبید ؓ کہتے ہیں: ایک آدمی نے حضرت ابو الدرداء ؓ سے کہا: اے قاری لوگو! (اے عُلَما کی جماعت!) تمھیں کیا ہوا تم ہم سے زیادہ بزدل ہو، اور جب تم سے کچھ مانگا جائے تو تم بہت زیادہ کنجوس بن جاتے ہو، اور جب تم کھاتے ہو تو سب سے بڑے لقمے لیتے ہو۔ حضرت ابو الدرداء نے اس سے اعراض فرما لیا اور اسے کوئی جواب نہ دیا۔ حضرت عمرؓ کو اس قصے کا پتا چلا تو انھوں نے حضرت ابو الدرداء سے اس کے بارے میں پوچھا تو حضرت ابو الدرداء نے کہا: اللہ اسے معاف فرمائے! کیا یہ ضروری ہے کہ ہم ان سے جو بات بھی سنیں ہر بات پر ان کی پکڑ کریں؟ جس آدمی نے حضرت ابو الدرداء کو یہ باتیں کہی تھیں حضرت عمر اس کے پاس گئے اور اس کا گریبان پکڑ کر اس کا گلا گھونٹا اور اسے کھینچ کر حضورﷺ کی خدمت میں لے آئے۔ اس آدمی نے کہا: ہم تو محض مشغلہ اور خوش طبعی کر رہے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ پر یہ آیت وحی میں بھیجی: {وَلَئِـنْ سَاَلْتَہُمْ لَیَقُـوْلُنَّ اِنَّـمَا کُـنَّا نَخُـوْضُ وَنَـلْعَبُ}1 اور اگر آپ ان سے پوچھیے تو کہہ دیں گے کہ ہم تو محض مشغلہ اور خوش طبعی کر رہے تھے۔2 حضرت جبیر بن نفیر ؓ کہتے ہیں: کچھ لوگوں نے حضرت عمر بن خطّابؓ سے کہا: اے امیر المؤمنین! ہم نے آپ سے زیادہ انصاف کا فیصلہ کرنے والا اور حق بات کہنے والا اور منافقوں پر آپ سے زیادہ سخت آدمی کوئی نہیں دیکھا، لہٰذا حضورﷺ کے بعد آپ تمام لوگوں سے زیادہ بہتر ہیں۔ حضرت عوف بن مالکؓ نے کہا: تم لوگ غلط کہہ رہے ہو، ہم نے وہ آدمی دیکھا ہے جو حضورﷺ کے بعد حضرت عمر سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ حضرت عمر نے پوچھا: اے عوف! وہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: حضرت ابوبکر۔ حضرت عمر نے فرمایا: عوف ٹھیک کہہ رہے ہیں تم سب غلط کہہ رہے ہو۔ اللہ کی قسم! حضرت ابو بکر مشک سے زیادہ پاکیزہ خوش بو والے تھے اور میں تو اپنے گھر والوں کے اُونٹ سے زیادہ بچلا ہوا ہوں۔3 حضرت حسن ؓکہتے ہیں: حضرت عمرؓ نے لوگوں میں اپنے جاسوس چھوڑ رکھے تھے۔ ایک مرتبہ انھوں نے آکر حضرت عمر کو بتایا کہ کچھ لوگ فلاں جگہ جمع ہیں اور وہ آپ کو حضرت ابوبکر ؓ سے افضل بتا رہے ہیں۔ حضرت عمر کو بہت غصہ آیا اور آدمی بھیج کر ان سب کو بلایا۔ جب وہ آگئے تو ان سے فرمایا: اے بدترین لوگو! اے قبیلے کے شریرو! اے پاک دامن عورت کو بگاڑنے والو! انھوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ ہمیں ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟ ہم سے کیا غلطی ہو گئی ہے؟ حضرت عمرؓ نے تین مرتبہ یوں ہی یہ سخت کلمات کہے پھر فرمایا: تم لوگوں نے مجھ میں اور حضرت ابو بکر صدیق میں کیوں فرق ڈالا؟ (اور مجھے ان سے بہتر کیوں بتایا؟) اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! میری دلی تمنا ہے کہ مجھے جنت میں ایسی جگہ ملے جہاں سے مجھے حضرت ابو بکر تاحدِّ نگاہ نظر آتے رہیں۔