صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا

مریض کی بیمار پرسی کرنا اور اسے کیا کہنا چاہیے

حضرت زید بن ارقمؓ فرماتے ہیں کہ میری آنکھوں میں درد تھا جس کی وجہ سے حضور ﷺ نے میری بیمار پرسی فرمائی۔2 حضرت سعد بن ابی وقاصؓ فرماتے ہیں کہ حجۃ الوداع والے سال میں میں بہت زیادہ بیمار ہوگیا تھا۔ جب حضورﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے تو میں نے کہا: میری بیماری زیادہ ہوگئی ہے اور میں مال دار آدمی ہوں اور میرا اور کوئی وارث نہیں ہے، صرف ایک بیٹی ہے۔ تو کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کر دوں؟ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: آدھا مال صدقہ کر دوں؟ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں، ہاں تہائی مال صدقہ کر دو اور تہائی بھی بہت ہے۔ تم اپنے ورثا کو مال دار چھوڑ کر جاؤ یہ اس سے بہتر ہے کہ تم ان کو فقیر چھوڑ کر جاؤ اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ اور تم جو بھی خرچہ اللہ کی رضا کے لیے کرو گے اس پر تمھیں اللہ کی طرف سے اَجر ضرور ملے گا، حتیٰ کہ تم جو لقمہ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے اس پر بھی اَجر ملے گا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے تو ایسا لگ رہا ہے کہ اور مہاجرین توآپ کے ساتھ مکہ سے واپس چلے جائیں گے میں یہاں ہی مکہ میں رہ جاؤں گا اور میرا انتقال یہاں مکہ میں ہو جائے گا۔ اور چوںکہ میں مکہ سے ہجرت کر کے گیا تھا تو میں اب یہ نہیں چاہتا کہ میرا یہاں انتقال ہو۔ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں، تمہاری زندگی لمبی ہوگی (اور تمہارا اس مرض میں یہاں انتقال نہیں ہوگا) اور تم جو بھی نیک عمل کرو گے اس سے تمہارا درجہ بھی بلند ہوگا اور تمہاری عزّت میں اضافہ ہوگا اور تمہارے ذریعہ سے اسلام کا اور مسلمانوں کا بہت فائدہ ہوگا اور دوسروں کا بہت نقصان ہوگا۔ (چناںچہ عراق کے فتح ہونے کا یہ ذریعہ بنے) اے اللہ! میرے صحابہ کی ہجرت کو آخر تک پہنچا (درمیان میں مکہ میں فوت ہونے سے ٹوٹنے نہ پائے) اور (مکہ میں موت دے کر) انھیں ایڑیوں کے بل واپس نہ کر۔ ہاں قابلِ رحم سعد بن خولہ ہے (کہ وہ مکہ سے ہجرت کر کے گئے تھے اور اب یہاں فوت ہو گئے ہیں)۔ ان کے مکہ میں فوت ہونے کی وجہ سے حضورﷺ کو ان پر ترس آرہا تھا۔1 حضرت جابر بن عبد اللہؓ فرماتے ہیں کہ میں ایک دفعہ بیمار ہو گیا تو حضور ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ پیدل چل کر میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ میں اس وقت بے ہوش تھا۔ حضورﷺ نے وضو فرمایا اور اپنے وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا جس سے مجھے افاقہ ہوگیا۔ میں ہوش میں آیا تو دیکھا کہ حضورﷺ تشریف فرما ہیں۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اپنے مال میں کیا کروں؟ میں اپنے مال کے بارے میں کیافیصلہ کروں؟ تو آپ نے اس کا کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ میراث کی آیت نازل ہوگئی۔2 حضرت اُسامہ بن زیدؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ ایک گدھے پر سوار ہوئے، اس گدھے کے پالان پر فدک کی بنی ہوئی چادر پڑی ہوئی تھی۔ اور مجھے اپنے پیچھے بٹھا کر حضرت سعد بن عبادہؓ کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ یہ واقعہ جنگِ بدر سے پہلے کا ہے۔ چلتے چلتے حضورﷺ کا گزر ایک مجلس پر ہوا جس میں عبد اللہ بن اُبیّ ابنِ سلول بھی تھا۔ ابھی تک عبد اللہ نے اسلام کا اظہار نہیں کیا تھا۔ اس مجلس میں مسلمان، مشرک، بت پرست اور یہودی سب ملے جلے بیٹھے تھے۔ اور اس مجلس میں حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ بھی تھے۔ جب آپ کی سواری کا گرد وغبار اس مجلس پر پڑا تو عبد اللہ بن اُبیّ نے اپنی ناک پرچادر رکھ لی اور کہا: ہم پر گرد وغبار نہ ڈالو۔ حضورﷺ سلام کر کے وہاں کھڑے ہوگئے اور سواری سے نیچے اُتر کر انھیں اللہ کی دعوت دینے لگ گئے اور انھیں قرآن بھی پڑھ کر سنایا۔ عبد اللہ بن اُبیّ نے کہا: اے آدمی! جو آپ کہہ رہے ہیں اگر یہ حق ہے تو اس سے کوئی بات زیادہ اچھی نہیں ہوسکتی، لیکن آپ ہماری مجلسوں میں آکر اپنی بات سنا کر ہمیں تکلیف نہ پہنچایا کریں۔ آپ اپنے ٹھکانے پر واپس جائیں اور ہم میں سے جو آپ کے پاس آئے اسے آپ اپنی بات سنا دیا کریں۔ حضرت ابنِ رواحہؓ نے کہا: نہیں۔ یا رسول اللہ! آپ ہماری مجلسوں میں تشریف لایا کریں اور ہمیں اپنی بات سنایا کریں، ہمیں یہ بہت پسند ہے۔ اس پر مسلمانوں، مشرکوں اور یہودیوں نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا، اور بات اتنی بڑھی کہ ایک دوسرے پر حملہ آور ہونے ہی والے تھے۔ حضورﷺ ان سب کو ٹھنڈا کرتے رہے یہاں تک کہ سب خاموش ہوگئے۔ پھر حضورﷺ اپنی سواری پر سوار ہو کر چل پڑے یہاں تک کہ حضرت سعد بن عبادہ کے پاس پہنچ گئے۔ حضورﷺ نے ان سے فرمایا: اے سعد! ابو حُبَاب یعنی عبد اللہ بن اُبیّ نے جو کہا کیا تم نے وہ نہیں سنا؟ حضرت سعد نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اسے معاف کر دیں اور اس سے درگزر فرما دیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سب کچھ عطا فرما دیا، حالاںکہ آ پ کے تشریف لانے سے پہلے (مدینہ کی) اس بستی والوں نے تو اس بات پر اتفاق کر لیا تھا کہ اسے تاج پہنا کر اپنا سردار بنالیں، لیکن اتنے میں آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق لے کر آگئے جس کی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا۔ بس اس وجہ سے اسے آپ سے حسد ہے اور آپ کی سیادت اس کے گلے تلے نہیں اُتر رہی ہے۔ آج جو کچھ آپ نے اسے کرتے دیکھا ہے وہ سب اسی غصہ اور حسد کی وجہ سے ہے۔1 حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ ایک بیمار دیہاتی کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ اور آپ کی عادت یہ تھی کہ جب کسی بیمار کے پاس عیادت کے لیے تشریف لے جاتے تو فرماتے: لَا بَأْسَ طَہُوْرٌ إِنْ شَائَ اللّٰہُ۔ کوئی ڈر کی بات نہیں، اِن شاء اللہ یہ بیماری (گناہوں سے) پاکی کا ذریعہ ہے۔ چناںچہ اسے بھی یہ کلما ت کہے تو اس نے جواب میں کہا: آپ اسے پاکی کا ذریعہ کہہ رہے ہیں۔ بات ایسی نہیں ہے، بلکہ یہ تو بہت تیز بخار ہے جو ایک بوڑھے پر جوش مار رہا ہے اور یہ بخار تو اسے قبرستان دکھا کر چھوڑے گا۔ حضورﷺ نے فرمایا: اچھا! تو پھر ایسے ہی سہی۔ (چناںچہ وہ اسی بیماری میں مر گیا)1 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب حضورﷺ مدینہ آئے تو حضرت ابو بکر اور حضرت بلالؓکو بہت تیز بخار ہوگیا۔ چناںچہ میں ان دونوں حضرات کے پاس گئی اور میں نے کہا: اے ابا جان! آپ کیسے ہیں؟ اے بلال! آپ کیسے ہیں؟ حضرت ابو بکرؓ کا جب بخار تیز ہوتا تو وہ یہ شعر پڑھا کرتے: کُلُّ امْرِیٍٔ مُصَبَّحٌ فِيْ أَھْلِـہٖ وَالْمَوْتُ أَدْنٰی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہٖ ہر آدمی اپنے گھر والوں میں رہتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے: اللہ تمہاری صبح خیر وعافیت والی بنائے، حالاںکہ موت تو اس کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے۔ اور جب حضرت بلالؓ کا بخار اُتر جاتا تو وہ (مکہ کو یاد کر کے) یہ شعر پڑھتے: أَلَا لَیْتَ شِعْرِیْ ھَلْ أَبِیْتَنَّ لَیْلَۃً بِـوَادٍ وَّحَوْلِيْ إِذْخِرٌ وَّجَلِیْلٗ غور سے سنو! کاش مجھے معلوم ہوجاتا کہ کیا میں کوئی رات (مکہ) کی وادی میں گزاروں گا۔ اِذخر اور میرے اِردگرد (مکہ کا) گھاس اور جلیل گھاس ہوگا۔ وَھَلْ أَرِدَنْ یَوْمًا مِیَاہَ مَجِنَّۃٍ وَھَلْ یَبْدُوْنَ لِيْ شَامَۃٌ وَّطَفِیْلٗ اور کیا میں کسی دن مجنّہ کے چشموں پر اُتروں گا؟ اور کیا شامہ اور طَفِیل نامی (مکہ کے) پہاڑ مجھے نظر آئیں گے؟ میں نے حضورﷺ کی خدمت میں جا کر یہ ساری بات بتائی تو حضورﷺ نے دعا مانگی: اے اللہ! ہمیں مکہ سے جتنی محبت ہے، اتنی یا اس سے زیادہ مدینہ کی محبت ہمارے دلوں میں پیدا کر دے۔ اے اللہ !مدینہ کو صحت افزا مقام بنا دے، اور ہمارے لیے اس کے مُد اور صاع (دو پیمانوں) میں برکت ڈال دے، اور اس کا بخار حُجفہ مقام پر منتقل کر دے۔2 حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے فرمایا: تم میں سے آج روزہ کس نے رکھا ہے؟ حضرت ابو بکر ؓ نے کہا: میں نے۔ پھر آپ نے پوچھا: تم میں سے آج کس نے کسی بیمار کی عیادت کی ہے؟ حضرت ابو بکر نے کہا: میں نے۔ پھر حضورﷺ نے کہا: تم میں سے آج کون کسی جنازہ میں شریک ہو ا ہے؟ حضرت ابو بکر نے کہا: میں۔ پھر آپ نے پوچھا: آج کس نے کسی مسکین کو کھا نا کھلایا ہے؟ حضرت ابو بکر نے کہا: میں نے۔ حضورﷺ نے فرمایا: جو آدمی ایک دن میں یہ سارے کام کرے گا وہ جنت میں ضرور جائے گا۔1 حضرت عبد اللہ بن نافع ؓکہتے ہیں: حضرت ابو موسیٰؓ حضرت حسن بن علیؓ کی عیادت کرنے آئے تو حضرت علیؓ نے فرمایا: جو بھی مسلمان کسی بیمار کی عیادت کرتا ہے تو اگر وہ صبح کو کرتا ہے تو اس کے ساتھ ستّر ہزار فرشتے جاتے ہیں جو شام تک اس کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں اور اسے اس (عیادت کے بدلہ میں) جنت میں ایک باغ ملے گا، اور اگر وہ شام کو عیادت کرتا ہے تو اس کے ساتھ ستّر ہزار فرشتے جاتے ہیں جو اس کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں اور اسے جنت میں ایک باغ ملے گا۔2 حضرت عبد اللہ بن نافع ؓکہتے ہیں: حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ حضرت حسن بن علی بن ابی طالبؓ کی عیادت کرنے آئے تو ان سے حضرت علی ؓ نے پوچھا کہ کیا آپ عیادت کی نیت سے آئے ہیں یا صرف ملنے کے لیے آئے ہیں؟ حضرت ابو موسیٰ نے کہا: نہیں، میں تو عیادت کی نیت سے آیا ہوں۔ اس پر حضرت علیؓ نے پچھلی حدیث جیسا مضمون بیان کیا۔3 حضرت ابو فاختہ ؓ کہتے ہیں: حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ حضرت حسن بن علی ؓ کی عیادت کرنے آئے تو حضرت علی اندر تشریف لائے اور پوچھا: اے ابو موسیٰ! آپ عیادت کرنے آئے ہیں یا ملنے؟ انھوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! نہیں، میں تو عیادت کرنے آیا ہوں۔ حضرت علی نے فرمایا: میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان کی عیادت کرتا ہے تو صبح سے شام تک ستّر ہزار فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں ایک خریف یعنی باغ عطا فرماتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے پوچھا: اے امیر المؤمنین! خریف کسے کہتے ہیں؟ حضرت علی نے فرمایا: خریف پانی کی وہ نالی ہے جس سے کھجوروں کے باغ کو پانی دیا جاتا ہے۔1 حضرت عبد اللہ بن یسار ؓکہتے ہیں: حضرت عمرو بن حُریثؓ حضرت حسن بن علی ؓ کی عیادت کرنے آئے تو حضرت علیؓ نے ان سے فرمایا: تم حسن کی عیادت کرنے آئے ہو حالاںکہ تمہارے دل میں (میرے بارے میں) بہت کچھ ہے۔ حضرت عمر و نے ان سے کہا: آپ میرے ربّ تو ہیں نہیں کہ جدھر چاہیں اُدھر میرے دل کو پھیر دیں (بس اللہ ہی نے میرے دل میں ایسی رائے ڈالی ہے جو آپ کی رائے کے خلاف ہے)۔ حضرت علی نے فرمایا: اس سب (اختلافِ رائے) کے باوجود ہم آپ کو آپ کے فائدے کی بات ضرور بتائیں گے۔ میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مسلمان اپنے بھائی کی عیادت کرتا ہے اس کے لیے اللہ تعالیٰ ستّر ہزار فرشتے بھیج دیتے ہیں۔ دن میں جس وقت بھی عیادت کرے گا اس وقت سے شام تک وہ اس کے لیے دعا کرتے رہیں گے، اور رات کو جس وقت بھی عیادت کرے گا اس وقت سے صبح تک وہ اس کے لیے دعا کرتے رہیں گے۔2 حضرت سعید ؓکہتے ہیں: میں حضرت سلمانؓ کے ساتھ تھا۔ وہ (کوفہ کے محلہ) کِنْدہ میں کسی بیمار کی عیادت کرنے گئے۔ اس کے پاس جاکر انھوں نے کہا: تمھیں خوش خبری ہو! اللہ تعالیٰ مؤمن کی بیماری کو اس کے گناہوں کے مٹنے کا اور اس سے اللہ کے راضی ہونے کا ذریعہ بناتے ہیں، اور فاجر وبدکار کی بیماری تو ایسی ہے کہ جیسے اُونٹ کو اس کے گھر والوں نے باندھ دیا پھر اسے کھول دیا، اونٹ کو کچھ پتا نہیں اسے کیوں باندھا تھا اور اسے کیوں چھوڑا ہے۔3 حضرت سعید بن وہب ؓکہتے ہیں: میں حضرت سلمانؓ کے ساتھ ان کے ایک دوست کی عیادت کرنے گیا جو کہ قبیلہ کِنْدہ کا تھا۔ ان سے حضرت سلمان نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندے کو کسی بیماری یا آزمایش میں مبتلا فرماتے ہیں اور پھر اسے عافیت عطا فرماتے ہیں اس سے اس کے زمانۂ ماضی کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور آیندہ زمانہ میں وہ اللہ کی رضا کا طالب ہو جاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے فاجر بندے کو بھی کسی بیماری یا آزمایش میں مبتلا کرتے ہیں پھر اسے عافیت عطا فرماتے ہیں، لیکن وہ اُونٹ کی طرح ہوتا ہے جسے اس کے گھر والوں نے پہلے باندھا تھا پھر اسے کھول دیا، اس اُونٹ کو کچھ خبر نہیں کہ گھر والوں نے اسے کیوں باندھا تھا پھر اسے کیوں چھوڑا تھا۔1 حضرت نافع ؓکہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عمرؓ جب کسی بیمار کی عیادت کرنے جاتے تو اس سے پوچھتے کہ کیا حال ہے؟ اور جب اس کے پاس سے کھڑے ہونے لگتے تو فرماتے: خَارَ اللّٰہُ لَکَ اللہ تمھیں خیر عطا فرمائے۔ اور مزید کچھ نہ فرماتے۔2 حضرت عبد اللہ بن ابی ہذیل ؓکہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ایک بیمار کی عیادت کرنے گئے، ان کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے۔ گھر میں ایک عورت تھی جسے ان کا ایک ساتھی دیکھنے لگا تو اس سے حضرت عبد اللہ نے کہا: اگر تیری آنکھ پھوٹ جاتی تو یہ تیرے لیے (نامحرم کو دیکھنے سے) زیادہ بہتر تھا۔3 حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ جب کسی بیمار کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے تو اس کے سرہانے بیٹھ جاتے پھر سات مرتبہ یہ دعا پڑھتے: أَسْأَلُ اللّٰہَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ أَنْ یَّشْفِیَکَ۔اگر اس کی موت میں کچھ دیر ہوتی تو وہ آدمی ضرور ٹھیک ہو جاتا۔4 حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ جب کسی بیمار کے پاس جاتے تو یہ دعا پڑھتے: أَذْھِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِيْ، لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ۔5 ابنِ جریر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: لَا شِفَائَ إِلَّا شِفَاؤُکَ شِفَائً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا۔6 حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ جب کسی بیمار کی عیادت فرماتے تو اپنا دایاں ہاتھ اس کے دائیں رخسار پر رکھ کر یہ دعا پڑھتے:لَا بَأْسَ، أَذْھِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، اِشْفِ أَنْتَ الشَّافِيْ، لَا یَکْشِفُ الضُّرَّ إلَّا أَنْتَ۔1 حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ جب کسی بیمار کے پاس جاتے تو یہ دعا پڑھتے: أَذْھِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِيْ، لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ شِفَائً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا۔2 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ جب کسی بیمار کی عیادت فرماتے تو اپنا ہاتھ جسم کے اس حصہ پر رکھتے جہاں تکلیف ہوتی اور یہ دعا پڑھتے: بِسْمِ اللّٰہِ لاَ بَأْسَ۔3 حضرت سلمان ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ میری عیادت کرنے تشریف لائے۔ جب آپ باہر جانے لگے تو فرمایا: اے سلمان! اللہ تمہاری بیمار کو دور کر دے اور تمہارے گناہوں کو معاف فرمائے اور تمھیں دین میں اور جسم میں مرتے دم تک عافیت نصیب فرمائے۔4 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ جب کسی مریض کے پاس تشریف لے جاتے یا کوئی مریض آپ کے پاس لایا جاتا تو حضورﷺ یہ دعا پڑھتے: أَذْھِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، اِشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِيْ، لَا شِفَائَ إِلَّا شِفَاؤُکَ شِفَائً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا۔5 حضرت عائشہؓ کی دوسری روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ ان کلمات کے ساتھ حفاظت کی دعا کرتے اور پچھلی حدیث والے کلمات ذکر کیے۔ اور آگے حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ مرض الوفات میں جب حضورﷺ کی بیماری زیادہ ہوگئی تو میں حضورﷺ کا ہاتھ لے کر حضورﷺ کے جسم پر پھیرنے لگی اور یہی کلمات پڑھنے لگی۔ حضورﷺ نے اپنا ہاتھ مجھ سے کھینچ لیا اور فرمایا: اے میرے رب! مجھے معاف فرما اور مجھے رفیقِ (اعلیٰ اپنے آپ) سے ملا دے ۔ یہ حضورﷺ کا آخری کلام تھا جو میں نے حضورﷺ سے سنا۔1