1 حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں: اس اُمت کے نبی کے بعد ان میں سب سے افضل حضرت ابوبکر ؓ ہے۔ لہٰذا جو بھی میری اس بات کے بعد کوئی اور بات کہے گا وہ بہتان باندھنے والا شمار ہوگا اور اسے بہتان باندھنے والے کی سزا ملے گی۔2 حضرت زِیاد بن علاقہ ؓ کہتے ہیں: حضرت عمرؓ نے دیکھا کہ ایک آدمی کہہ رہا ہے یہ (یعنی حضرت عمر) ہمارے نبیﷺ کے بعد اس اُمت میں سب سے بہترین ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمر اسے کوڑے سے مارنے لگے اور فرمانے لگے: یہ منحوس غلط کہہ رہا ہے، حضرت ابو بکر مجھ سے، میرے باپ سے، تجھ سے اور تیرے باپ سے بہتر ہیں۔3 حضرت ابو زَناد ؓ کہتے ہیں: ایک آدمی نے حضرت علیؓ سے کہا: اے امیر المؤمنین! کیا بات ہے کہ مہاجرین اور انصار نے حضرت ابو بکر کو آگے کر دیا، حالاںکہ آپ ان سے زیادہ فضائل والے اور ان سے پہلے اسلام لانے والے ہیں، اور آپ کو بڑی سبقت حاصل ہے؟ حضرت علی نے فرمایا: اگر تو قریش قبیلہ کا ہے تو میرے خیال میں تو قریش قبیلے کی شاخ عائذہ کا ہے۔ اس نے کہا: جی ہاں۔ حضرت علی نے فرمایا: اگر مؤمن اللہ کی پناہ میں نہ ہوتا تو میں تجھے ضرور قتل کر دیتا۔ اور اگر تو زندہ رہا تو تجھے اس طرح ڈراؤں گا کہ تجھے اس سے بچ نکلنے کا راستہ نہیں ملے گا۔ تیرا ناس ہو! حضرت ابو بکر کو چار صفات میں مجھ پر سبقت حاصل ہے: ایک یہ کہ انھیں حضورﷺ کی زندگی میں امام بنایا گیا۔ دوسری یہ کہ انھوں نے مجھ سے پہلے ہجرت کی۔ اور تیسری یہ کہ ہجرت کے موقع پر وہ حضورﷺ کے ساتھ غار میں تھے۔ اور چوتھی یہ کہ انھوں نے مجھ سے پہلے اسلام کو ظاہر فرمایا۔ تیرا ناس ہو! اللہ تعالیٰ نے قرآن میں تمام لوگوں کی مذمت کی ہے اور حضرت ابو بکر کی تعریف بیان کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {اِلَّا تَنْصُرُوْہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللّٰہُ}1 اگر تم لوگ رسول اللہ ﷺ کی مدد نہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ آپ کی مدد اس وقت کرچکا ہے جب کہ آپ کو کافروں نے جلا وطن کر دیا تھا، جب کہ دو آدمیوں میں ایک آپ تھے، جس وقت کہ دونوں غار میں تھے، جب کہ آپ اپنے ہمراہی سے فرما رہے تھے کہ تم (کچھ) غم نہ کرو یقینا اللہ تعالیٰ ہمارے ہمراہ ہے۔2 حضرت مغیرہ بن شعبہؓ فرماتے ہیں: میں حضرت ابو بکر صدیقؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ان کی خد مت میں ایک گھوڑا پیش کیا گیا۔ اس پر ایک آدمی نے کہا: یہ گھوڑا مجھے سواری کے لیے دے دیں۔ حضرت ابو بکر نے فرمایا: میں یہ گھوڑا ایسے لڑکے کو سواری کے لیے دے دوں جسے ناتجربہ کاری کے باوجود گھوڑوں پر سوار کیا گیا ہو، یہ مجھے تمھیں دینے سے زیادہ محبوب ہے۔ اس آدمی کو غصہ آگیا اور اس نے کہا: میں آپ سے بھی اور آپ کے باپ سے بھی زیادہ عمدہ گھوڑے سوار ہوں۔ جب اس آدمی نے حضورﷺ کے خلیفہ کی شان میں گستاخی کے یہ کلمات کہے تو مجھے غصہ آگیا، اور میں نے کھڑے ہو کر اس کا سر پکڑا اور ناک کے بل اسے گھسیٹا جس سے اس کی ناک سے ایسے خون بہنے لگ گیا کہ جیسے کسی بڑے مشکیزہ کا منہ کھل گیا ہو۔ (چوںکہ وہ انصاری تھا اس لیے) انصار نے مجھ سے اس کا بدلہ لینا چاہا۔ حضرت ابو بکر کو جب اس کا پتا چلا تو فرمایا: یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ میں انھیںحضرت مغیرہ بن شعبہ سے بدلہ دلواؤں گا۔ میں انھیں ان کے گھروں سے نکال دوں یہ مجھے اس سے زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ میں انھیں ایسے لوگوں سے بدلہ دلواؤں جو اللہ کے لیے اللہ کے بندوں کو برائیوں سے روکتے ہیں۔3 حضرت ابو وائل ؓکہتے ہیں: حضرت ابنِ مسعودؓ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے اپنی لنگی ٹخنے سے نیچے لٹکا رکھی ہے تو اس سے فرمایا: اپنی لنگی اوپرکرلو۔ (حضرت ابنِ مسعود کی لنگی بھی نیچی تھی) اس آدمی نے کہا: اے ابنِ مسعود! آپ بھی اپنی لنگی اوپر کرلیں۔ حضرت عبد اللہ (ابنِ مسعود) نے اس سے فرمایا: میں تمہارے جیسا نہیں ہوں، میری پنڈلیاں پتلی ہیں اور میں لوگوں کا امام بنتا ہوں (میں لنگی نیچے کر کے لوگوں سے اپنی پنڈلیاں چھپاتا ہوں تاکہ ان کے دل میں مجھ سے نفرت پیدا نہ ہو)۔ کسی طرح سے یہ بات حضرت عمرؓ تک پہنچ گئی تو حضرت عمر اس آدمی کو مارنے لگے اور فرمانے لگے: کیا تم ابنِ مسعود کی بات کا جواب دیتے ہو؟1 حضرت علاء ؓ اپنے اساتذہ سے یہ قصہ نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ مدینہ میں حضرت ابنِ مسعودؓ کے گھر پر کھڑے ہوئے اس گھر کی عمار ت کو دیکھ رہے تھے۔ ایک قریشی آدمی نے کہا: اے امیر المؤمنین! یہ کام آ پ کے علاوہ کوئی اور کرلے گا۔ حضرت عمر نے ایک اینٹ لے کر اسے ماری اور فرمایا: کیا تم مجھے حضرت عبد اللہ سے متنفر کرنا چاہتے ہو؟2 حضرت ابو وائل ؓ کہتے ہیں: ایک آدمی کا حضرت اُمّ سلمہؓ پر کوئی حق تھا۔ اس نے حضرت اُمّ سلمہ کی مخالفت پر قسم کھالی، تو حضرت عمرؓ نے اسے ایسے تیس کوڑے لگوائے کہ اس کی کھال پھٹ گئی اور سوج گئی۔3 حضرت اُمّ موسیٰ ؓ فرماتی ہیں: حضرت علیؓ کو یہ خبر ملی کہ ابنِ سبا انھیں حضر ت ابو بکر وحضرت عمرؓ سے افضل قرار دیتا ہے، تو حضرت علی نے اسے قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ تو لوگوں نے ان سے کہا:کیا آپ ایسے آدمی کو قتل کرنا چاہتے ہیں جو آپ کی تعظیم کرتا ہے اور آپ کو دوسروں سے افضل قرار دیتا ہے؟ حضرت علی نے فرمایا: اچھا! اتنی سزا تو ضروری ہے کہ میں جس شہر میں رہتا ہوں وہ اس میں نہیں رہ سکتا۔4 حضرت ابراہیم ؓکہتے ہیں: حضرت علیؓ کو پتا چلا کہ عبد اللہ بن اسود حضر ت ابوبکر اور حضرت عمرؓ کے درجہ کو کم بتاتا ہے، تو انھوں نے تلوار منگا لی اور اسے قتل کرنے کا ارادہ کر لیا۔ لوگوں نے حضرت علی سے اس کی سفارش کی تو فرمایا: جس شہر میں میں رہتا ہوں وہ اس میں نہیں رہ سکتا۔ چناںچہ اسے ملک بدر کر کے ملکِ شام بھیج دیا۔1 حضرت کثیر ؓ کہتے ہیں: ایک آدمی حضرت علیؓ کے پاس آیا اور اس نے کہا: آپ تمام انسانوں سے بہتر ہیں۔ حضرت علی نے پوچھا: کیا تونے حضورﷺ کو دیکھا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ پھر حضرت علی نے پوچھا: کیا تم نے حضرت ابو بکرؓ کو نہیں دیکھا؟ اس نے کہا: نہیں۔ حضرت علی نے فرمایا: اگر تم یہ کہتے کہ میں نے حضورﷺ کو دیکھا ہے تو پھر تو میں تمھیں قتل کر دیتا اور اگر تم کہتے کہ میں نے حضرت ابو بکر، حضرت عمر کو دیکھا ہے تو میں تم پر حدِ شرعی جاری کر دیتا (کیوںکہ تم نے جو کہا ہے یہ بہتان ہے، بہتان باندھنے کی سزا دیتا)۔2 حضرت علقمہ ؓ کہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت علیؓ نے ہم لوگوں میں بیان فرمایا: پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان فرمائی پھر فرمایا: مجھے یہ خبر ملی ہے کہ کچھ لوگ مجھے حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ سے افضل قرار دیتے ہیں۔ اگر میں اس کام سے صراحتاً پہلے منع کرچکا ہوتا تو آج میں اس پر ان کو ضرور سزا دیتا، کیوںکہ میں اسے پسند نہیں کرتا کہ میں نے جس کام سے ابھی روکا نہ ہو اس پر کسی کو سزا دوں۔ لہٰذا میرے آج کے اس اعلان کے بعد اگر کسی نے ایسی بات کہی تو وہ بہتان باندھنے والا شمار ہوگا اور اسے بہتان باندھنے والے کی سزا ملے گی۔ حضورﷺ کے بعد لوگوں میں سب سے بہترین حضرت ابوبکر ؓ ہیں، پھر حضرت عمرؓ ہیں۔ ان کے بعد تو ہم نے کئی نئے کام ایسے شروع کر دیے ہیں جن کے بارے میں اللہ ہی فیصلہ کرے گا (کہ وہ صحیح ہیں یا غلط)۔3 حضرت سُوَید بن غَفَلہ ؓ کہتے ہیں: میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جو حضرت ابو بکر اور حضرت عمر ؓ کا تذکرہ کر رہے تھے اور ان دونوں کے درجے کو گھٹا رہے تھے۔ میں نے حضرت علیؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ ساری بات بتائی۔ انھوں نے فرمایا: اللہ اس پر لعنت کرے جو اپنے دل میں ان دونوں حضرات کے بارے میں اچھے اور نیک جذبات کے علاوہ کچھ اور رکھے۔ یہ دونوں حضورﷺ کے بھائی اور ان کے وزیر تھے۔ اور پھر منبر پر تشریف لے جا کر زبردست بیان فرمایا اور اس میں یہ فرمایا: لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ قریش کے دو سرداروں اور مسلمانوں کے دو (معزّز ومحترم) باپوں کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہیں جن سے میں بے زار اور بری ہوں، بلکہ انھوں نے جو غلط باتیں کہی ہیں ان پر سزا دوں گا۔ اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور جان کو پیدا فرمایا! ان دونوںسے صرف وہی محبت کرے گا جو مؤمن اور متقی ہوگا، اور ان دونوں سے وہی بغض رکھے گا جو بدکار اور خراب ہوگا۔ یہ دونوں حضرات سچائی اور وفاداری کے ساتھ حضورﷺ کی صحبت میں رہے۔ دونوں حضورﷺ کے زمانے میں نیکی کا حکم فرمایا کرتے تھے اور برائیوں سے روکا کرتے تھے اور سزا دیا کرتے تھے۔ جو کچھ بھی کرتے تھے اس میں حضورﷺ کی رائے مبارک کے کچھ بھی خلاف نہیں کیا کرتے تھے۔ اور حضورﷺ بھی کسی کی رائے کو ان دونوں حضرات کی رائے جیسا وزنی نہ سمجھتے تھے۔ اور حضورﷺ کو ان دونوں سے جتنی محبت تھی اتنی کسی اور سے نہ تھی۔ حضورﷺ دنیا سے تشریف لے گئے اور وہ ان دونوں سے بالکل راضی تھے اور (اس زمانہ کے) تمام لوگ بھی ان سے راضی تھے۔ (پھر حضورﷺ کی آخر زندگی میں)حضرت ابوبکر کو نماز کی ذمہ داری دی گئی۔ پھر جب اللہ نے اپنے نبی کو دنیا سے اٹھا لیا تو مسلمانوں نے ان پر نماز کی ذمہ داری کو برقرار رکھا، بلکہ ان پر زکوٰۃ کی ذمہ داری بھی ڈال دی،کیوںکہ قرآن میں نماز اور زکوٰۃ کا ذکر ہمیشہ اکٹھا ہی آتا ہے۔ بنو عبد المطّلب میں سے میں سب سے پہلے ان کا نام (خلافت کے لیے) پیش کرنے والا تھا۔ انھیں تو خلیفہ بننا سب سے زیادہ ناگوار تھا، بلکہ وہ تو چاہتے تھے کہ ہم میں سے کوئی اور ان کی جگہ خلیفہ بن جائے۔ اللہ کی قسم! (حضورﷺ کے بعد) جتنے آدمی باقی رہ گئے تھے وہ ان میں سے سب سے بہترین تھے، سب سے زیادہ شفیق، سب سے زیادہ رحم دل اور بڑے عقل مند اور متقی انسان اور سب سے پہلے اسلام لانے والے تھے۔ حضورﷺ نے ان کو شفقت اور رحم دلی میں حضرت میکائیل ؑ کے ساتھ، اور معاف کرنے اور وقارسے چلنے میں حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ تشبیہ دی تھی۔ وہ (خلیفہ بن کر) بالکل حضورﷺ کی سیرت پر چلتے رہے یہاں تک کہ ان کا انتقال ہوگیا۔ اللہ ان پر رحم فرمائے! حضرت ابوبکر نے لوگوں سے مشورہ کر کے اپنے بعد حضرت عمرؓ کو امیر بنایا۔ کچھ لوگ ان کی خلافت پر راضی تھے اور کچھ راضی نہیں تھے۔ میں ان میں سے تھا جو ان کی خلافت پر راضی تھے، لیکن اللہ کی قسم! حضرت عمر نے ایسے عمدہ طریقے سے خلافت کا کام سنبھالا کہ ان کے دنیا سے جانے سے پہلے وہ سب لوگ بھی ان کی خلافت پر راضی ہو چکے تھے جو شروع میں راضی نہیں تھے۔ اور وہ امرِ خلافت کو بالکل حضورﷺ کے اور حضورﷺ کے ساتھی یعنی حضرت ابوبکر کے نہج پر لے کر چلے۔ اور وہ ان دونوں حضرات کے نشانِ قدم پر اس طرح چلے جس طرح اونٹ کا بچہ اپنی ماں کے نشانِ قدم پر چلتا ہے۔ اور وہ اللہ کی قسم! حضرت ابوبکر کے بعد رہ جانے والوں میں سے سب سے بہترین تھے، اور بڑے مہربان اور رحم دل تھے، ظالم کے خلاف مظلوم کی مدد کیا کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حق کو ان کی زبان پر اس طرح جاری کر دیا تھا کہ ہمیں نظر آتا تھا کہ فرشتہ ان کی زبان پر بول رہا ہے۔ ان کے اسلام کے ذریعہ اللہ نے اسلام کو عزّت عطا فرمائی اور ان کی ہجرت کو دین کے قائم ہونے کا ذیعہ بنایا۔ اور اللہ نے مؤمنوں کے دل میں ان کی محبت اور منافقوں کے دل میں ان کی ہیبت ڈالی ہو ئی تھی۔اور حضورﷺ نے ان کو دشمنوں کے بارے میں سخت دل اور سخت کلام ہونے میں حضرت جبرائیل ؑ کے ساتھ، اور کافروں پر دانت پیسنے اور سخت ناراض ہونے میں حضرت نوح ؑ کے ساتھ تشبیہ دی تھی۔ اب بتاؤ! تمھیں کون ان دونوںجیسا لا کر دے سکتا ہے؟ ان دونوں کے درجے کو وہی پہنچ سکتا ہے جو ان سے محبت کرے گا اور ان کا اتباع کرے گا۔ جو ان دونوں سے محبت کرے گا وہ مجھ سے محبت کرنے والا ہے، اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض رکھنے والا ہے اور میں اس سے بری ہوں۔ اگر ان دونوں حضرات کے بارے میں میں یہ باتیں پہلے کہہ چکا ہوتا تو میں ان کے خلاف بولنے والوں کو آج سخت سے سخت سزا دیتا۔ لہٰذا میرے آج کے اس بیان کے بعد جو اس جرم میں پکڑ کر میرے پاس لایا جائے گا اس کو وہ سزا ملے گی جو بہتان باندھنے والوں کی سزا ہوتی ہے۔ غور سے سن لو! اس اُمت کے نبی کے بعد اس اُمت میں سب سے بہترین حضرت ابوبکرؓ، پھر حضرت عمرؓ ہیں، پھر اللہ ہی جانتے ہیں کہ خیر اور بہتری کہاں ہے۔ میں اپنی یہ بات کہتا ہوں، اللہ تعالیٰ میری اور تم سب لوگوں کی مغفرت فرمائے۔1 حضرت ابو اسحاق ؓکہتے ہیں: ایک آدمی نے حضرت علی بن ابی طالبؓ سے کہا: (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ) حضرت عثمانؓ آگ میں ہے۔ حضرت علی نے کہا: تمھیں اس کا کہاں سے پتا چلا؟ اس آدمی نے کہا: کیوںکہ انھوں نے بہت سے نئے کام کیے ہیں۔ حضرت علی نے ان سے پوچھا: تمہارا کیا خیال ہے اگر تمہاری کوئی بیٹی ہو تو کیا تم اس کی شادی بغیر مشورے کے کر دوگے؟ اس نے کہا: نہیں۔ پھر حضرت علی نے فرمایا: حضورﷺ کی اپنی دو بیٹیوں (کی شادی) کے بارے میں جو رائے تھی کیا اس سے بہتر کوئی رائے ہوسکتی ہے؟ ذرا مجھے یہ بتاؤ کہ حضورﷺ جب کسی کام کا ارادہ فرماتے تھے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرتے تھے یا نہیں؟ اس نے کہا: کیوںنہیں، حضورﷺ استخارہ کرتے تھے۔ حضرت علی نے فرمایا: حضور ﷺ کے استخارہ کرنے پر اللہ تعالیٰ حضورﷺ کے لیے خیر اور بہتر صورت کا انتخاب کرتے تھے یا نہیں؟ اس نے کہا: کرتے تھے۔ حضرت علی نے فرمایا: اچھا! یہ بتاؤ کہ حضورﷺ نے حضرت عثمان سے اپنی دو بیٹیوں کی جو شادی کی تھی اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے خیر کا انتخاب کیا تھا یا نہیں؟ میں نے تمہاری گرد ن اُڑا دینے کے بارے میں غور کیا تھا، لیکن ابھی اللہ کو یہ منظور نہیں تھا۔ غور سے سنو! اگر تم اس کے علاوہ کچھ اور کہو گے تو میں تمہاری گردن اُڑا دوں گا۔2 حضرت سالم کے والد کہتے ہیں: مجھے حضورﷺ کے ایک صحابی ملے جن کی زبان میں کچھ کمزوری تھی جس کی وجہ سے ان کی بات صاف ظاہر نہیں ہوتی تھی۔ انھوں نے (شکایت کے انداز میں) حضرت عثمانؓ کا تذکرہ کیا۔ اس پر حضرت عبداللہؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ اے حضرت محمدﷺ کے صحابہ کی جماعت! یہ تو آپ سب جانتے ہیں کہ ہم لوگ حضورﷺ کے زمانے میں ابوبکر، عمر، عثمان کہا کرتے تھے (یعنی تینوں کا نام اکٹھا لیا کرتے تھے، کیوںکہ تمام صحابہ تینوں کی تعظیم کیا کرتے تھے)۔ اب تو مال ہی مقصود ہوگیا ہے کہ حضرت عثمان اگر اسے مال دے دیں پھر تو حضرت عثمان اسے پسند ہیں۔1 حضرت عامر بن سعد ؓ کہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت سعدؓ پیدل جارہے تھے کہ ان کا گزر ایک آدمی پر ہوا جو حضرت علی، حضرت طلحہ اور حضرت زبیرؓ کی شا ن میں نامناسب کلمات کہہ رہا تھا۔ حضرت سعد نے کہا: تم ایسے لوگوں کو برا کہہ رہے ہو جنھیں اللہ کی طرف سے بہت سے فضائل وانعامات مل چکے ہیں۔ اللہ کی قسم! یا تو تم انھیں برا کہنا چھوڑ دو، نہیں تو میں تمہارے لیے بد دعا کروں گا۔ اس نے جواب میں کہا: یہ تو مجھے ایسے ڈرا رہے ہیں جیسے کہ یہ نبی ہوں۔ حضرت سعد نے یہ بد دعا فرمائی کہ اے اللہ! اگر یہ ان لوگوں کو برا کہہ رہا ہے جنھیں تیری طرف سے بہت سے فضائل وانعامات مل چکے ہیں تو تُو اسے عبرتناک سزا دے۔ چناںچہ ایک بختی اُونٹنی تیزی سے آئی، لوگ اسے دیکھ کر اِدھر اُدھر ہٹ گئے، اس اونٹنی نے اس آدمی کو روند ڈالا (اور اسے مار ڈالا)۔ میں نے دیکھا کہ لوگ حضرت سعد کے پیچھے جا رہے تھے اور کہہ رہے تھے: اے ابو اسحاق! اللہ نے آپ کی دعا قبول کرلی۔2 حضرت مُصْعب بن سعد ؓ کہتے ہیں: ایک آدمی نے حضرت علیؓ کو برا کہا تو حضرت سعد بن مالک نے اس کے لیے بد دعا فرمائی۔ چناںچہ ایک اُونٹ یا اُونٹنی نے آکر اسے مار ڈالا۔ اس پر حضرت سعد نے ایک غلام آزاد کیا اور یہ قسم کھالی کہ آیندہ کسی کے لیے بد دعا نہیں کریں گے۔3 حضرت قیس بن ابی حازم ؓ کہتے ہیں: میں مدینہ کے ایک بازار میں چلا جا رہا تھا۔ جب میں احجار الزیت مقام پر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ بہت سے لوگ جمع ہیں اور ایک آدمی اپنی سواری پر بیٹھا ہوا حضرت علی بن ابی طالبؓ کو برا بھلا کہہ رہا ہے، لوگ اس کے چاروں طرف کھڑے ہیں۔ اتنے میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ آکر وہاں کھڑے ہوگئے اور پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ ایک آدمی حضرت علی بن ابی طالب کو برا بھلا کہہ رہا ہے۔ حضرت سعد آگے بڑھے لوگوں نے انھیں راستہ دیا۔ انھوں نے اس آدمی کے پاس کھڑے ہو کر کہا: او فلانے! تو کس وجہ سے حضرت علی بن ابی طالب کو برا بھلا کہہ رہا ہے؟ کیا وہ سب سے پہلے مسلمان نہیں ہوئے؟ کیا انھوں نے سب سے پہلے حضورﷺ کے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟ کیا وہ لوگوں میں سب سے بڑے زاہد اور سب سے بڑے عالم نہیں تھے؟ ان کے اور بہت سے فضائل ذکر کیے اور یہ بھی کہا: کیا وہ حضورﷺ کے داماد نہیں تھے؟ کیا غزوات میں حضور ﷺ کا جھنڈا ان کے پاس نہیں ہوتا تھا؟ پھر قبلہ کی طرف منہ کرکے اپنے ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا مانگی: اے اللہ! اگر یہ آدمی تیرے ایک دوست کو برا کہہ رہا ہے تو ان لوگوں کے بکھرنے سے پہلے تو ان کو اپنی قدرت دکھا۔ چناںچہ ہمارے بکھرنے سے پہلے ہی اللہ کی قدرت ظاہر ہوئی، اس کی سواری کے پاؤں زمین میں دھنسنے لگے جس سے وہ سر کے بل ان پتھروں پر زور سے گرا جس سے اس کا سر پھٹ گیا اور اس کا بھیجا باہر نکل آیا اور وہ وہیں مر گیا۔1 حضرت رَباح بن حارث ؓ کہتے ہیں: حضرت مغیرہؓ بڑی جامع مسجد میں تشریف فرما تھے اور کوفہ والے ان کے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت سعید بن زیدؓ نامی ایک صحابی تشریف لائے۔ حضرت مغیرہ نے انھیں سلام کیا اور تخت پر اپنے پیروں کے قریب انھیں بٹھایا۔ اتنے میں کوفہ کا ایک آدمی آیا اور برا بھلا کہنے لگ گیا۔ حضرت سعید نے پوچھا: اے مغیرہ! یہ کسے برا بھلا کہہ رہا ہے؟ انھوں نے کہا: حضرت علی بن ابی طالب ؓ کو۔ حضرت سعید نے کہا: اے مغیرہ بن شعبہ! اے مغیرہ بن شعبہ! اے مغیرہ بن شعبہ! کیا میں سن نہیں رہا کہ حضورﷺ کے صحابہ کو آپ کے سامنے برا بھلا کہا جا رہا ہے اور آپ نہ اس پر انکار کر رہے ہیں اور نہ اسے بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ بات میرے کانوں نے حضورﷺ سے سنی ہے اور میرے دل نے اسے محفوظ کیا ہے، اور میں حضور ﷺ سے غلط بات نقل نہیں کر سکتا، کیوںکہ میں غلط بات نقل کروںگا تو کل قیامت کے دن جب آپ ﷺ سے میری ملاقات ہوگی تو حضورﷺ مجھ سے اس غلط بات کے بارے میں پوچھیں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہے: ابوبکر جنت میں جائیںگے، عمر جنت میں جائیں گے، عثمان جنت میں جائیں گے، علی جنت میں جائیں گے، طلحہ جنت میں جائیں گے، زبیر جنت میں جائیں گے، عبد الرحمن بن عوف جنت میں جائیں گے، سعد بن مالک جنت میںجائیں گے اور نویں نمبر پراسلام لانے والاجنت میں جائے گا۔ اگر میں اس کا نام لینا چاہتا تو لے سکتا تھا۔ اس پر مسجد والوں نے شور مچا دیا اور قسم دے کر پوچھنے لگے: اے رسول اللہ کے صحابی! وہ نواں آدمی کون ہے؟ انھوں نے فرمایا: تم مجھے اللہ کی قسم دے کر پوچھ رہے ہو اور اللہ بہت بڑے ہیں۔ نواں مسلمان میں ہوں اور حضور ﷺ دسویں ہیں۔ پھر انھوں نے ایک اور قسم کھا کر کہا: ایک آدمی کسی موقع پر حضور ﷺ کے ساتھ رہا ہو جس میں اس کا چہرہ غبار آلود ہوا ہو اور تمھیں نوح ؑ کی عمر مل جائے، تو بھی یہ عمل تمہاری زندگی کے تمام اعمال سے زیادہ افضل ہوگا۔1 حضرت عبد اللہ بن ظالم مازنی ؓ کہتے ہیں: جب حضرت معاویہ ؓ کوفہ سے جانے لگے تو حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کو کوفہ کا گورنربنا دیا۔ حضرت مغیرہ نے خطیب لوگوں کو حضرت علی کو برا بھلا کہنے میں لگا دیا۔ میں حضرت سعید بن زیدؓ کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا۔ یہ دیکھ کر حضرت سعید کو غصہ آگیا اور انھوں نے کھڑے ہو کر میرا ہاتھ پکڑا، میں ان کے پیچھے چل دیا۔ انھوں نے فرمایا: کیا تم اس آدمی کو دیکھتے نہیں جو اپنی جان پر ظلم کر رہا ہے اور ایک جنتی آدمی کو برا کہنے کا حکم دے رہا ہے؟ میں نو آدمیوں کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ جنت میں جائیں گے (ان میں سے ایک حضرت علی ہیں )، اگر میں دسویں کے بارے میں بھی گواہی دے دوں تو گناہ گار نہیں ہوں گا۔2